تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 106. Quraish · Ayah 1
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ﴿1﴾
- لِاِيْلٰفِمانوس کرنے کے سبب
- قُرَيْشٍقریش
Translation · Tadabbur-e-Quran
بوجہ اس وابستگی کے جو قریش کو ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ایلاف کا مفہوم: ’الف المکانَ واٰلفہ ایلافا‘ کے معنی ہوں گے ’تعودہ واستانس بہ‘ وہ اس جگہ کا عادی اور اس سے مانوس ہے۔
’اٰلفتہ مکان کذا ایلافا‘ کے معنی ہوں گے ’جعلتہ یا لفہ‘ میں نے اس جگہ سے اس کو مانوس کر لیا۔
’الفہ موالفۃ والافا‘ کے معنی ہیں ’اٰنَسَہ دعا شرہ‘ وہ اس سے مانوس ہوا، اس کے ساتھ رہا سہا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ’ایلاف‘ ہو یا ’اِلاف‘ دونوں ہی صورتوں میں معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔ اس کا اصلی مفہوم اُنس، تعلق اور وابستگی ہے۔ اگرچہ ’لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ‘ کے مجمل الفاظ سے یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ قریش کی کس چیز کے ساتھ وابستگی زیربحث ہے لیکن آگے ’رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَالصَّیْفِ‘ اور ’فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ‘ کے الفاظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں ان مفادات کے ساتھ ان کی وابستگی زیربحث ہے جو انھیں بیت اللہ کے تعلق اور اس کی خدمت و تولیت کی بدولت حاصل ہوئے۔
گویا اس سورہ میں قریش کو یہ یاددہانی کی جا رہی ہے کہ انھیں مکہ میں یا پورے ملک عرب میں جو عظمت و وقار اور اس کے نتیجہ میں جو غیرمعمولی دنیوی مفادات حاصل ہیں ان میں اصلی دخل ان کی ذہانت و قابلیت اور ان کے حسن تدبیر و تدبر کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس گھر کے ساتھ تعلق و وابستگی کو ہے۔ اس وجہ سے ان پر واجب ہے کہ وہ اس گھر اور اس کے مالک کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت کو ہمیشہ یاد رکھیں، اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں ان حقوق و فرائض کو نہ بھول بیٹھیں جو اس گھر اور اس کے خداوند سے متعلق ان پر عائد ہوتے ہیں۔