Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 11

  1. قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ﴿11﴾

    1. قَالُوْاکہنے لگے
    2. يٰٓاَبَانَااے ہمارے آبا
    3. مَالَكَکیا ہوا تجھے
    4. لَا تَاْمَنَّاتو ہمارا اعتبار نہیں کرتا
    5. عَلٰيپر (بارہ میں)
    6. يُوْسُفَیوسف
    7. وَاِنَّااور بیشک ہم
    8. لَهٗاس کے
    9. لَنٰصِحُوْنَالبتہ خیر خواہ
Translation · Baseerat-e-Quran
(یوسف کے بھائیوں نے) کہا کہ اے ہمارے ابا جان ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے بارے میں آپ ہم پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 18 مالک (تجھے کیا ہوگیا) لاتامنا (تو ہم پہ اطمینان نہیں کرتا ہے) نصحون (نصیحت کرنے والے۔ خیر خواہ) ارسل (بھیج دے) غداً (کل۔ آئندہ۔ صبح ) یرتع (کھاتا ہے یا کھائے گا ) یعلب (کھیلتا ہے یا کھیلے گا) لیحزننی (البتہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے) ان یا کلہ ، (یہ کہ وہ کھائے) الذئب (بھیڑیا) ان یجعلوہ (یہ کہ وہ اس کو ڈال دیں) عشآء (رات کے وقت) یبکون (وہ روتے ہیں یا روئیں گے ) ذھبنا (ہم چلے گئے ) نستبق (ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے ہیں) ترکنا (ہم نے چھوڑ دیا) عند (نزدیک) متاعنا (ہمارا اپنا سامان) دم کذب (جھوٹا خون) سولت (بنا لی ہے۔ برابر کرتی ہے) صبر جمیل (اچھا صبر) المستعان (استعانۃ) مدد مانگی جائے ۔ تصفون (تم گھڑتے ہو) تشریح آیت نمبر 11 تا 81 برادران یوسف نے یہ فیصلہ کرلینے کے بعد کہ حضرت یوسف کو راستے سے ہٹا دیا جائے تاکہ والد کی محبت میں کوئی اور شریک نہ ہو۔ حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یا مین کی کم عمری کی وجہ سے وہ مطمئن تھے اس لئے صرف حضرت یوسف کو اندھے کنوئیں میں ڈالنے کے لئے کوشاں تھے۔ ایک دن تمام بھائیوں نے اپنے والد حضرت یعقوب سے کہا کہ اے ابا جان ! ہم جب سیرو تفریح کے لئے جاتے ہیں تو اپنے بھائی یوسف کے نہ ہونے سے بڑی کمی محسوس کرتے ہیں۔ ہم اس کے خیر خواہ ہیں مگر آپ ہم پر اطمینان کا اظہار نہیں کرتے۔ آج تو ان کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ جائیں کھیلیں کو دیں اور تفریح کا لطف اٹھائیں۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ہر ممکن ان کی حفاظت کریں گے۔ ممکن ہے برادران یوسف نے ذہنی طور پر پہلے ہی سے حضرت یوسف کو بھی تیار کرلیا ہو۔ حضرت یعقوب نے فرمایا کہ یوسف کی ذرا سی جدائی بھی مجھے رنجیدہ کردیتی ہے اور پھر تمہارے ساتھ بھیجنے میں مجھے یہ اندیشہ ہے کہیں تمہاری بیخبر ی اور بےتوجہی میں یوسف کو کوئی بھیڑیا نہ کھا جائے۔ کیونکہ اس زمانہ میں جنگلوں میں بھیڑیئے زیادہ ہوتے تھے۔ بھائیوں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے جب کہ ہم ایک جتھا ہیں قوت و طاقت میں بھی کم نہیں ہیں۔ اگر ہماری موجودگی میں یہ واقعہ ہوجائے تو یہ ہمارے لئے بڑے خسارے اور نقصان کا سودا ہوگا ۔ تھوڑی سی بحث و گفتگو کے بعد آخر کار حضرت یعقوب اس بات پر رضا مند ہوگئے کہ حضرت یوسف کو وہ اپنے ساتھ لے جائیں۔ فرمایا کہ اللہ نے حضرت یوسف کے دل میں اس بات کو جما دیا اور فرما دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ اے یوسف ! تم ان کو یہ سارا واقعہ سناؤ گے اور وہ تمہیں پہچان بھی نہس کیں گے۔ بھائیوں نے حضرت یوسف کو پروگرام کے مطابق ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا جہاں اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی۔ رات کو روتے پیٹتے برادران یوسف اپنے والد کے پاس آئے اور کہنے لگے ابا جان ! آپ صحیح کہتے تھے، ہم کھیل کود رہے تھے اور سامان کے پاس ہم نے یوسف کو بٹھا دیا تھا۔ بھیڑیا آیا اور ان کو کھا گیا۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے حضرت یوسف کا قمیص پیش کیا جس پر جھوٹ موٹ کا خون لگا ہوا تھا کہنے لگے ابا جان ! آپ تو ہم اطمینان کا اظہار نہیں کریں گے لیکن ہم سچ کہہ رہے ہیں یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا ہے۔ حضرت یعقوب نے کہا کہ یہ بات تم نے خود ہی گھڑ لی ہے اور جس چیز کا تم اظہار کر رہے ہو میرا دل نہیں مانتا کہ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ اب میں اس واقعہ پر صبر ہی کرسکتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے مدد کا طلب گار ہوں۔ یہ واقعہ قرآن کریم نے نہایت مختصر لفظوں میں ارشاد فرمایا جس سے چند باتیں سامنے آتی ہیں : 1) سازشی عناصر ہمیشہ ” خیر خواہی “ کا لبادہ اوڑھ کر اپنی سازشوں پر بہت خوش ہوتے ہیں لیکن اس کارخانہ قدرت میں ہر چیز ایک لگے بندھے نظام کے تحت چل رہی ہے۔ سازشیں کرنے والے حسد کی آگ میں جلنے والے اپنی تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیر ہی سب سے بہتر تدبیر ہوتی ہے۔ سازشی عناصر جس چیز کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں درحقیقت وہی ان کی شکست اور تباہی اور ذلت کا سامان بن جاتی ہے۔ برادران یوسف اس بات پر خوش تھے کہ ہم نے اپنی حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرلیا اور والد کی نگاہوں سے اس کو دور کردیا جو ان کے نزدیک والد کی محبت میں رکاوٹ بن رہا تھا لیکن قدرت نے حضرت یوسف کے لئے اس سربلندی کا فیصلہ فرما لیا تھا جو ان کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ نے حضرت یوسف کے دل کو جما دیا کہ اے یوسف ! تم فکر مت کرنا ان کو اپنی تدبیریں اور سازشیں کرنے دو ایک وقت آئے گا کہ تم ان بھائیوں کے سامنے اس سارے واقعہ کو بیان کریں گے اور وہ تمہیں پہچان نہ سکیں گے۔ اسی طرح کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے تھے وہ اپنے ہر ظلم کو اپنی کامیابی سمجھ رہے تھے حالانکہ قدرت کے اصول کے تحت وہ ہر روز اپنی ذلت اور شکست کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ کفار مکہ کے ظلم اور زیادتیوں اور اذیتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ کرام مکہ مکرمہ سے نکل کر حبشہ کی طرف ہجرت فرما گئے اور وہ دن بھی آگیا جب رسول اللہ ﷺ بھی بیت اللہ کی سر زمین کو اللہ کے حکم سے چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ لیکن مکہ مکرمہ سے یہی ہجرت اہل ایمان کی اس سربلندی کا ذریعہ بن گئی جس کا کفار مکہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ کفار مکہ سمجھ رہے تھے کہ چلو اچھا ہوا ہمارے راستہ کا کانٹا نکل گیا لیکن یہی قدم نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی ترقی کا سنگ میل ثابت ہوا۔ 2) حضرت یوسف کے قمیص پر جھوٹا خون لگا کر برادران یوسف سمجھ رہے تھے کہ ہم اپنے والد کو دھوکہ دے سکیں گے۔ لیکن حضرت یعقوب سمجھ گئے یہ سب من گھڑت کہانی ہے، اس موقع پر حضرت یعقوب نے فرمایا کہ یہ کہانی تم نے اپنے دل سے گھڑ لی ہے حقیقت کچھ اور ہے۔ 3) جب کوئی مشکل یا مصیبت کا وقت آتا ہے تو انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ وہ رنج و غم میں اپنے کپڑے نہیں پھاڑتے وہ کپڑوں پر جھوٹا رنگ ڈال کرو اویلا اور شور نہیں مچاتے بلکہ ان کی زبان پر ایک ہی بات ہوتی ہے کہ یہ مصیبت اللہ کی طرف سے ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے وہ بات کی مصلحت اور بھلائی کو جانتا ہے ہم اسی سے مدد کے طلب گار ہیں۔
Baseerat-e-Quran - 12 : 11