Sunan An Nasai 4354صحیح
چڑیوں کے گوشت کھانے کے اجازت سے متعلق حدیث
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ إِنْسَانٍ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا ؟، قَالَ: يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا، وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا يَرْمِي بِهَا.
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بھی انسان کسی گوریا، یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے متعلق سوال کرے گا ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اس کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ اسے ذبح کرے اور کھائے اور اس کا سر کاٹ کر نہ پھینکے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٨٢٩) ، مسند احمد (٢/١٦٦، ١٩٧، ٢١٠) ، سنن الدارمی/الأضاحي ١٦ (٢٠٢١) ، ویأتي عند المؤلف في الضحایا ٤٢ (برقم : ٤٤٥٠) (حسن) (تراجع الالبانی ٤٥٧، صحیح الترغیب والت رہیب ٢٢٦٦ )
وضاحت : ١ ؎: یہ حدیث گرچہ ضعیف ہے، لیکن دیگر دلائل سے گوریا حلال پرندوں میں سے ہے (دیکھئیے پچھلی حدیث) ۔
قال الشيخ الألباني : ضعيف
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4349
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no person who kills a small bird or anything larger for no just reason, but Allah, the Mighty and Sublime, will ask him about it." It was said: "O Messenger of Allah ﷺ, what does just reason; mean? Her said: "That you slaughter it and eat it, and do not cut off its head and throw it aside.