Sunan Abu Dawood 4506صحیح
قتل عمد میں وارث مقتول دیت لے سکتا ہے
حدیث نمبر: 4506
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائے گا، اور جو کسی مومن کو دانستہ طور پر قتل کرے گا، وہ مقتول کے وارثین کے حوالے کردیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کریں اور چاہیں تو دیت لے لیں ۔
تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ القسامة ٢٧ (٤٨٠٥) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣٠) ، ویأتی برقم (٤٥٤١) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٠٩) (حسن صحیح )
Narrated Amr bin Shuaib: On his fathers authority said that his grandfather reported the Prophet ﷺ said: A believer will not be killed for an infidel. If anyone kills a man deliberately, he is to be handed over to the relatives of the one who has been killed. If they wish, they may kill, but if they wish, they may accept blood-wit