تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 1
قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿1﴾
- قَدْ سَمِعَیقیناً سن لی
- اللّٰهُاللہ نے
- قَوْلَبات
- الَّتِيْوہ عورت جو
- تُجَادِلُكَآپ سے بحث کرتی تھی
- فِيْ زَوْجِهَااپنے خاند کے بارے میں
- وَتَشْتَكِيْٓاور شکایت کرتی تھی
- اِلَى اللّٰهِاللہ کی طرف
- وَاللّٰهُاور اللہ
- يَسْمَعُسنتا تھا
- تَحَاوُرَكُمَا ۭتم دونوں کی گفتگو
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- سَمِيْعٌۢسننے والا
- بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Dure-Mansoor
یقیناً اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو آپ سے جھگڑ رہی تھی اپنے شوہر کے بارے میں اور شکایت کر رہی تھی اللہ سے اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو سن رہے تھے یقیناً اللہ تعالیٰ سننے والے دیکھنے والے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن الضریس والنحاس وابو الشیخ نے الفضہ میں والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة مجادلہ مدینہ
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ واللہ اعلم
1۔ سعید بن منصور والبخاری تعلیقاً وعبد بن حمید والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سب تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں کہ اس کی سماعت تمام آوازوں کو وسیع ہے یعنی اس کی قوت سماعت تمام آوازوں کو محیط ہے۔ ایک جھگڑا کرنے والی عورت نبی ﷺ کے پاس آکر باتیں کرنے لگی اور میں گھر کے ایک کونے میں تھی۔ جو وہ کہہ رہی تھی میں اس کو نہیں سن رہی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے جھگڑ رہی تھی۔ آیت کے آخرتک۔
2۔ ابن ماجہ وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے حضرت عائشہ ؓ عنا سے روایت کیا کہ وہ ذات بڑی برکتوں والی ہے جس کی قوت سماعت ہر چیز کو محیط ہے بلاشبہ میں خولہ بنت ثعلبہ کی بات کو سن رہی تھی۔ اور اس کی بعض باتیں مجھ پر پوشیدہ رہیں کہ میں ان کو نہ سن سکی اور وہ اپنے خاوند کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور وہ کہہ رہی تھی یا رسول اللہ ! اس نے میری جوانی کھالی اور میں نے اس کے لیے اپنے پیٹ کو پھیلا دیا۔ (یعنی میرے بطن سے اس کے کئی بچے پیدا ہوئے) یہاں تک کہ میں بوڑھی ہوگئی۔ اور میری اولاد جو میرے بطن سے ہوئی وہ مجھ سے کٹ گئی۔ اے اللہ میں تیری طرف شکایت کرتی ہوں وہ لگاتار باتیں کرتی رہی یہاں تک کہ جبرئیل (علیہ السلام) ان آیات کے ساتھ نازل ہوئے۔ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا اور ان کے خاوند اوس بن الصامت تھے۔
حضرت خولہ ؓ کا احترام
3۔ ابن ابی حاتم والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک عورت سے ملے۔ اس کو خولہ کہا جاتا تھا۔ اور عمر بن خطاب ؓ لوگوں کے ساتھ چل رہے تھے کہ اس نے آپ کو ٹھہرا لیا آپ اس کے لیے ٹھہر گئے اور اس سے قریب ہوگئے اس کی باتیں سننے کے لیے اس کی طرف اپنے سر کو جھکالیا اور اپنے ہاتھوں کو اس کے کندھوں پر رکھا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی ضرورت (ضروری گفتگو) کو پورا کیا اور چلی گئی ایک آدمی نے آپ سے کہا اے امیر المومنین ! قریش کے اتنے آدمی اس بڑھیا کے لیے رک گئے۔ فرمایا افسوس ہے تجھ پر کیا تو جانتا ہے یہ کون تھی ؟ کہا نہیں۔ فرمایا یہ وہ عورت ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے شکوہ کو ساتوں آسمانوں کے اوپر سے سن لیا۔ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہے اللہ کی قسم ! اگر یہ مجھ سے رات تک نہ ہٹتی میں اس سے نہ ہٹتا یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کرلیتی۔
4۔ البخاری فی تاریخہ وابن مردویہ نے ثمامہ بن حزن (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان عمر بن خطاب ؓ اپنے گدھے پر چل رہے تھے ان کو ایک عورت ملی اس نے کہا اے عمر ! ٹھہر جائیے، تو وہ ٹھہر گئے۔ تو اس عورت نے آپ سے سخت لہجہ میں بات کی۔ ایک آدمی نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے آج کی طرح نہیں دیکھا۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ مجھے کوئی نہیں روک سکتا اس کی گفتگو کی طرف توجہ کرنے سے اور یہ وہ عورت ہے کہ اس کی بات کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور اس کے بارے میں یہ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا اتاری۔
5۔ احمد وابوداوٗد وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ والبیہقی نے ایک طریق سے یوسف بن عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ مجھے خولہ بنت ثعلبہ ؓ نے بیان فرمایا اللہ کی قسم ! میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة مجادلہ کی شروع کی آیات نازل فرمائیں۔ کہنے لگیں میں اس کے پاس تھی اور وہ بوڑھا آدمی تھا جس کے اخلاق برے تھے۔ ایک دن میرے پاس آیا میں نے اسے کسی چیز کی وجہ سے واپس لوٹا دیا اور وہ غصہ ہوگیا اور کہنے لگا تو مجھ پر ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر وہ لوٹ آیا اور اپنی قوم کی مجلس میں آکر کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیا پھر وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے میری ذات کا ارادہ رکھتا تھا یعنی جماع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا میں نے کہا ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں خولہ کی جان ہے تو مجھ سے نہیں مل سکتا حالانکہ تو ایسا کہا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ اور اس رسول ہمارے درمیان فیصلہ نہ کردیں۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی آپ سے سارا واقعہ عرض کیا ابھی سلسلہ کلام جاری تھا۔ کہ قرآن نازل ہونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ پر وہ کیفیت چھا گئی جو آپ پر چھاجاتی تھی۔ پھر وہ کیفیت آپ سے جاتی رہی۔ مجھ سے فرمایا اے خولہ ! کہ تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمادیا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا سے لے کر آیت عذاب الیم تک پڑھی۔ پھر مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو یعنی اپنے خاوند کو حکم کر کہ وہ ایک غلام آزاد کرے میں نے کہا یارسول اللہ اسکے پاس کوئی غلام نہی کہ جس کو وہ آزاد کرے۔ پھر آپ نے فرمایا اس کو چاہیے کہ دو ماہ لگاتار روزے رکھے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ! وہ بوڑھا آدمی ہے روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر آپ نے فرمایا اس کو چاہیے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ایک وسق کھجور میں سے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ! وہ بھی اس کے پاس نہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم اس کی عنقریب کھجور کے ایک عرق کے ساتھ اس کی مدد کریں گی۔ میں نے کہا یارسول اللہ ! میں بھی عنقریب دوسرے عرق کے ساتھ مدد کروں گا۔ آپ نے فرمایا تو نے درست کیا اور بہت اچھا کیا پس تو چلی جا اور اس کی طرف سے صدقہ کر پھر اپنے چچا کے بیٹے کو نیکی کی نصیحت کر۔ تو میں نے ایسا ہی کیا۔
6۔ سعید بن منصوروابن مردویہ اور بیہقی نے عطاء بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ اوس بن صامت ؓ نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ سے اظہار کیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور ان کو بتایا اور اوس ؓ کو تھوڑاسا جنون بھی تھا۔ پس قرآن نازل ہوا آیت والذین یظہرون من نساۂم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبۃ من قبل ان یتماسا۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہی پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذمہ ایک غلام آزاد کرنا ہے دونوں کے باہم اختلاط کرنے سے پہلے۔ آپ نے اس کی بیوی سے فرمایا اس کو حکم کر کہ وہ ایک غلام آزاد کرے۔ اس نے کہا یارسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عطا فرمایا ہے جو کچھ عطا فرمایا ہے آپ نہیں لائے مگر اس کے لیے رحمت کو۔ بلاشبہ اس کے لیے میری ذات میں کئی منافع ہیں۔ اللہ کی قسم ! اس کے پاس کوئی غلام نہی اور نہ وہ اس کا مالک ہے۔ اس عورت نے کہا قرآن نازل ہوا اور میں آپ ﷺ کے پاس گھر میں تھی۔ آپ نے فرمایا اس کو کہہ دے کہ وہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے۔ اس عورت نے کہا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عطا فرمایا جو کچھ عطا فرمایا وہ اس پر قادر نہیں پھر آپ نے فرمایا اس کو کہو کہ وہ ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کرے اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ! اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کا وہ صدقہ کرے۔ آپ نے فرمایا فلاں انصاری کے پاس چلی جا اس کے پاس آدھا وسق کھجوروں کا موجود ہے۔ وہ مجھے اطلاع دے کہ وہ اس کے صدقہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اس سے لے لے گا پھر ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کردے گا۔
7۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ خولہ ؓ جو اوس بن صامت ؓ کی بیوی تھی۔ اس آدمی کو تھوڑا ساجنون بھی تھا جب اس کے جنون نے شدت اختیار کی تو اس نے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ظہار کے کفارہ کا حکم نازل فرمایا۔
ظہار کرنے کا شرعی حکم
8۔ نحاس وابن مردویہ و بیہقی نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی اگر اپنی بیوی سے یوں کہہ دیتا کہ تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے تو وہ اس پر حرام ہوجاتی۔ زمانہ اسلام میں سب سے پہلے اوس بن صامت ؓ نے ظہار کیا۔ اس کے چچا کی بیٹی اس کے نکاح میں تھی جس کو خولہ کہا جاتا تھا۔ اس نے اس سے ظہار کیا اور اپنے قبضے سے نکال دیا اور کہا میں تیرے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ تو مجھ پر حرام ہوچکی ہے۔ لہٰذا تو نبی ﷺ کے پاس جا اور ان سے سوال کر۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ کے پاس ایک کنگھی کرنے والی تھی جو آپ کے سر مبارک میں کنگھی کر رہی تھی۔ اس نے آپ کو یہ ساری بات بتائی تو آپ نے فرمایا اے خولہ ! ہم کو تیرے معاملہ کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر یہ حکم نازل فرمایا تو آپ نے فرمایا اے خولہ ! تجھے مبارک ہو۔ عرض کیا۔ کیا خیر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں خیر ہے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر جو نازل فرمایا وہ آپ نے اسی عورت پر پڑھا یعنی یہ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا۔
9۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خولہ یا خویلہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یارسول اللہ ! کہ میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ میں تیرے بارے میں یہی خیال کرتا ہوں کہ تو اس پر حرام ہوچکی ہے۔ اس نے کہا میں اللہ کی طرف اپنی شکایت پیش کروں گی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ۔
10۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آپ نے قرآن کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سارا قرآن ایک ہی بار نازل نہیں فرمایا آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ۔ فرمایا یہ خولہ کے پیدا ہونے سے پہلا کا ہے۔ اگر خولہ ارادہ کرتی کہ جھگڑا نہ کرے گا تو ایسا ممکن نہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس کے لیے مقدر کردیا تھا اس کے پیدا کرنے سے پہلے۔
11۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا کے بارے میں روایت کیا کہ خولہ انصار میں سے ایک عورت تھی اس کے خاوند نے اس سے ظہار کرلیا۔ اور اس نے کہا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے خاوند نے مجھ سے نکاح کیا تھا اور میں اس کی طرف سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی یہاں تک کہ جب میں بڑی عمر والی ہوگئی اور بڑھاپے میں داخل ہوگئی تو اس نے کہا تو میرے اوپر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ اور اس نے مجھ کسی کے رحم وکرم پر چھوڑدیا یارسول اللہ ! اگر آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں جو مجھے اور اسے ہلاکت سے بچائے گی۔ تو مجھے اس بارے میں بیان فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! اب تک تیرے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ لیکن تو اپنے گھر کی طرف لوٹ جا۔ اگر مجھے کسی چیز کا حکم دیا گیا تو میں اس کو تجھ پر نہیں چھپاؤں گا۔ ان شاء اللہ۔ چناچہ وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے کتاب میں اپنے رسول پر اس کے لیے اور اس کے خاوند کے لیے رخصت کا حکم نازل فرمادیا۔
اور فرمایا آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا۔ سے لے کر آیت عذاب الیم تک۔ آپ نے اس کے خاوند کو بلا بھیجا اور اس سے فرمایا کیا تو ایک غلام کو آزاد کرسکتا ہے ؟ اس نے کہا تب تو میرا سارا مال چلا جائے گا کیونکہ غلام مہنگا ہے اور میرے پاس زیادہ مال نہیں ہے میں مفلس ہوں پھر آپ نے فرمایا کیا تو دو ماہ لگاتار روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے اس نے کہا اللہ کی قسم ! اگر میں ہر دن تین مرتبہ نہ کھاؤں تو میرے آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! مگر یہ کہ آپ میری مدد فرمائیں آپ نے فرمایا میں تیری پندرہ صاع (کھجور) میں مدد کروں گا۔
12۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ اوس بن صامت ؓ نے اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ؓ سے ظہار کیا۔ تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات کی شکایت کی اور کہا میرے خاوند نے مجھ سے اس وقت ظہار کرلیا جب میں بوڑھی ہوگئی اور میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے آیت ظہار نازل فرمائی۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کر۔ تو اس نے کہا اس کے لیے یرے پاس مال نہیں ہے پھر فرمایا دو ماہ لگاتار روزے رکھو اس نے کہا اگر میں دن میں تین مرتبہ نہ کھاؤ تو میری آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ تو اس نے کہا میں کوئی چیز نہیں پاتا کہ میں مسکینوں کو کھانا کھلاؤں مگر یہ کہ آپ میری مدد فرمائیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے پندرہ صاع اسے عطا فرمائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اس کی بیوی کو ملاکر دونوں کو اکٹھا کردیا۔
13۔ ابن مردویہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ وہ عورت جس نے اپنے خاوند سے جھگرا کیا تھا۔ وہ خولہ بنت ثعلبہ تھی۔ اور اس کی ماں معاذہ تھی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی یعنی آیت ولا تکرہوا فتیتکم علی البغاء (النور : آیت 33) اپنی باندیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو۔ اور وہ عبداللہ بن ابی کی باندی تھی۔