Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 21

  1. وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿21﴾

    1. وَقَالَاور بولا
    2. الَّذِيوہ جو، جس
    3. اشْتَرٰىهُاسے خریدا
    4. مِنْسے
    5. مِّصْرَمصر
    6. لِامْرَاَتِهٖٓاپنی عورت کو
    7. اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُاسے عزت و اکرام سے رکھ
    8. عَسٰٓىشاید
    9. اَنْکہ
    10. يَّنْفَعَنَآہم کو نفع پہنچائے
    11. اَوْیا
    12. نَتَّخِذَهٗہم اسے بنالیں
    13. وَلَدًابیٹا
    14. وَكَذٰلِكَاور اس طرح
    15. مَكَّنَّاہم نے جگہ دی
    16. لِيُوْسُفَیوسف کو
    17. فِيمیں
    18. الْاَرْضِزمین (ملک)
    19. وَلِنُعَلِّمَهٗاور تاکہ ہم اسے سکھائیں
    20. مِنْسے
    21. تَاْوِيْلِانجام نکالنا
    22. الْاَحَادِيْثِباتیں
    23. وَاللّٰهُاور اللہ
    24. غَالِبٌغالب
    25. عَلٰٓي اَمْرِهٖاپنے کام پر
    26. وَلٰكِنَّاور لیکن
    27. اَكْثَرَاکثر
    28. النَّاسِلوگ
    29. لَا يَعْلَمُوْنَنہیں جانتے
Translation · Baseerat-e-Quran
اور مصر کے جس شخص نے (یوسف کو) خریدا تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو اچھی طرح عزت سے رکھنا ۔ ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں اور اس طرح ہم نے یوسف کے اس سر زمین میں قدم جما دیئے۔ تاکہ ہم اس کو باتوں کا انجام (جیسے خوابوں کی تعبیر وغیرہ) نکالنا سکھائیں اور اللہ اپنے کام میں غالب رہتا ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو جانتے نہیں
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 22 اشتری ٰ (خرید لیا۔ بیچ دیا (دونوں معنی آتے ہیں) امراء ۃ (عورت ، بیوی) اکرمی (عزت سے کھ) مثواہ (ٹھکانا۔ مقام ینفعنا (وہ ہمیں فائدہ دے گا) نتخذ (ہم بنا لیں گے) ولد (بیٹا) کذلک (اسی طرح، اس طرح) مکنا (ہم نے ٹھکانا دیا۔ جما دیا ) نعلم (ہم سکھاتے ہیں ) الاحادیث (حدیث) باتیں غالب (غلبہ و قوت پانے والا) امر (کام) لایعلمون (وہ جانتے نہیں) بلغ (وہ پہنچ گیا) اشدہ (اپنی قوت کو اپنی جو این کو اتینا (ہم نے دیا) حکم (حکم۔ دانائی) علم (علم۔ جاننا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں۔ جزا دیتے ہیں المحسنین (نیک کام کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 21 تا 22 عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہی عزت سے نوازتا ہے اور وہی ذلت بھی دیتا ہے اگر عزت و ذلت انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو وہ کبھی کسی کو عزت سے نہ نوازتا بلکہ ہر ایک کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیتا۔ برادران یوسف نے حضرت یوسف سے حسد کیا اور ان کو اپنے والد کی نظروں سے گرانے اور دور کرنے کی تدبیریں کیں لیکن اللہ نے ان کی تدبیروں کو الٹ دیا اور حضرت یوسف کو عزت کا بہترین ٹھکانا عطا فرما دیا۔ مدین سے مصرف جانے والا قافلہ حضرت یوسف کو بازار مصر میں لے کر پہنچا تاکہ ان کو ایک غلام کی حیثیت سے فروخت کر کے زیادہ سے زیادہ مال کمال سکے۔ حضرت یوسف کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر ہر ایک نے زیادہ سے زیادہ قیمت لگانا شروع کردی یہاں تک کہ ان کے وزن کے برابر سونا، مشک اور اسی وزن کے ریشمی کپڑے تک عوض میں دینے کی بولی لگا دی گئی۔ مصر کی حکومت کا وزیر اعظم ” عزیز مصر “ ‘ جو شاہی خاندان کا سب سے بڑا اور معتمد آدمی تھا اور حکومت مصر کی فوج کا سپہ سالار بھی تھا۔ اس کی نگاہ حضرت یوسف پر پڑگئی کہ لوگ بڑھ چڑھ کر بولیاں لگا رہے ہیں۔ اس نے سب سے زیادہ قیمت دے کر حضرت یوسف کو خرید لیا۔ نبی کریم ﷺ نے شب معراج حضرت یوسف سے بھی ملاقات فرمائی تھی۔ فرمایا کہ حضرت یوسف اتنے حسین و جمیل ہیں کہ اللہ نے کائنات میں جتنا حسن پیدا کیا ہے اس میں سے آدھا حضرت یوسف کو عطا فرمایا ہے۔ عزیز مصرف حضرت یوسف کو لے کر اپنے گھر پہنچا اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ کوئی غلام نہیں ہے اس کو عزت و احترام سے گھر میں رکھنا ۔ ممکن ہے کہ ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں بہرحال ہر اعتبار سے یہ ہمیں فائدہ ہی دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور کرم سے حضرت یوسف کو ایک باعزت گھرانے میں ٹھکانا عطا فرما دیا۔ واقعی اللہ کائنات کے ذرہ ذرہ پر غلبہ وقوت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو ہانت، حکمت اور علم کی دولت سے نوازا تھا اور ان کو بات کی گہرائی تک پہنچنے اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی عطا فرمایا تھا۔ یہ حضرت یوسف کے صبر و تحمل اور نیکی کا صلہ تھا جو انہیں اللہ نے عنایت فرمایا۔