Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 54

  1. وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ﴿54﴾

    1. وَقَالَاور کہا
    2. الْمَلِكُبادشاہ
    3. ائْتُوْنِيْلے آؤ میرے پاس
    4. بِهٖٓاس کو
    5. اَسْتَخْلِصْهُاس کو خاص کروں
    6. لِنَفْسِيْاپنی ذات کے لیے
    7. فَلَمَّاپھر جب
    8. كَلَّمَهٗاس سے بات کی
    9. قَالَاس نے کہا
    10. اِنَّكَبیشک تم
    11. الْيَوْمَآج
    12. لَدَيْنَاہمارے پاس
    13. مَكِيْنٌباوقار
    14. اَمِيْنٌامین
Translation · Baseerat-e-Quran
اور بادشاہ نے کہا کہ اس کو (یوسف کو) میرے پاس لاؤ تکاہ میں اس کو اپنے لئے خاص کرلوں۔ پھر جب بادشاہ نے اس سے باتیں کیں تو اس نے کہا کہ تم میرے نزدیک بڑے معجزز اور معتبر ہو۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 57 (کلم کلام کیا، بات کی) ( لدینا ہمارے پاس ) (مکین معزز، باعزت ) (امین معتبر، ایماندار، امانت دار) ( اجعلنی مجھے بنا دے ) (خزائن خزانے ) (حفیظ حفاظت کرنے والا، محافظ ) (علیم بہت جاننے والا) ( مکنا ہم نے ٹھکانا دیا، جما دیا ) (یتنبوء وہ ٹھکانا بتاتا ہے، با اختیار بناتا ہے) ( نصیب ہم پہنچاتے ہیں) ( لانضیع ہم ضائع نہیں کرتے) ( اجر اجر خیر زیادہ) تشریح آیت نمبر 54 تا 57 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں فرمایا ہے جہاں سے ان کی دنیاوی زندگی کا عروج شروع ہوتا ہے۔ یہ اس واقعہ کا اہم ترین پہلو بھی ہے مگر اس بات کو بھی ذہن میں رکھ لیجیے کہ محض ایک خواب کی تعبیر بیان کردینے اور زمین کے خزانوں (پیداوار) کی ذمہ داری قبول کرنے سے زندگی کا عروج شروع نہیں ہوا بلکہ اس واقعے کے پورے پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھیے تو اس میں انسانی کردار کی وہ بلندیاں سامنے آتی ہیں جہاں ایک انسانی سچائی اور حق کے لئے ہر طرح کے مصائب اور پریشانیاں برداشت کر کے دلوں کو فتح کرلیتا ہے اور ہر شخص اس انسان کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ حضرت یوسف نے اپنی پاک دامنی کے لئے برسوں قید میں رہنا پسند کیا لیکن اس راستے پر چلنے سے صاف انکار کردیا جہاں ان کے دامن عصمت پر ایک دھبہ بھی لگ جانے کا اندیشہ تھا۔ حضرت یوسف کے اس واقعہ پر شروع سے نظر ڈالی جائے تو کردار کی یہ بلندی اور عروج کے دور کی ساری باتیں بہت آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔ 1) حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے اپنی حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ان کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا۔ پھر بعد میں مدین کے ایک قافلے والوں کے ہاتھ چند درھموں کے بدلے میں فروخت کردیا تھا اور وہ اس بات سے مطمئن تھے کہ ان کی اور ان کے والد کی محبت میں اب کوئی آڑے نہ آسکے گا۔ 2) جب مصر کے بازار میں ایک غلام کی حیثیت سے ان کو فروخت کیا گیا تو ان کے ظاہری چہرے اور شخصیت کی یہ عظمت ہے کہ عام غلاموں کی طرح ان کی قیمت نہیں لگائی گئی جو اس بازار میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں فروخت کئے جاتے تھے بلکہ خریدنے والوں کے مقابلے کا یہ حال تھا کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی لگا رہے تھے۔ بالاخر حضرت یوسف کے وزن کے برابر سونا اور مشک کے بدلے ملک کے وزیر اعظم اور فوجوں کے سپہ سالار عزیز مصر نے خرید کر ان کو اپنے گھر میں بیٹوں کی طرح رکھا۔ اس واقعہ نے آپ کی شہرت کو پورے ملک میں پہنچا دیا اور یقینا گھر گھر میں اس کا چرچا اور شہرت پہنچ گئی ہوگی۔ 3) جب حضرت یوسف نے جوانی میں قدم رکھا اور ان کا حسن و جمال پوری نکھر کر سامنے آگیا تو عزیز مصر کی بیوی اپنے دل پر قابو نہ رکھ کسی اور ایک دن اس نے اپنے کسی خصوصی کمرے میں بلا کر دروازے بند کر لئے اور ان کو اپنی خواہش نفس کی طرف بلایا۔ حضرت یوسف کی اللہ نے مدد فرمائی اور وہ اس کی نیت اور ارادے کو بھانپ کر دروازے کی طرف دوڑے اللہ نے ہر دروازے کو اور ہر راستے کو ان کے لئے کھول دیا۔ زلیخا آپ کے پیچھے دوڑی۔ باہر کے دروازے پر عزیز مصر نے اس کیفیت کو دیکھا۔ زلیخا نے حضرت یوسف پر الٹا الزام لگا دیا کہ اے عزیز مصر ! اس غلام نے تیری بیوی کی آبرو پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ جیسا کہ گزشتہ آیات میں اس کی تفصیل آ چکی ہے کہ جب عزیز مصر کے سامنے ساری حقیقت کھل گئی تو وہ اس چال کو سمجھ گیا اور اس نے زلیخا سے کہا کہ مجھے عورتوں کے اس مکروہ فریب کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ عزیز مصر نے حضرت یوسف سے اپنی عزت کی خاطر یہ کہا کہ اے یوسف تم اس واقعہ کو نظر انداز کر دو میں ساری بات سمجھ گیا ہوں تم اس کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ لیکن یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو شاہی محل سے نکل کر مصر کے ہر گھر میں پہنچ گیا اور اس کی اچھی خاصی شہرت ہوگئی۔ 4) جب یہ واقعہ ملک میں ہر جگہ مشہور ہوگیا تو مصر کی عورتوں نے یہ طعنے دینے شروع کردیئے کہ عزیز مصر کی بیوی کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے غلام پر جان دے رہی ہے۔ زلیخا نے یہ سنا تو مصر کی تمام بیگمات کو اپنے گھر بلا کر زبردست دعوت کا انتظام و اہتمام کیا۔ اس زمانہ کی تہذیب کے مطابق فرش بچھا کر تکئے لگا دیئے۔ گئے سب کے سامنے ایسے پھل رکھ دیئے گئے جو چاقو سے کاٹ کر کھائے جاتے ہیں۔ سب نے پھل ہاتھ میں لے کر کھانے کے لئے کاٹنے شروع کئے ادھر حضرت یوسف کو اچانک سامنے لایا گیا۔ حضرت یوسف کے حسن و جمال کو دیکھ کر یہ بیگمات مصر اس قدر کھو گئیں کہ ان کے ہاتھ چاقوؤں سے زخمی ہوگئے، خون رسنے لگا اور ان کو پتہ ہی نہ چلا اور وہ کہہ اٹھیں کہ یہ انسان نہیں کوئی بہت ہی معزز فرشتہ ہیں۔ الیخا کی یہی خواہش تھی کہ مصر کی ہر عورت اس بات کو اچھی طرح جان لے کہ اگر وہ ان پر فدا وہ گئی ہے تو اس کے دل کا کوئی قصور نہیں ہے۔ 5) حضرت یوسف ، زلیخا اور بیگمات مصر کی خواہش بھری نظروں کو اچھی طرح محسوس کر رہے تھے۔ ایک دن انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر عرض کردیا۔ الٰہی ! یہ عورتیں مجھے جس طرف لے جانا چاہتی ہیں اس سے مجھے بچا لے۔ اگر اس کے بدلے مجھے قید کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں تو وہ مجھے زیادہ پسند ہیں۔ 6) جب زلیخا کی دعوت میں آئی ہوئی بیگمات مصر بھی حضرت یوسف کے حسن و جمال کے سامنے بےبس سی ہوگئیں اور وہ دل و جان سے قربان ہوگئیں اور ان کے حسن و جمال اور زلیخا کی محبت کے چرچے گھر گھر ہونے لگے تو عزیز مصر نے بدنامی سے بچنے کے لئے حضرت یوسف کو جیل بھیج دیا۔ 7) جیل خانے میں حضرت یوسف نے تمام قیدیوں کے ساتھ جو حسن سلوک کیا اور ہر ایک کی خبر گریی کی تو اس قید خانے کے منتظم اعلیٰ نے قید خانے کے سارے انتظامات ان کے حوالے کردیئے۔ حضرت یوسف کے حسن انتظام اور کردار کی بلندی کی شہرت بھی آہستہ آہستہ پھیلتی چلی جا رہی تھی۔ 8) ایک دن دو قیدی لائے گئے جن میں سے ایک بادشاہ کا باورچی تھا دوسرا ساقی تھا جو بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر تھا۔ دونوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دے کر مارنے کی کوشش کی ہے۔ تحقیقات جاری تھیں اور اس عرصے میں ان کو قید کردیا گیا تھا تاکہ پوری تحقیق کرلی جائے اور کوئی فیصلہ کردیا جائے۔ حضرت یوسف نے ان دونوں کے ساتھ بھی حسن سلوک فرمایا۔ یہ دونوں قیدی نے خواب دیکھے۔ حضرت یوسف نے ان کو جو تعبیر دی وہ اسی طرح پوری ہو کر رہی کہ ایک کو پھانسی کی سزا ہوگئی اور دوسرے کو جو بادشاہ کا ساقی تھا اس کو بےگناہ قرار دے کر رہا کردیا گیا۔ وہ شخص جو بادشاہ کا ساقی تھا اور رہا کردیا گیا تھا حضرت یوسف نے اس سے کہا کہ بادشاہ کو یاد دلا دینا یعنی یہ کہ ایک شخص جو بےگناہ ہے اور عرصہ سے قید خانے میں پڑا ہوا ہے اس کا خیال کیا جائے۔ جب وہ ساقی رہا ہو کہ اپنی نوکری پر بحال ہوگیا تو وہ اس بات کو بھول گیا کہ وہ بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر کرے تاکہ وہ بھی رہا ہوجائیں۔ 9) ایک رات بادشاہ مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں ان کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیں ہیں جن پر سات سوکھی بالیں لپٹی ہوئی ہیں۔ صبح کو اٹھ کر اس نے اپنے دربار کے تمام کاہنوں سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔ کسی نے کچھ بتایا کسی نے کچھ اور بعض نے تو اس کو محض تصوراتی اور خیالی خواب بتا کر اس کی تعبیر سے عذر کردیا۔ اس موقع پر بادشاہ کے اس ساقی نے جس کو حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بتائی تھی اس کو خیال آیا کہ اس خواب کی تعبیر حضرت یوسف ہی بتا سکتے ہیں اس نے بادشاہ سے کہا کہ اگر مجھے قید خانے میں جانے کی اجازت دی تو میں ایسے شخص سے واقف ہوں جس کو اللہ نے خوابوں کی تعبیر کا خاص علم عطا فرمایا ہے۔ وہ شخص قید خانے میں حضرت یوسف کے پاس پہنچا اور اس نے اس خواب کی تعبیر پوچھی حضرت یوسف نے فرمایا کہ اس خواب کی اہمیت یہ ہے کہ است سال تک خوب پیداوار ہوگی پھر خشک سالی کے سات سال ہیں۔ اس کے بعد اس خشک سالی سے بچنے کی ایک تدبیر ارشاد فرمائی۔ حالانکہ اس تدبیر سے اس خواب کا تعلق نہیں تھا لیکن حضرت یوسف نے حسن تدبیر بتا کر اپنی ذہانت کا مظاہرہ فرمایا۔ خواب کی اس تعبیر سے بادشاہ کو نہ صرف اطمینان ہوا بلکہ حضرت یوسف کے علم و فضل کا پوری طرح اندازہ ہوگیا۔ بادشاہ نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں ایسی شخصیت سے ملنا چاہتا ہوں تاکہ ایسے باصلاحیت انسان کو اپنے سے قریب کر کے ملک کے لئے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ 10) بادشاہ مصر نے ایک قاصد بھیجا جس نے بادشاہ کی اس خواہش کا اظہار کیا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ اس موقع پر حضرت یوسف نے یہ کہہ کر رہا ہونے سے صاف انکار کردیا کہ جب تک یہ بات صاف نہیں ہوجاتی کہ مجھے اتنے عرصے کیوں قید میں رکھا گیا۔ پہلے ان تمام عورتوں کو بلا کر اس سے پوچھا جائے جنہوں نے حضرت یوسف کو دیکھ کر اپنی انگلیاں زخمی کرلی تھیں بادشاہ نے زلیخا اور مصر کی ان تمام بیگمات کو طلب کر کے ان سے اصل واقعہ بیان کرنے کا حکم دیا۔ زلیخا اور تمام بیگمات مصر نے اس بات کا اعتراف واقرار کیا کہ حضرت یوسف قطعاً بےگنا ہیں۔ ہم نے ان کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر ان کا دامن عصمت بالکل پاک ہے۔ اس واقعہ نے بادشاہ کے دل میں حضرت یوسف کے اعلیٰ کردار ، تقویٰ و پرہیزگاری کی عظمت کو اور بھی اجاگر کردیا اور وہ ان سے ملنے کے لئے بےچین ہوگیا۔ جب حضرت یوسف بادشاہ کے پاس پہنچے تو اس نے یہ محسوس کیا کہ اللہ نے ان کو جتنا ظاہری حسن عطا فرمایا ہے اس سے کہیں زیادہ ان کو کردار کی بلندی عطا فرمائی ہے۔ اس خواب کے حوالے سے بادشاہ نے یہ پوچھا کہ اگر یہ قحط نازل ہوتا ہے تو اس سے بچنے کی تدبیر کیا ہے یقینا اس موقع پر بادشاہ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہوگا۔ کہ اگر اس کی ذمہ داری ان پر ڈال دی جائے تو یقینا دو قحط سے بچنے کی بہتر تدبیر کرس کتے ہیں۔ اس کے پوچھنے پر حضرت یوسف کے لئے دنیاوی عروج تک پہنچنے کے تمام انتظامات فرما دیئے۔ حضرت یوسف نے ایسے اعلیٰ انتظامات کئے کہ بادشاہ اور پوری مملکت کا ہر فرد آپ کے حسن انتظام ذہانت اور امانت کا قائل ہوگیا۔ روایات میں آتا ہے کہ ان کے اس اعلیٰ کردار اور حسن انتظام کو دیکھ کر بادشاہ گوشہ نشین ہوگیا اور حضرت یوسف پوری مملکت کے بادشاہ بن گئے جب حضرت یوسف مصر پہنچے تھے اس وقت ان کی عمر سات سال کی تھی اور جب وہ مصر کے سربراہ بنے ہیں اس وقت ان کی عمر مبارک تیس سال تھی۔ گویا اللہ نے تئیس سال میں ایک ایسے نوجوان کو جو کبھی نہایت غربت کے عالم میں مصر کے بازار میں ایک غلام کی حیثیت سے فروخت کیا گیا تھا۔ تئیس سال میں اپنے کردار کی ان بلندیوں پر پہنچا دیا تھا جہاں ہر شخص ان کے اخلاق و کردار کا غلام بن چکا تھا۔ جیسا کہ سورة یوسف کی تفسیر کی ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت یوسف کے حالات زندگی میں بہت مشابہت ہے تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ حضرت یوسف کو بھی تمام مرحلوں سے گذرنے میں تئیس سال لگے اور قرآن کریم کی تعلیمات کی تکمیل میں بھی تئیس سال لگے۔ ان آیات میں کفار مکہ کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو دنیاوی عروج کی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔ آج مکہ میں حضور اکرم ﷺ جو باظہر بےسرو سامان ہیں اسی طرح ان کو بھی تئیس سال میں دنیاوی عروج و سربلندی حاصل ہوجائے گی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حضرت یوسف کی حکومت ان کی زندگی تک محدود تھی لیکن نبی کریم ﷺ کے کردار اور سیرت کی بلندی کا سلسلہ قیامت تک جار ری ہے گا اور آپ قیامت میں اپنی امت ہی کے نہیں بلکہ ساری امتوں کی گواہی دے کر ان کے بھی کام آئیں گے۔ نبی کریم ﷺ اس لئے سرور کونین ہیں کہ اس دنیا اور آخرت میں آپ کی رحمت ہی کام آئے گی۔ وما ارسلنک الارحمۃ للعالمین