قريش

تدبرِ قرآن

مولانا امین احسن اصلاحی

تعارف

سورة کا عمود، سابق سورة سے تعلق اور ترتیب بیان یہ سورة سابق سورة ……الفیل…… کی توام ہے۔ اس کی تفسیر میں ہم دونوں سورتوں کے عمود کی طرف ایک جامع اشارہ کرچکے ہیں۔ یہاں مختصر الفاظ میں یوں سمجھئے کہ قریش بیت اللہ کے ساتھ جس نوعیت کی وابستگی رکھتے تھے وہ ان پر واضح کر کے اس کے فطری حق کا ان سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ سابق سورة میں یہ دکھایا ہے کہ اس سرزمین میں ان کو جو امن حاصل ہے وہ اسی گھر کی بدولت حاصل ہے۔ اس سورة میں یہ دکھایا ہے کہ اس سرزمین میں ان کو رزق کے جو وسائل حاصل ہیں ان کی راہیں بھی اسی گھر کی بدولت کھلی ہیں۔ اس وجہ سے حق ہے کہ وہ اس گھر کے خداوند کی عبادت کریں، اس کے اس حق میں بلادلیل دوسروں کو شریک نہ کریں۔ ایک اچھی حکومت سے شہریوں کو جو برکتیں حاصل ہوتی ہیں ان میں سرفہرست یہی دو چیزیں ہیں : امن اور رزق۔ سرزمین مکہ میں یہ دونوں برکتیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بدولت قریش کو بیت اللہ انہی کے طفیل حاصل ہوئیں۔ اس کا فطری حق یہی تھا کہ ان کی وابستگی کلیۃً اللہ وحدہٗ لاشریک کے ساتھ ہوتی لیکن قریش نے شرک میں مبتلا ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے گھر میں دوسرے فرضی دیویوں دیوتائوں کو لا بٹھایا۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ اس گھر کے ساتھ اپنی وابستگی کی نوعیت کو نہ بھولیں۔ یہ گھر انہیں خدا ہی نے امانت میں دیا تھا۔ اسی کی بدولت انہیں امن بھی حاصل ہوا اور اسی کے فیض سے رزق کی راہیں بھی کشادہ ہوئیں۔ اگر انہوں نے اس گھر کے رب کی ناشکری کی تو یاد رکھیں کہ اس گھر کی پاسبانی کا شرف بھی کھو بیٹھیں گے اور ساتھ ہی وہ تمام روحانی و مادی برکتیں بھی جو اس گھر کی بدولت انہیں حاصل ہیں۔ سورة میں پہلے اس وابستگی کی خاص نوعیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو قریش کو سرزمین مکہ اور بیت اللہ کے ساتھ حاصل ہوئی۔ پھر ان کے ان تجارتی سفروں کے ساتھ ان کی وابستگی کا حوالہ دیا ہے جو سردیوں اور گرمیوں میں بالالزام وہ کرتے اور جن پر ان کی تمام معاشی آسودگی کا انحصار تھا۔ ان کی معاشی زندگی میں خون کی گردش انہی تجارتی سفروں سے تھی اور ان کی کامیابی کی ضمانت ان کو بیت اللہ کے متولی ہونے کی بدولت حاصل تھی۔ اس شرف سے محروم ہو کر وہ یہ درجہ نہیں حاصل کرسکتے تھے کہ جو راستے دوسروں کے لئے غیر محفوظ تھے ان میں ان کے تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لئے راہ کے قبائل بدرقہ فراہم کریں۔