Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 50

  1. وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ﴿50﴾

    1. وَقَالَاور کہا
    2. الْمَلِكُبادشاہ
    3. ائْتُوْنِيْمیرے پاس لے آؤ
    4. بِهٖساتھ اس کے
    5. فَلَمَّاپس جب
    6. جَآءَهُاس کے پاس آیا
    7. الرَّسُوْلُقاصد
    8. قَالَاس نے کہا
    9. ارْجِعْلوٹ جا
    10. اِلٰيطرف (پاس)
    11. رَبِّكَاپنا مالک
    12. فَسْئَلْهُپس اس سے پوچھو
    13. مَا بَالُکیا حال ؟
    14. النِّسْوَةِعورتیں
    15. الّٰتِيْوہ جو
    16. قَطَّعْنَانہوں نے کاٹے
    17. اَيْدِيَهُنَّاپنے ہاتھ
    18. اِنَّبیشک
    19. رَبِّيْمیرا رب
    20. بِكَيْدِهِنَّان کا فریب
    21. عَلِيْمٌواقف
Translation · Baseerat-e-Quran
اور بادشاہ نے کہا کہ اسے (یوسف کو) میرے پاس لاؤ۔ پھر جب بلانے والا اس کے پاس آیا تو (یوسف نے ) کہا کہ تو اپنے مالک کی طرف لوٹ جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کر لئے تھے ۔ بیشک میرا رب ان کے مکر و فریب سے اچھی طرح واقف ہے۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53 (ائتونی : میرے پاس لاؤ) ( الرسول قاصد، بھیجا گیا) ( ارجع لوٹ جا) ( اسئل پوچھ ) (مابال کیا واقعہ) ( ما خطبکن تم کیا کہتی ہو ) (سوء برائی) ( آلئن اب) ( حصحص ظاہر ہوگیا ) (لم اخن میں نے خیانت نہیں کی) ( لایھدی وہ ہدایت نہیں دیتا) ( الخائنین خیانت کرنے والے) ( ما ابرئی میں بری نہیں کرتا) ( امارۃ حکم دینے والا ) (رحم ربی میرے رب نے رحم کردیا) تشریح آیت نمبر 50 تا 53 گزشتہ آیات میں تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا تھا کہ جب بادشاہ کا ساقی حضرت یوسف کے پاس بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر پوچھنے گیا تو حضرت یوسف نے نہ صرف خواب کی وہ تعبیر بتائی جس سے بادشاہ کی دلی بےچینی دور ہوگئی بلکہ شدید قحط پڑنے کی صورت میں کیا کیا جائے اس کی تدبیر بھی ارشاد فرما دی۔ بادشاہ مصر حضرت یوسف کے علمی مقام اور ذہانت کو نس کر حیران رہ گیا اور ان سے ملنے کا اشتیاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کو میرے پاس لاؤ تاکہ ان سے مل کر مزید باتیں اور مشورے کرسکوں۔ بادشاہ نے اس کام کے لئے جس قاصد کو بھجیا تھا حضرت یوسف نے اس سے فرمایا کہ میں اس وقت تک قید سے باہر نہیں آؤں گا جب تک میری بےگناہی ثابت نہیں ہوجاتی۔ ان عورتوں سے بلا کر پوچھا جائے جنہوں نے حیرت اور محویت کے عالم میں مجھے دیکھ کر اپنی انگلیاں زخمی کرلی تھیں۔ آپ نے یہ بھی فرما دیا کہ میرا رب تو ان حالات اور سچائی کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان عورتوں نے کیا فریب کیا اور کس طرح انہوں نے مجھے بےگناہ ہونے کے بوجود اس قید خانے تک پہنچا دیا تھا۔ اس موقع پر حضرت یوسف زلیخا کا نام لے کر کہہ سکتے تھے کہ یہ ساری شرارت عزیز مصر کی بیوی زلیخا کی ہے جس نے کمرے کے دروازے بند کر کے ان کو گناہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور پھر بدنامگی سے بچنے کے لئے حضرت یوسف جیسے پکا باز انسان پر تہمت لگانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں بیگمات مصر نے طعنے دینے شروع کئے اور زلیخا نے سب بیگمات کو دعوت دے کر بلایا جس میں وہ حضرت یوسف کو دیکھ کر ان کے حسن جمال سے اتنی متاثر ہوئیں کہ پھل کاٹتے کاٹتے انگلیاں زخمی کر بیٹھیں اور محویت کے عالم میں ان کو پتہ ہی نہیں چلا کہ ان کی انگلیوں سے خون بہہ رہا ہے۔ حضرت یوسف نے ان بیگمات کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا تاکہ عزیز مصر اور اس کی بیوی کا براہ راست نام نہ لیا جائے کیونکہ عزیز مصر نے حضرت یوسف کے ساتھ بہت شریفانہ برتاؤ کیا تھا۔ اس احسان کو مان کر عزیز مصر کی رسوائی کا خیال کر کے مصر کی بیگمات کا ذکر فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص پر کسی کا احسان ہو اس کو اس شخص کی عزت و آبرو کا خیال رکھنا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف نے قید سے اس وقت تک رہا ہونے سے انکار کردیا جب تک ان کی پوزیشن صاف نہ ہوجائے۔ بادشاہ مصر نے زلیخا کو اور ان تمام بیگمات کو طلب کرلیا۔ سب بیگمات اور زلیخا کے آنے کے بعد بادشاہ نے صرف اتنا سوال کیا کہ جب تم نے یوسف کو اپنے نفس کی طرف مائل کرنا چاہا تو تم نے ان کو کیسا پایا ؟ سچ تو سچ ہوتا ہے سب بیگمات نے ایک زبان ہو کر کہا کہ اللہ کی قسم ہم نے ان میں بدنیتی اور بدچلنی کا شائبہ تک نہیں پایا۔ یعنی وہ بےقصور، نیک ، پرہیز گار اور اعلیٰ ترین کردار کے مالک ہیں۔ تمام عورتوں کی گواہی کے بعد زلیخا اس تصور سے شرم و ندامت سے زمین میں گڑ گئی کہ یوسف کتنے بلند کردار اور اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں کہ انہوں نے زلیخا کا نام تک نہیں لیا۔ وہ چلا اٹھی کہ اب سچائی کھل کر سامنے آگئی ہے تو میں سب کے سامنے اس بات کا اقرار کرتی ہوں کہ یوسف بالکل بےگناہ ہیں۔ میں نے ہی ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا مگر انہوں نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ واقعی یوسف سچائی کا پیکر ہیں۔ جب حضرت یوسف کے بےگناہ ہونے کی تمام گواہیاں سامنے آگئیں تو اس موقع پر حضرت یوسف نے کسی فخر و غرور کا مظاہرہ نہیں فرمایا بلکہ نہایت عاجزی سے دو باتیں فرمائیں۔ 1) پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے یہ سب کچھ اس لئے کیا ہے تاکہ عزیز مصر کو اس بات کا پختہ یقین ہوجائے کہ اس کی غیر حاضری میں، میں نے اس کی امانت میں خیانت نہیں کی یعنی اس کی آبرو کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا بلکہ اپنے محسن کی عزت و آبرو کا پورا پورا احترام کیا۔ اس موقع پر یہ اصول بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کبھی راہ ہدایت عطا نہیں فرماتا جو مکر و فریب کے جال بن کر خیانت و بد دیانتی کرتے ہیں۔ 2) دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ ” نفس “ تو ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اگر پروردگار کا رحم و کرم نہ ہو تو کوئی بھی انسان نفس کی شرارتوں سے بچ نہیں سکتا۔ گویا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ اللہ نے جس امتحان سے مجھے گذار کر سرخ رو فرمایا ہے اس میں میرا ذاتی کمال نہیں ہے بکلہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم ہے۔ اگر اس کا رحم و کرم نہ ہوتا تو میرا نفس بھی مجھے لے ڈوبتا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سبحان اللہ کتنی اعلیٰ ظرفی اور کردار کی بلندی کی بات ہے کہ اتنے بڑے کارنامے پر دنیا داروں کی طرح فخر اور ذاتی بڑائی نہیں کی ہے بلکہ اس کی نسبت اللہ کی طرف کر کے اپنی انتہائی عاجزی و انکساری کا اظہار فرما رہے ہیں۔ یہی شان پیغمبری اور ان کا اسوہ حسنہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسی طرح عاجزی و انکساری کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)