بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 58
وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ﴿58﴾
- وَجَآءَاور آئے
- اِخْوَةُبھائی
- يُوْسُفَیوسف
- فَدَخَلُوْاپس وہ داخل ہوئے
- عَلَيْهِاس کے پاس
- فَعَرَفَهُمْتو اس نے انہیں پہچان لیا
- وَهُمْاور وہ
- لَهٗاس کو
- مُنْكِرُوْنَوہ نہ پہچانے
Translation · Baseerat-e-Quran
اور یوسف کے بھائی (مصر) آئے۔ پھر جب یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 61
(جآء آیا ) (اخوۃ بھائی) ( دخلوا وہ داخل ہوئے ) (عرف اس نے پہچان لیا) ( منکرون نہ پہچاننے والے) (جھز اس نے تیار کی، تیار کردیا) ( جھاز سامان) ( اوفی میں پورا دیتا ہوں) ( سنراود ہم درخواست کریں گے) ( لفعلون البتہ ضرور کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 58 تا 61
کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے حضرت یوسف کا واقعہ اور وہ سب معلوم کیا تھا جس کی بنا پر حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور ان کے اہل خاندان فلسطین سے مصر پہنچ کر وہاں آباد ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت یوسف کا واقعہ اور ان اسباب کا ذکر فرمایا ہے کہ جب یہ خاندان جو بنی اسرائیل کہلاتا تھا ہجرت کر کے مصر پہنچا۔ ان آیات میں صرف اس واقعہ کو ہی بیان نہیں کیا گیا بلکہ نصیحت کے لاتعداد پہلوؤں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو فکر کی راہوں کو کھول دیتا ہے۔
جب حضرت یوسف پوری مملکت مصر کے بادشاہ بنا دیئے گئے تو حضرت یوسف نے شان پیغمبری اور عدل و انصاف کی ایسی بےمثال حکومت قائم کی جس سیپ ورے علاقے میں خوش حالی اور ترقی شروع ہوگئی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یوسف نے حکم جاری فرما دیا کہ جب تک ملک بھر میں شدید ترین قحط ہے گھر میں ایک وقت کا کھانے پکایا جائے۔ چناچہ نہایت سادگی سے ایک وقت میں ایک سالن پکایا جاتا تھا۔ عوام تو وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے حکمران کو دیکھتے ہیں چناچہ مملکت کا ہر شخص بھوک پریشانی اور بد حالی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ جب پہلے سات سال خوش حالی کے تھے اس میں قحط سالی کے سات سالوں کی فکر کر کے بچت کی گئی اور بیشمار غلہ کا ذخیرہ کرلیا گیا۔ جب قحط کا زمانہ شروع ہوا ہوا تو پوری معلوم دنیا کو قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر شخص پریشان ہوگیا لیکن مصر کی سلطنت میں معمولی سی پریشانیوں کیساتھ خوش حالی برقرار رہی۔ قحط کے زمانہ میں مصر کی خوش حالی کی اطلاع جب آس پاس کے ملکوں میں پھیل گئی اور بادشاہ کی نرم دلی اور حسن اخلاق کے چرچے ہونے لگے تو حضرت یوسف کے بھائی بھی فلسطین سے مصر آگ ئیا ور بادشاہ سے درخواست کی کہ ہمیں بھی غلہ دیا جائے تاکہ اس شدید قحط سے بچا سکے۔ حضرت یوسف نے نہ صرف ان میں سے ہر ایک کو اونٹ بھر غلہ دیا بلکہ ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی۔ جیسے ہی یہ بھائی حضرت یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا لیکن ان کے بھائیوں نے حضرت یوسف کو نہیں پہچانا کیونکہ ان کے تو ذہن اور خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ وہ ننھے منے یوسف جن کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینکا گیا تھا وہ چند برسوں میں اس ملک کے بادشاہ بن گئے ہوں گے۔ پھر یہ کہ بچپن اور جوانی کی عمر میں چہروں میں بھی فرق آجاتا ہے شاید اس لئے بھی وہ حضر یوسف کو نہ پہچان سکے ہوں غرضیکہ حضرت یوسف نے شان پیغمبری کا مطاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ان کی خبر گیری کی بلکہ نہایت فیاضی، سخاوت اور حسن اخلاق کا مظاہرہ فرماتے ہوئے ان کے اونٹوں پر غلہ لدوادیا گیا۔ شاید ان کے بھائیوں کی زبان سے نکل گیا ہو کہ ہمارے والد اور ایک بھائی بھی ہیں جو اس وقت نہ آسکے لہٰذا ان کے حصے کا غلہ بھی دیدیا جائے۔ اس پر حضرت یوسف نے فرمایا کہ جب تم دوبارہ غلہ لینے آؤ تو اپنے بھائی کو ضرور ساتھ لانا۔ تاکہ اس کی تصدیق ہوجائے کہ واقعی تمہارا کوئی اور بھائی ھبی ہے۔ والد تو چونکہ ضعیف اور کمزور ہیں لیکن بھائی تو آسکتا ہے اس کو ضرور لے کر آنا۔ اگر تم اس بھائی کو نہیں لائے تو پھر تم بھی مت آنا کیونکہ جھوٹ بولنے والے مجھے پسند نہیں ہیں یہ بات ان بھائیوں کیلئے بڑے امتحان کی تھی کہ اگر وہ اپنے بھائی بن یا مین کو نہیں لائے تو آئندہ غلہ لینے کا سلسلہ بند ہوجائے گا اور اگر والد صاحب سے بن یا مین کے لئے اجازت لیتے ہیں تو وہ حضرت یوسف کا زخم کھائے ہوئے ہیں ان بھائیوں پر اعتماد نہیں کریں گے۔ اس لئے ان بھائیوں نے صرف اتنا کہا کہ ہم یہ ضرور کریں گے لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب ہمارے والد اس کی اجازت دیں گے۔ اگر انہوں نے نہ دی تو پھر ہم کچھ نہ کرسکیں گے۔ اس کی بقیہ تفصیل آنے والی آیات میں بیان کی جائے گی۔ اس موقع پر بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر حضرت یوسف چاہتے تو اپنے حال کی اطلاع اپنے والد کو کرا سکتے تھے۔ کسی کے ذریعہ کہلا سکتے تھے پھر کیا وجہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے والد، والدہ اور گھر والوں کو اطلاع نہیں دی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے موجودہ دور میں ہمیں اطلاعات کے بہت سے ذرائع حاصل ہیں اس زمانہ میں نہیں تھے۔ دوسرے یہ کہ اگر تمام روایات پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے آپ کو اتنا وقت ہی نہیں ملا کہ آپ اس مسئلہ پر غور فرماتے وجہ اس کی یہ ہے جب آپ سات سال کے تھے اس وقت بھائیوں نے ان کو ایک غلام کی حیثیت سے مدین کے قافلے والوں کے ہاتھ فروخت کردیا تھا۔ مصر میں عزیز مصر کے گھر رہے ۔ بھری جوانی میں آپ کو نو سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا۔ رہا ہوئے تو قحط کے حالات نے آپ کو دن رات مصروف کردیا اور آپ نے انتھک محنت سے ان حالات کو سنبھالا۔ بادشاہ بننے کے بعد اس کی شدید ترین ذمہ داریاں آپ کے سر آپڑیں۔ اگر غور کیا جائے تو اس عرصہ میں آپ کو اطلاع کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ نہیں آیا۔ دوسرے یہ کہ حضرت یوسف محض ایک بادشاہ ہی نہیں بلکہ اللہ کے نبی بھی ہیں اور انبیاء کرام کے تمام معاملات کو اللہ جس طرح حل فرمانا چاہتے ہیں فرماتے ہیں۔ ممکن ہے اس طرح کی اطلاع اللہ کی مصلحت کے خلاف ہو اور اللہ نے حضرت یوسف کو اس طرف متوجہ ہی نہ ہونے دیا ہو۔ بہرحال اس معاملہ کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔