جبر کرنے کا بیان

  1. 6940اللہ تعالیٰ کا قول کہ مگر وہ جس پر جبر کیا گیا۔ اور اس کا قلب ایمان سے مطمئن ہے، لیکن وہ جس نے سینہ کفر کے لئے کھول دیا تو ان پر اللہ کی طرف سے غضب نازل ہوگا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے، اور فرمایا، تقاۃ کے معنی تقیہ ہیں (یعنی کافروں کے خوف سے ایمان کا چھپانا) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان الذین توفاھم الملاءکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض) الی قولہ واجعل لنا من لدنک نصیرا۔ پس اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ان کو جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کے ترک سے رک نہیں سکتے اور جس شخص پر جبر کیا گیا وہ بھی کمزور ہی ہے کہ جو کچھ اسے حم دیا گیا اس کے کرنے سے رک نہیں سکتا اور حسن کا بیان ہے کہ تقیہ قیامت تک جاری ہے اور حضرت ابن عباس نے کہا کہ جس شخص پر چوروں نے زبردستی کی وہ اس کو طلاق دے دے، تو یہ کچھ بھی نہیں ہے اور حضرت ابن عمر وابن زبیر وشعبی اور حسن نے بھی یہی کہا ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔
  2. 6941اس شخص کا یبان جو کفر پر مار کھانے اور قتل کئے جانے اور ذلت کو ترجیح دے۔
  3. 6942اس شخص کا یبان جو کفر پر مار کھانے اور قتل کئے جانے اور ذلت کو ترجیح دے۔
  4. 6943اس شخص کا یبان جو کفر پر مار کھانے اور قتل کئے جانے اور ذلت کو ترجیح دے۔
  5. 6944مجبور وغیرہ کا اپنے حقوق فروخت کرنے کا بیان
  6. 6945مجبور کا نکاح جائز نہیں اور تم اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں اس لئے زنا پر مجبور نہ کرو کہ دنیاوی زندگی کا سامان تیار کرو اور جو شخص انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے
  7. 6946مجبور کا نکاح جائز نہیں اور تم اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں اس لئے زنا پر مجبور نہ کرو کہ دنیاوی زندگی کا سامان تیار کرو اور جو شخص انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے
  8. 6947جب کسی شخص کو مجبور کیا جائے کہ وہ کسی کو غلام دیدے یا فروخت کردے تو جائز نہیں۔ اور بعض نے کہا اگر خریدار اس میں نظر مانے تو ان کے خیال میں جائز ہے اسی طرح اگر مدبر کو کیا (توجائز ہے)
  9. 6948اکراہ سے کرہ اور کرہ کے ایک معنی میں آتا ہے
  10. 6949Hadith 6949
  11. 6950اگر کوئی عورت زنا پر مجبور کی گئی تو اس پر حد نہیں ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ جس نے ان کو مجبور کیا تو اللہ تعالیٰ ان کے جبر کیے جانے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے اور لیث نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ امارت کے غلاموں میں سے ایک غلام نے خمس کی ایک لونڈی سے محبت کرلی اس پر زبردستی کی یہاں تک کہ اس کی بکارت زائل ہوگئی تو حضرت عمر نے اس کو حد لگائی اور اس کو شہر بدر کردیا اور اس لونڈی کو درے نہیں لگائے اس سبب کہ اس پر زبردستی کی گئی تھی اور زہری نے بیان کیا کہ اگر کنواری لونڈی سے آزاد مرد جماع کرے تو حاکم اس کنواری لونڈی کی قیمت کے اعتبار سے قیمت وصول کرے گا اس کو درے لگائے گا اور ثیبہ لونڈی کی صورت میں اماموں کے حکم میں تاوان نہیں ہے بلکہ اس پر حد ہے۔
  12. 6951کسی شخص کا اپنے ساتھی کے متعلق جب کہ اس کے قتل کئے جانے یا اس طرح کی کسی اور چیز کا خطرہ ہو۔ قسم کھانے کا بیان کہ وہ میرا بھائی ہے اور اسی طرح ہر وہ شخص جس پر زبردستی کی جائے اور خائف ہو اس لئے کہ وہ مظالم کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کی طرف سے جنگ کرتا ہے اور اس کو (بے سہارا) نہیں چھوڑتا، اگر مظلوم کی حمایت میں لڑے تو اس پر قصاص یا خون بہا نہیں ہے اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینا ہوگی یا مردار کھانا پڑے گا، تجھے اپنا غلام بیچنا پڑے گا، یا تجھے دین کا اقرار کرنا ہوگا، یا تجھے ہبہ کرنا ہوگا یا کوئی اور عقد قائم کرنے کے لئے کہا جائے، ورنہ تیرے باپ کو یا اسلامی بھائی کو ہم قتل کردیں گے تو اس کو اس کی اجازت ہے اس لئے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ مسلم مسلم کا بھائی ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینی ہوگی، یا مردار کھانا پڑے گا ورنہ تیرے باپ یا بیٹے یا کسی قریبی رشتہ دار کو ہم قتل کردیں گے، اس کے لئے جائز نہیں اس لئے کہ وہ مجبور نہیں ہے، پھر اس قول کے خلاف ان کا یہ قول ہے کہ اس سے کہا جائے کہ ہم تیرے باپ یا بیٹے کو قتل کردیں گے ورنہ اس غلام کو بیچ دے یا دین کا اقرار کرلے یا ہبہ کردے، تو قیاس کے مطابق یہ اس کو لازم ہیں لیکن ہم بہتر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیع و ہبہ اور تمام عقود اس صورت میں باطل ہیں۔ انہوں نے قریبی رشتہ دار اور ان کے علاوہ لوگوں کے درمیان بغیر کتاب و سنت کے تفریق کی ہے، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی کے متعلق کہا تھا کہ یہ میری بہن ہے اور یہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کے لحاظ سے فرمایا تھا اور نخعی نے کہا کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت اور اگر مظلوم ہو تو قسم دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
  13. 6952کسی شخص کا اپنے ساتھی کے متعلق جب کہ اس کے قتل کئے جانے یا اس طرح کی کسی اور چیز کا خطرہ ہو۔ قسم کھانے کا بیان کہ وہ میرا بھائی ہے اور اسی طرح ہر وہ شخص جس پر زبردستی کی جائے اور خائف ہو اس لئے کہ وہ مظالم کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کی طرف سے جنگ کرتا ہے اور اس کو (بے سہارا) نہیں چھوڑتا، اگر مظلوم کی حمایت میں لڑے تو اس پر قصاص یا خون بہا نہیں ہے اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینا ہوگی یا مردار کھانا پڑے گا، تجھے اپنا غلام بیچنا پڑے گا، یا تجھے دین کا اقرار کرنا ہوگا، یا تجھے ہبہ کرنا ہوگا یا کوئی اور عقد قائم کرنے کے لئے کہا جائے، ورنہ تیرے باپ کو یا اسلامی بھائی کو ہم قتل کردیں گے تو اس کو اس کی اجازت ہے اس لئے کہ آنحضرت نے فرمایا ہے کہ مسلم مسلم کا بھائی ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر اس سے کہا جائے کہ تجھے شراب پینی ہوگی، یا مردار کھانا پڑے گا ورنہ تیرے باپ یا بیٹے یا کسی قریبی رشتہ دار کو ہم قتل کردیں گے، اس کے لئے جائز نہیں اس لئے کہ وہ مجبور نہیں ہے، پھر اس قول کے خلاف ان کا یہ قول ہے کہ اس سے کہا جائے کہ ہم تیرے باپ یا بیٹے کو قتل کردیں گے ورنہ اس غلام کو بیچ دے یا دین کا اقرار کرلے یا ہبہ کردے، تو قیاس کے مطابق یہ اس کو لازم ہیں لیکن ہم بہتر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیع و ہبہ اور تمام عقود اس صورت میں باطل ہیں۔ انہوں نے قریبی رشتہ دار اور ان کے علاوہ لوگوں کے درمیان بغیر کتاب و سنت کے تفریق کی ہے، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی کے متعلق کہا تھا کہ یہ میری بہن ہے اور یہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کے لحاظ سے فرمایا تھا اور نخعی نے کہا کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت اور اگر مظلوم ہو تو قسم دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔