Sunan Abu Dawood 3166ضعیف
جنازے کی نماز میں کتنی صفیں ہونی چاہیئں؟
حدیث نمبر: 3166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدٍ الْيَزَنِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَوْجَبَ، قَالَ: فَكَانَ مَالِكٌ إِذَا اسْتَقَلَّ أَهْلَ الْجَنَازَةِ، جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ لِلْحَدِيثِ.
مالک بن ہبیرہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بھی مسلمان مرجائے اور اس کے جنازے میں مسلمان نمازیوں کی تین صفیں ہوں تو اللہ اس کے لیے جنت کو واجب کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں : نماز (جنازہ) میں جب لوگ تھوڑے ہوتے تو مالک اس حدیث کے پیش نظر ان کی تین صفیں بنا دیتے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ٤٠ (١٠٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٩ (١٤٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٧٩) (ضعیف) (اس کا مرفوع حصہ ابن اسحاق کی وجہ سے ضعیف ہے وہ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں البتہ موقوف حصہ (مالک بن ہبیرہ کا فعل ہے) متابعات و شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے )
Narrated Malik ibn Hubayrah (RA) : The Prophet ﷺ said: If any Muslim dies and three rows of Muslims pray over him, it will assure him (of Paradise). When Malik considered those who accompanied a bier to be a few, he divided them into three rows in accordance with this tradition.