مشکوٰۃ المصابیح - رونے اور ڈرنے کا بیان - حدیث نمبر 5220
حدیث نمبر: 6943
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏أَلَا تَدْعُو لَنَا ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُجْعَلُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ وَعَظْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ.
اس شخص کا یبان جو کفر پر مار کھانے اور قتل کئے جانے اور ذلت کو ترجیح دے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن الارت ؓ نے کہ ہم نے رسول اللہ سے اپنا حال زار بیان کیا۔ نبی کریم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے۔ نبی کریم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی انہیں اپنے دین سے نہیں روک سکتی تھیں۔ اللہ کی قسم! اس اسلام کا کام مکمل ہوگا اور ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہوگا اور بکریوں پر سوا بھیڑئیے کے خوف کے (اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہوگا) لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔
Top