Surah Introduction

بصیرتِ قرآن

Baseerat-e-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 136

  1. وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ﴿136﴾

    1. وَجَعَلُوْااور انہوں نے ٹھہرایا
    2. لِلّٰهِاللہ کیلئے
    3. مِمَّااس سے جو
    4. ذَرَاَاس نے پیدا کیا
    5. مِنَ الْحَرْثِکھیتی سے
    6. وَالْاَنْعَامِاور مویشی
    7. نَصِيْبًاایک حصہ
    8. فَقَالُوْاپس انہوں نے کہا
    9. ھٰذَایہ
    10. لِلّٰهِاللہ کیلئے
    11. بِزَعْمِهِمْاپنے خیال میں
    12. وَھٰذَااور یہ
    13. لِشُرَكَآئِنَاہمارے شریکوں کے لیے
    14. فَمَاپس جو
    15. كَانَہے
    16. لِشُرَكَآئِهِمْان کے شریکوں کے لیے
    17. فَلَاتو نہیں
    18. يَصِلُپہنچتا
    19. اِلَىطرف۔ کو
    20. اللّٰهِاللہ
    21. وَمَااور جو
    22. كَانَہے
    23. لِلّٰهِاللہ کیلئے
    24. فَهُوَتو وہ
    25. يَصِلُپہنچتا ہے
    26. اِلٰيطرف (کو)
    27. شُرَكَآئِهِمْان کے شریک
    28. سَآءَبرا ہے
    29. مَا يَحْكُمُوْنَجو وہ فیصلہ کرتے ہیں
Translation · Baseerat-e-Quran
اور یہ لوگ اللہ کے لئے ایک حصہ خود اسی کی پیدا کی ہوئی کیتیوں اور مویشیوں میں سے مقرر کرتے ہیں۔ پھر اپنے ذہن اور ظن سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا حصہ ہے اور یہ ہمارے بنائے ہوئے معبودوں کا حصہ ہے۔ لطف یہ ہے کہ جو حصہ ان کے بنائے ہوئے شرکاء کا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا۔ اور جو حصہ اللہ کے لئے ہے وہ ان کے بنائے ہوئے شرکاء کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن : آیت نمبر 136 : ذرا (اس نے پھیلایا) الحرث ( کھیتی) الانعام ( مویشی) نصیب (حصہ) لایصل (نہیں پہنچتا ہے) یحکمون ( وہ فیصلہ کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 136 : مشرکین عرب کھیتی اور باغ کی پیدا وار اور مویشیوں میں سے ہر سال چند حصے الگ کرلیتے۔ ایک حصہ اپنے گھر یلو استعمال کے لئے۔ ایک حصہ بت خانہ کے پجاریوں اور نگہبانوں کے لئے۔ ایک حصہ اللہ کے لئے جو غربا اور مساکین پر خرچ کرتے۔ حصوں کی تقسیم کے بعد بھی وہ اللہ کے حصے میں سے تھوڑا تھوڑا وقتاً فوقتاً کاٹتے رہتے اور اپنے یا پجاریوں کے حصے میں ملا دیا کرتے تھے۔ نیز اگر کسی وقت اتفاق سے اللہ کے لئے مختص کئے ہوئے حصوں میں سے کوئی حصہ اپنے یا بتوں کے حصے میں مل جاتا تو اس کو اسی طرح ملارہنے دیتے اور اس کے لئے یہ جواز ڈھونڈتے کہ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز ہے اس کے حصوں میں سے اگر کوئی حصہ کم ہوجائے گا تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ فرمایا جارہا ہے کہ سارے کا سارا حق اللہ کا ہے۔ کوئی شریک نہیں۔ تقسیم کا حق اسی کو پہنچتا ہے۔ شارع وہی ہے۔ گھر ‘ دفتر ‘ دکان وغیرہ کے لئے جو وقت اور توجہ کا حصہ ہے۔ وہ اسی کی شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی کو خود ہی شارع بن جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اور لطف یہ کہ انہوں نے معبود ان باطل ٹھہرارکھے ہیں اور ان کے نام پر پجاریوں اور پروہتوں کو نذر و نیاز دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد جو وہ نیم دلی سے تھوڑا بہت خیرات پر خرچ کرتے ہیں وہ کوئی نیکی نہیں ہے۔
Baseerat-e-Quran - 6 : 136