يوسف

بصیرتِ قرآن

مولانا محمد آصف قاسمی

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة یوسف نمبر 12 رکوع 12 آیات 111 الفاظ و کلمات 1808 حروف 7411 مقام نزول مکہ مکرمہ ایک مرتبہ کفار مکہ نے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روز بروز ترقی سے جل کر خاک ہوئے جا رہے تھے انہوں نے یہودیوں سے یہ کہا کہ کوئی ایسی بات بتاؤ جو ہم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھیں اور وہ جواب نہ دے سکیں ۔ اس طرح ہمیں ان کا مذاق اڑانے اور نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے میں آسانی رہے گی۔ یہودیوں نے کہا کہ ان سے یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ اور ان کے اہل خاندان کے فلسطین سے مصر آنے کی وجہ پوچھئے۔ اگر جواب نہ دے سکیں تو وہ نبی نہیں ہیں ان کا خیال یہ تھا کہ چونکہ مکہ والے اس واقعہ سے قطعات ناواقف ہیں تو وہ اس کا جواب نہ دے سکیں گے۔ چناچہ کفار مکہ نے آپ سے پوچھا کہ (١) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بتائیے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا لقب اسرائیل تھا ان کے اور ان کے اہل خاندان کے فلسطین سے مصر آنے کی وجہ کیا تھی (٢) ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کیا ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوالات کے جواب میں نہ صرف اس سورت کی نازل کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے لاتعداد پہلوؤں کے علاوہ دو باتوں کی طرف خاص طور پر اشارہ کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت یوسف پر جو حالات گذرے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی وہی حالات گذر رہے ہیں دوسری بات یہ کہ جس طرح حضرت یوسف کے بھائیوں کو ان کے قدموں پر جھکنا پڑا تھا اسی طرح حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بھی کفار مکہ کو ذلت کے ساتھ جھکنا پڑے گا بعد کے حالات نے ان باتوں کو سچ کر دکھایا۔ اگر غور کیا جائے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں بےانتہا مماثلت اور مشابہت پائی جاتی ہے۔ (١) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان سے حسد اور بغض کرتے ہوئے ان کو قتل کرنے یا والد سے دور کرنے کی سازش کی۔ اسی طرح کی تدبیریں اور سازشیں کفار مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیں۔ (٢) برادران یوسف نے اپنے بھائی کو طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائیں اور ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے نہایت صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی اور مکہ کی سر زمین کو ان کے لئے تنگ کردیا گیا لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام نے نہایت صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ فرمایا۔ ٣) برادران یوسف نے حضرت یوسف کو ایک اندھے کنوئیں میں ڈال دیا تھا تاکہ وہ مر جائیں یا آنے جانے والا کوئی قافلہ ان کو اپنے ساتھ لے جائے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یوسف تین دن تک اس اندھے کنوئیں میں رہے جہاں اللہ نے ان کی دست گیری فرمائی اور ایک گذرنے والے قافلے نے آپ کو نکالا اور اللہ نے ان کو مصر پہنچا دیا۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف بھی سازش کی گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تین دن تک غار ثور میں چھپے رہے۔ ٤) جس طرح برادران یوسف کو حضرت یوسف کے قدموں پر جھکنا پڑا اسی طرح کفار مکہ کو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جھکنا پڑا۔ (٥) جس طرح حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو معاف کردیا تھا اسی طرح فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اپنے جانی دشمنوں کو معاف فرما دیا تھا۔ ٦) جس طرح حضرت یوسف کو اپنے وطن سے دور ہو کر عروج و ترقی نصیب ہوئی۔ اس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنا وطن مکہ چھوڑنے کے بعد دنیاوی عروج و اقتدار ملا۔ غرضیکہ حضرت یوسف اور نیب کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں بےانتہا مناسبت اور مشابہت ہے۔ بقیہ تفصیل زیر مطالعہ تفسیر میں ملاحظہ کیجیے۔ ٭… حضرت یوسف (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پڑپوتے ہیں۔ ٭ حضرت یوسف کی والدہ کا نام راحیل بنت لابان تھا۔ ٭ حضرت یوسف کا انتقال ایک سو دس سال کی عمر میں مصر میں ہوا۔ ٭ ان کی وصیت تھی کہ ان کو ان کے انتقال کے بعد مصر میں دفن نہ کیا جائے۔ جب اللہ کا وعدہ پورا ہو کر فلسطین پر حکومت الٰہی قائم ہوجائے تو ان کو فلسطین میں دفن کیا جائے۔ ٭ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں ان کے جسم کو نکال کر فلسطین میں لے جا کر دفن کیا گیا۔ ٭ بلاطہ (فلسطین) کے علاقے نابلس کے ایک گاؤں میں دفن کیا۔ ٭… قرآن کریم میں حضرت یوسف کا نام چھبیس مرتبہ آیا ہے چوبیس مرتبہ سورة یوسف میں، ایک مرتبہ سورة الانعام میں اور ایک مرتبہ سورة مومن میں آیا ہے۔ ٭… قرآن کریم میں حضرت یوسف کے واقعہ کو احسن القصص یعنی واقعات میں بہترین واقعہ فرمایا گیا ہے۔ ٭… حضرت یوسف کے واقعہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اگر ایک مرد مومن اسلامی سیرت و کردار، حکمت و دانائی اور بہترین اخلاق کا پیکر ہو تو وہ تنہا شخص پورے ملک کو فتح کرسکتا ہے اور ناممکن کو ممکن بنانے کی قدرت رکھتا ہے۔