تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 57. Al-Hadid · Ayah 27

  1. ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴿27﴾

    1. ثُمَّپھر
    2. قَفَّيْنَاپے در پے بھیجے ہم نے
    3. عَلٰٓي اٰثَارِهِمْان کے آثار پر
    4. بِرُسُلِنَااپنے رسول
    5. وَقَفَّيْنَااور پیچھے بھیجا ہم نے
    6. بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَعیسیٰ ابن مریم کو
    7. وَاٰتَيْنٰهُاور عطا کی ہم نے اس کو
    8. الْاِنْجِيْلَانجیل
    9. وَجَعَلْنَااور ڈال دیا ہم نے
    10. فِيْ قُلُوْبِدلوں میں
    11. الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُان لوگوں کے جنہوں نے پیروی کی اس کی
    12. رَاْفَةًشفقت کو
    13. وَّرَحْمَةً ۭاور رحمت کو
    14. وَرَهْبَانِيَّةَۨاور رہبانیت
    15. ابْتَدَعُوْهَاانہوں نے ایجاد کیا اس کو
    16. مَا كَتَبْنٰهَانہیں فرض کیا تھا ہم نے اس کو
    17. عَلَيْهِمْان پر
    18. اِلَّا ابْتِغَآءَمگر تلاش کرنے کو
    19. رِضْوَانِرضا
    20. اللّٰهِاللہ کی
    21. فَمَا رَعَوْهَاتو نہیں انہوں نے رعایت کی اس کی
    22. حَقَّ رِعَايَتِهَا ۚجیسے حق تھا اس کی رعایت کا۔ نگہبانی کا۔ پابندی کا
    23. فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَتو دیا ہم نے ان لوگوں کو
    24. اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
    25. مِنْهُمْان میں سے
    26. اَجْرَهُمْ ۚان کا اجر
    27. وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْاور بہت سے ان میں سے
    28. فٰسِقُوْنَفاسق ہیں
Translation · Dure-Mansoor
پھر ہم نے ان کے بعد دوسرے رسولوں کو یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا، اور ہم نے ان کو انجیل دی، اور جن لوگوں نے ان کا اتباع کیا تھا، ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور ترحم پیدا کیا، اور انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کرلیا، ہم نے ان پر اس کو واجب نہ کیا تھا لیکن انہوں نے حق تعالیٰ کی رضا کے واسطے اس کو اختیار کیا تھا، سو انہوں نے اس کی پوری رعایت کی، سو ان میں سے جو لوگ ایمان لائے، ہم نے ان کو ان کا اجر دیا اور ان میں زیادہ نافرمان ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
عبادت میں میانہ روی اختیار کرنا 7۔ ابو یعلی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی نہ کرو۔ پھر تم پر سختی کی جائے گی۔ پہلے ایک قوم نے اپنے اوپر سختی کی تو ان پر سختی کی گئی یہ گرجے گھروں میں اور راہب خانوں میں ان کی باقیات ہیں آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا ما کتبناہا علیہم۔ 8۔ البیہقی نے شعب میں سہل بن ابی امامہ بن سہل بن جبیر سے روایت کیا اور وہ اپنے باپ داد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوں پر سختی نہ کرو کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے تھے وہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ اور ان کے باقی لوگوں کو گرجے گھروں میں اور راہب خانوں میں عنقریب تم پاؤ گے۔ 9۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن مردویہ وابن نصر نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کے مہینے کے روزے فرض کردئیے ہیں۔ اور اس کا قیام تم پر فرض نہیں کیا۔ اور بلاشبہ قیام وہ چیز ہے جس کا آغاز تم نے کیا پم ایس پر دوام یعنی ہمیشگی اختیار کرو اور اس کو نہ چھوڑو بلاشبہ بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں نے ایک بدعت نیا کام شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے چھوڑنے پر ان کو عیب لگایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا۔ 10۔ احمد والحکیم الترمذی فی نوادر الاصول وابویعلی والبیہقی نے الشعب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر امت کے لیے رہبانیت یعنی دنیا سے قطع تعلقی ہے اور اس امت کی رہبانیت اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔ 11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ورہبانیۃ ابتدعوہا کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ انہوں نے عورتوں کو چھوڑدیا تھا اور گرجے گھر بنالیے۔