بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 1
الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫﴿1﴾
- الٓرٰالف لام را
- تِلْكَیہ
- اٰيٰتُآیتیں
- الْكِتٰبِکتاب
- الْمُبِيْنِروشن
Translation · Baseerat-e-Quran
ترجمہ :- الف ۔ لام ۔ را (حروف مقطعات جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے) یہ ایک واضح (روشن ) کتاب کی آیات ہیں۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3
تلک (یہ۔ (اسم اشارہ) ۔ مبین (واضح۔ روشن) قران (بہت پڑھا جانے والا ) لعل (شاید۔ توقع) نقص (ہم بیان کرتے ہیں) احسن القصص (قصوں میں بہترین) اوحینا (ہم نے وحی بھیجی) ان کنت (اگرچہ تو تھا) الغفلین (غافل) ۔ بیخبر
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 3
سورة یوسف بارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اس میں عبرت و نصیحت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کے لاتعداد پہلوؤں کے ساتھ ان کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف ، ان کے والدین اور رشتہ دار فلسطین سے مصر کیسے پہنچے اہل عرب اس سے ناواقف تھے۔ خود نبی کریم ﷺ نے بھی کبھی اس واقعہ کو بیان نہیں فرمایا۔ کفار مکہ نبی کریم ﷺ پر اعتراض کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ کسی موقع پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو آزمانے کے لئے پوچھا کہ آخر وہ کونسی مجبوری تھی جس کی بنا پر حضرت یعقوب اور حضرت یوسف فلسطین سے مصر آئے تھے اور وہیں آباد ہوگئے تھے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مکہ والے تو اس واقعہ سے ناواقف تھے یہودیوں نے ان کو یہ بات سکھائی کہ ان سے یوسف کا واقعہ پوچھئے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ نبی کریم ﷺ کو اس پورے واقعہ پر مطلع فرمایا۔ حضرت یوسف کا پورا واقعہ بائبل میں موجود ہے لیکن اگر قرآن کریم اور بائبل کا مطالعہ کیا جائے تو یہ فرق بالکل واضح ہو کر سامنے آجائے گا کہ بائبل میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ وہ حسن و عشق کی ایک داستان لگتی ہے جب کہ قرآن کریم نے واقعاتی انداز سے ہٹ کر عبرت و نصیحت کے ان لاتعداد پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جن سے اخلاق انسانی کی اصلاح اور حضرت یوسف کی پاک دامنی اجاگر ہو کر سامنے آتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ کو نبی کریم ﷺ کی زندگی اور حضرت یوسف کی زندگی سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ :
(1) جس طرح حضرت یوسف کے بھائیوں نے حسد اور بغض کی بنا پر طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں اور ان کو والد کی نظروں سے دور کرنے کے لئے ایک اندھے کنوئیں میں ڈال کر وہ مطمئن ہوگئے تھے کہ اب ان کے والد کی پوری توجہ ان کی طرف رہے گی اور چند ٹکوں کے عوض انہوں نے اپنے بھائی کو فروخت کردیا تھا مگر حضرت یوسف نے نہایت صبر و استقلال اور عزم و ہمت سے مشکل حالات میں صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ اسی طرح کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے حسد کی آگ میں جل کر ایسی ایسی تکلیفیں پہنچائیں کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام مکہ مکرمہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ نہایت صبر و تحمل سے ناخوشگوار اور اذیت ناک حالات کو برداشت کیا اور آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔
(2) جب حضرت یوسف ہزاروں تکلیفیں برداشت کرنے کے بعد تیس سال کی عمر میں مصر کے بادشاہ بنا دیئے گئے اور ہر طرح کی دنیاوی طاقت و قوت آپ کے ہاتھ میں آگئی تب آپ نے پیغمبرانہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہئے اپنے سوتیلے بھائیوں سے کوئی انتقام اور بدلہ نہیں لیا بلکہ انہوں نے یہ کہہ کر سب کو معاف کردیا ” لاتثریب علیکم الیوم “ کہ تم سے آج کسی بات کا بدلہ نہیں لیا جائے گا اور حضرت یوسف نے ان کے ظلم و ستم کو نظر انداز کر کے عفو و کرم کا معاملہ فرمایا۔
اسی طرح فتح مکہ کے بعد نبی کریم ﷺ پورے جزیرۃ العرب کے بلاشرکت غیرے حاکم اعلیٰ ہوچکے تھے اس وقت آپ ﷺ نے مکہ والوں سے خون اور ظلم و ستم کا بدلہ لینے کے بجائے رحم و کرم اور عام معافی کا اعلان فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت یوسف نے اپنے حاسد بھائیوں کو ان کے ظلم و ستم کا بدلہ لینے کے بجائے رحم و کرم اور عام معافی کا اعلان فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت یوسف نے اپنے حاسد بھائیوں کو ان کے ظلم کے باوجود معاف کردیا تھا میں بھی یہی کہتا ہوں کہ ” اذھبوا وانتم الطلقاء لاتثریب علیکم الیوم “ کہ جاؤ تم سب میری طرف سے آزاد ہو کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا۔
3) جس طرح حضرت یوسف کی طرف سے عام معافی کے بعد ان کو اس خواب کی تعبیر مل گئی کہ چاند سورج اور گیارہ ستارے ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی طرف سے کفار مکہ کے لئے عام معافی مل جانے کے بعد دشمنان اسلام کو آپ ﷺ کے قدموں پر گرنا پڑا۔
غرضیکہ حضرت یوسف اور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بڑی مناسبت و مشابہت ہے جس کو قرآن کریم نے ایک اچھوتے اور نرالے انداز سے پیش فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف کی آیات نازل فرما کر کفار مکہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھا دی ہے کہ جس طرح برادران یوسف نے بغض و حسد کر کے اپنے بھائی کو رسوا کرنا چاہا لیکن اللہ نے اسی شر میں سے خیر کو پیدا فرما کر ان کو عزت و عظمت کی سربلندیوں تک پہنچا دیا تھا اسی طرح وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پھر سے مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہو کر تمام عزت و عظمت کی بلندیوں پر پہنچیں گے اور کفار مکہ ذلیل اور رسوا ہو کر آپ کے قدموں کی دھول بن کر رہ جائیں گے۔
تاریخ کے صفحات اور قرآن کریم کی آیات گواہ ہیں کہ اللہ نے نبی کریم ﷺ کو ہزاروں پریشانیوں اور مشکلات کے باوجود دنیاوی اعتبار سے بھی اعلیٰ ترین مقام عطا فرمایا ہے۔
زیر مطالعہ سورة یوسف کی تینوں آیات میں کچھ الفاظ کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے تاکہ وہ الفاظ جن سے سورت شروع کی جا رہی ہے واضح ہوجائیں۔
حروف مقطعات :- اس سورت کو ” الم “ سے شروع کیا گیا ہے جیسے کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ان جیسے حروف کو مقطعات کہتے ہیں۔ معنی سے کٹے ہوئے یا علیحدہ علیحدہ پڑھے جانے والے حروف۔ ان کے کیا معنی ہیں ان کے متعلق مفسرین یہی ایک بات لکھتے ہیں کہ ” اللہ اعلم بمرادہ بذالک “ اللہ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے ؟ ممکن ہے ان حروف کے معنی ہوں جن کا علم نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نہ تو ان کے معانی بیان فرمائے ہیں اور نہ صحابہ کرام نے آپ سے پوچھا۔ ہمیں صحابہ کرام کی طرح اس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ ان حروف کی مراد سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر طور پر واقف ہیں۔
کتاب مبین :- قرآن کریم کی بہت سی صفات بیان فرمائی گئی ہیں اور اس کو متعدد جگہ ” کتاب مبین، آیات مبین “ فرمایا گیا ہے مراد یہ ہے کہ یہ قرآن کریم اپنے معانی میں اس قدر واضح اور کھلا ہوا ہے جس میں کوئی فلسفیانہ یا منطقی انداز نہیں ہے۔ کھلی کتاب زندگی ہے جو چاہے اس کو پڑھ کر اپنی ہدایت کا سامان کرسکتا ہے۔ نہ اس کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہے اور نہ عمل کرنے میں اگر۔ پوری طرح دھیان دیا جائے اور توجہ کی جائے تو اس کو سمجھنا اور اس پر بنی کریم ﷺ کے ارشادات کے مطابق عمل کرنا نہایت آسان ہے۔
قرآن عربیا :- اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو عربی جیسی عظیم الشان زبان میں نازل کیا ہے جو اللہ کے کلام کے لئے نہایت موزوں اور اعلیٰ ترین زبان ہے۔ دوسرے یہ کہ اس قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب اہل عرب ہیں۔ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے جو تمہاری اپنی زبان ہے۔ جس کے کسی لفظ کے سمجھنے میں اہل عرب کے لئے کوئی دشواری نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ قرآن کریم صرف اہل عرب کے لئے ہے دوسروں کے لئے نہیں ہے۔
خلاصہ یہ ہے قرآن کریم وہ کتاب ہے جو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے راہ ہدایت ہے۔ جس کو عربی جیسی عظیم اور محترم زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ اب یہ پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک کو ساری دنیا تک پہنچائیں اور اس کی عربیت کا خیال رکھیں۔ اسی بنا پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے ایک ایک حرف پر دس نیکیاں عطا کی جائیں گی۔ ہر حرف پر دس نیکیاں ” عربیت “ میں پوشیدہ ہیں اس کے ترجمے میں نہیں۔ اگر اس کا ترجمہ کسی بھی زبان میں کیا جائے گا تو بیشک اس ترجمہ کا پورا پورا ثواب عطا کیا جائے گا لیکن ترجمے کے حروف پر دس نیکیوں کا وعدہ نہیں فرمایا گیا۔ اسی علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر قرآن کریم کا صرف ترجمہ شائع کیا جائے اور اس کے ساتھ قرآن کریم کے عربی الفاظ و آیات نہ ہوں تو محض کسی زبان میں صرف ترجمہ پڑھنا اور ایسے ترجمے والے قرآن کو رکھنا حرام ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ الفاظ قرآن لکھے ہوں پھر ان کا ترجمہ کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
آج کل بعض لوگ جو اپنے خیال میں بہت عقل مند اور ترقی پسند بنتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ الفاظ قرآن کے بغیر ترجمہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن میں ان لوگوں سے یہی عرض کروں گا کہ اگر یہ طریقہ اختیار کرلیا گیا تو اس سے اللہ نہ کرے قرآن کریم کا بھی وہی حشر نہ ہو جو بائبل کا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کا محض ترجمہ شائع کیا اور آج اصل کتاب ہی دنیا سے ناپید ہوچکی ہے نہیں معلوم کہ جس کتاب کو بائبل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ وہی اصل بائبل ہے یا لوگوں نے اپنے طور پر کچھ ترجمہ گھڑ کر اس کو اللہ کی کتاب کے طور پر پیش کردیا ہے۔ یہاں تک سنا ہے کہ ہر پادری کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ کتاب میں وقت کے تقاضوں کے تحت تبدیلیاں کرسکتا ہے۔ بہرحال قرآن کریم کے ساتھ اس طرح کے انداز کا اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔
احسن القصص :- واقعات میں واقعہ یوسف کو سب سے خوبصورت اور حسین واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ حقیت ہے کہ قرآن کریم میں کسی واقعہ کو اس طرح بیان نہیں فرمایا گیا۔ بارہ رکوعوں پر مشتمل ایک مکمل سورت میں سوائے حضرت یوسف کے واقعہ کے اور کسی کا واقعہ بیان نہیں کیا گیا۔ لیکن اس پوری سورت میں اس کو ایک واقعاتی ترتیب یا قصے کہانی کے طور پیش نہیں کیا گیا بلکہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں عبرت و نصیحت کے ہر پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔
حضرت یوسف کی عین جوانی اور شباب کا دور ہے۔ ہر طرف سے بیگمات مصر ان کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہیں لیکن اللہ نے ان کو کس طرح پاک دامن رکھا یہ واقعہ ساری دنیا کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔
وحی کے ذریعہ :- اس واقعہ کا مکہ والوں کو پہلے سے علم نہیں تھا مگر اللہ نے وحی کے ذریعے اس واقعہ کو بیان کر کے اس کے ہر پہلو کو وضاحت سے پیش فرمایا ہے۔