تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 2
اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ﴿2﴾
- اَلَّذِيْنَجو لوگ
- يُظٰهِرُوْنَظہار کرتے ہیں
- مِنْكُمْتم میں سے
- مِّنْ نِّسَآئِهِمْاپنی بیویوں سے
- مَّا هُنَّوہ نہیں
- اُمَّهٰتِهِمْ ۭان کی مائیں
- اِنْنہیں
- اُمَّهٰتُهُمْان کی مائیں
- اِلَّامگر
- اڿصرف وہ عورتیں
- وَلَدْنَهُمْ ۭجنہوں نے جنا ہے انہیں
- وَاِنَّهُمْاور بیشک وہ
- لَيَقُوْلُوْنَالبتہ کہتے ہیں
- مُنْكَرًانامعقول
- مِّنَ الْقَوْلِبات سے
- وَزُوْرًا ۭاور جھوٹ
- وَاِنَّ اللّٰهَاور بیشک اللہ
- لَعَفُوٌّالبتہ معاف کرنیوالا
- غَفُوْرٌبخشنے والا
Translation · Dure-Mansoor
تم میں سے وہ مرد جو اپنی عورتوں سے اظہار کریں تو وہ ان کی حقیقی ماں نہیں بن جاتیں ان کی حقیقی مائیں تو صرف وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے اور یقیناً وہ باتوں میں سے بری بات اور جھوٹی بات کہہ رہے ہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ بہت زیادہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
اسلام میں سب سے پہلے ظہار کرنے والا
14۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ اسلام میں سب سے پہلے خویلہ کے خاوند نے ظہار کیا وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کیا ہے اور وہ اللہ کی بارگاہ میں شکوہ کرنے لگی نبی ﷺ نے اس سے فرمایا میرے پاس اس بارے میں کوئی چیز یعنی کوئی حکم نہیں آیا۔ اس نے کہا یارسول اللہ میں کس کے پاس جاؤں میرے خاوند نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے وہ اسی حال پر تھی کہ اچانک وحی نازل ہوگئی۔ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا حتی کہ یہاں تک پہنچے آیت فتھریر رقبۃ من قبل ان یتماسا۔ کہ اس سے جماع کرنے پہلے ایک غلام آزاد کرو پھر وحی رک گئی رسول اللہ ﷺ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس پر یہ آیات تلاوت فرمائیں اس نے کہا وہ اتنی وسعت نہیں پاتا کہ غلام آزاد کرے۔ نبی ﷺ نے فرمایا حکم تو اسی طرح ہے اس درمیان کہ وہ اسی حال پر تھی پھر وحی نازل ہوئی آیت فمن لم یجد فصیام شہرین متتابعین من قل ان یتماسا۔ اور وہ اس کو نہ پائے تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے جماع سے پہلے۔ پھر وحی رک گئی۔ رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور اس پر یہ آیت پڑھ تو اس نے کہا وہ ایک دن بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہی رکھتا۔ آپ نے فرمایا حکم تو اسی طرح ہے اس درمیان کہ وہ اسی حال پر تھی اچانک پھر وحی نازل ہوئی آیت فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا جو اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے پھر رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس پر اس آیت کو پڑھا تو اس نے کہا وہ کچھ نہیں پاتا (کہ مسکینوں کو کھانا کھلائے) یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا بلاشبہ عنقریب ہم اس کی مددکریں گے۔
15۔ عبد بن حمید نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے پندرہ صاع کھجور کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔
16۔ عبد بن ھمید نے ابو زید مدنی ؓ سے روایت کیا کہ ایک عورت جو کا آدھاوسق لے کر آئی تو نبی مکرم ﷺ نے اسے وہ دے دئیے جو کے دو مد، گندم کے ایک مد کے برابر ہیں۔
17۔ عبد بن حمید نے عبدالرحمن بن ابی لیلی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے جو کے پندرہ صاع کے ساتھ اس کی مدد فرمائی۔
18۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی سے ظہار کیا۔ اور اس وقت ظہار طلاق سے زیادہ سخت اور حرام کردہ چیزوں میں زیادہ حرام تھا۔ جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے ظہار کرلیتا تو وہ اس کی طرف کبھی نہ لوٹتی تھی۔ وہ عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا اے اللہ کے نبی ! کہ میرے خاوند اور میری اولاد کے باپ نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے اور اللہ کے سوا کوئی اس پر مطلع نہیں ہوگا کہ وہ اپنے فراق کے سبب مجھ پر داخل ہوگا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا۔ وہ کہہ چکا جو اس نے کہنا تھا۔ اس عورت نے کہا میں کیسے گزر بسر کروں گی اور اس نے اللہ کے ہاں التجا کی اور اپنی شکایت کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ آیات کے آخرتک۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے خاوند کو بلایا اور فرمایا کہ ایک غلام آزاد کر۔ اس نے کہا زمین میں کوئی ایسا غلام نہیں جس کا میں مالک ہوں پھر آپ نے فرمایا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے ؟ اس نے کہا یارسول اللہ ! میں بڑھاپے کو پہنچ چکا ہوں اور میر اسر چکراتا ہے اگر میں دن میں کئی بار نہ کھاؤں تو مجھے چکر آنے لگتے ہیں یہاں تک کہ میں گرپڑتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں اس کی وسعت نہیں پاتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب ہم تیری مدد کریں گے۔
19۔ عبد بن حمید عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عبادہ بن صامت ؓ کے بھائی کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اپنے خاوند کی شکایت کی کہ اس نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے۔ اور ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک میں سے کچھ نکال رہی تھی یا کہا کہ تیل لگا رہی تھی رسول اللہ ﷺ نے اپنی نظر کو آسمان کی طرف اٹھایا اور وہ عورت آپ کے سر مبارک سے کچھ نکال رہی تھی عبادہ بن صامت ؓ کے بھائی کی بیوی سے کہا اور اس کا نام خولہ بنت ثعلبہ تھا اے خولہ ! کیا تو چپ نہیں ہوجاتی۔ حالانکہ تو آپ کو دیکھ بھی رہی ہے کہ وہ آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں (نزول وحی کی کیفیت طاری ہے) تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو ایک غلام کے آزاد کرنے کو کہا تو اس نے کہا میں نہیں پاتا یعنی میرے پاس کوئی غلام نہیں کہ اس کو آزاد کروں پھر آپ نے اس کو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنے کا حکم فرمایا۔ تو اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اگر میں ہر دن میں تین مرتبہ نہ کھاؤں تو مجھ پر مشقت پڑجاتی ہے تو پھر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے کہا میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر نبی ﷺ کے پاس کچھ کھجوریں آئیں تو آپ نے اس سے فرمایا اس کو لے لو اور ان کی تقسیم کردو۔ اس آدمی نے کہا کہ ان لابتین (یعنی کالی پتھریلی زمینوں) کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی فقیر نہیں۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تو خود کھالے اور اپنے گھروالوں کو کھلادے۔
20۔ عبد بن حمید یزید بن ہمدانی (رح) سے آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عورت خولہ بنت صامت ؓ تھیں۔ اور اس کا خاوند مریض تھا اس نے اس کو بلایا اس نے جواب نہ دیا اور آنے میں دیر لگائی۔ تو اس نے غصہ میں آکر کہا تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت فتحریر رقبۃ۔ ایک گردن آزاد کرنا۔ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا ایک غلام آزاد کر، اس نے کہا میں نہیں پاتا۔ پھر فرمایا دو ماہ کے لگاتار روزے رکھ۔ اس نے کہا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس کچھ نہیں ہے مگر یہ کہ آپ میری مدد فرمائیں تو نبی مکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تو اور تیرے گھر والے اس کو کھائیں۔
21۔ ابن سعد نے عمران بن انس (رح) سے روایت کیا کہ اسلام میں سب سے پہلے اوس بن صامت ؓ نے ظہار کیا اور انہیں کو کچھ جنون تھا۔ اور کبھی ان کو افاقہ ہوجاتا تھا ایک دن اپنے افاقہ کی حالت میں وہ اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کے پاس آیا اور اسے کہہ دیا۔ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ پھر وہ نادم ہوا اور کہا میں تیرے بارے میں خیال نہیں کرتا مگر یہ کہ تو مجھ پر حرام ہوچکی ہے۔ بیوی نے کہا کہ تو نے طلاق کا ذکر تو نہیں کیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور ان کو وہ بات بتائی جو اس نے کہی۔ راوی نے کہا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باربار اس کا تکرار کیا پھر کہنے لگی اے اللہ ! میں آپ کی طرف اپنی تنہائی اور سختی کی شدت کی شکایت کرتی ہوں۔ اور اس کی جدائی کے سبب جو گرانی مجھ پر ہوگی اس کا شکوہ آپ کی بارگاہ میں کرتی ہوں عائشہ ؓ نے فرمایا کہ وہ رونے لگی اور جو کوئی گھر میں تھا وہ وبھی اس پر رحمت اور نرمی کے جذبات کی وجہ سے رونے لگا۔ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی جب یہ کیفیت جاتی رہی تو آپ مسکرا رہے تھے اور فرمایا اے خولہ اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں حکم نازل فرمادیا ہے آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا پھر فرمایا کہ اس کو یعنی اپنے خاوند کو حکم کر کہ ایک غلام آزاد کرے اس نے کہا وہ نہیں پاتا (یعنی اس کے پاس کوئی غلام نہیں) پھر فرمایا اس کو حکم کر کہ دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے۔ اس نے کہا وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر فرمایا اس کو حکم کر کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیے اس نے کہا اس کے پاس کہاں سے کھانا آئے گا ؟ پھر آپ نے فرمایا کہ وہ ام المنذر بنت قیس کے پاس جائے۔ اور اس سے آدھا وسق کھجور لے لے۔ اور ساتھ مسکینوں پر صدقہ کرے۔ تو وہ اوسر ؓ کے پاس لوٹ آئی۔ تو اس نے پوچھا تیرے پیچھے کیا ہے یعنی تو کیا خبر لائی کہنے لگی خیر کی خبر ہے۔ حالانکہ تو برا ہے۔ پھر اس نے اس کو ساری بات بتائی۔ وہ ام المنذر کے پاس آیا اس سے وہ کھجوریں اٹھائیں اور ہر مسکین کو دو مد کھجور کے کھلانے شروع کیے۔
22۔ عبد بن ھمید نے ابوقلابہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کی طلاق زمانہ جاہلیت میں ظہار اور ایلا ہوتی تھی یہاں تک کہ اس نے وہ کہا جو تو نے سنا۔
23۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہم لیقولون منکرا من القول وزورا۔ اور بلاشبہ وہ ایک نامعقول اور جھوٹی بات ہے۔ میں ” الزور “ سے مراد ہے جھوٹ۔
24۔ ابن المنذر وابیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والذین یظہرون من نساۂم ثم یعودون لما قالوا۔ اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنی کہی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ آدمی جو اپنی بیوی سے کہتا ہے تو میرے اوپر ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ جب وہ یہ بات کہتا تو اس کے لیے جائز نہی کہ وہ مجامعت یا کسی اور غرض سے عورت کے قریب آئے یہاں تک کہ وہ ایک غلام آزاد کرے اگر اس کو نہ پائے تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے۔ جماع کرنے سے پہلے اور ” المس “ سے مراد ہے نکاح اگر اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے بیشک یہ تب ہے جب وہ ایسے کہہ دے کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے تو اس سے ظہار واقع نہ ہوگا۔ جب تک وہ حانث نہ ہوجائے۔ جب وہ حانث ہوجائے تو وہ اس کے قریب نہ جائے یہاں تک کہ کفارہ ادا کرے اور ظہار میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔
25۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یعودون لما قالو۔ پھر وہ اپنی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں یعنی پھر وہ مس یعنی جماع کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔
26۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یعودون لما قالوا۔ یعنی پھر وہ لوٹنا چاہے وطی کی طرف۔
27۔ ابن المنذر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ جب کسی آدمی نے ظہار کے ساتھ نامعقول اور جھوٹی بات کہی تو اس پر کفارہ واجب ہوگا چاہے وہ حانث ہو یا نہ ہو۔
28۔ عبدالرزاق نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ظہار زمانہ جاہلیت میں طلاق تھی۔ تو ایک آدمی نے اسلام میں ظہار کیا اور وہ طلاق کا ارادہ رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں کفارہ کا حکم نازل فرمایا۔
29۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اس آیت من قبل ان یتماسا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے جماع مراد ہے۔
30۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاطعام ستین مسکینا سے مراد ہے کہ قسم میں طعام کھلانے کی کیفیت یہ ہے کہ ہر مسکین کے لیے دو مد ہوں گے۔
31۔ ابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہی جن میں ایک مد ہے۔ قسم کا کفارہ، ظہار کا کفارہ اور روزے کا کفارہ۔
کفارۂ ظہار کی تفصیل
32۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کفارۂ ظہار کا حکم فرمایا جس نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔
33۔ عطاء زہری اور قتادہ (رح) حضرات نے فرمایا کہ کفارۂ ظہار میں غلام کو آزاد کرنا روزرے رکھنا اور کھانا کھلانا ہر ایک ان میں عورت کے جماع کرنے سے پہلے ہے
34۔ الطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں ظہار عورتوں کو حرام کردیتا تھا۔ اسلام میں سب سے پہلے اوس بن صامت ؓ نے ظہار کیا۔ اس کی بیوی خولہ بنت خویلد تھی۔ اور وہ آدمی ضعیف تھا اور اس کی عورت مضبوط تھی۔ جب وہ ظہار کی بات کرچکا تو کہا میں تجھ کو خیال نہیں کرتا مگر یہ کہ تو مجھ پر حرام ہوچکی ہے۔ لہٰذا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس چلی جا۔ شاید کہ تو ایسی چیز حاصل کرسکے جو تجھے مجھ پر لوٹادے وہ گئی اور اس کا خاوند اس کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور ایک کنگھی کرنے والی آپ کے سر مبارک میں کنگھی کر رہی تھی۔ اس عورت نے کہا یارسول اللہ ! آپ جانتے ہی کہ اوس بن صامت ؓ رائے کے اعتبار سے کمزور ہے۔ اور اپنی قدرت اور طاقت کے اعتبار سے عاجز ہے۔ اس نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے۔ یا رسول اللہ ! میرے لیے کچھ تلاش کیجیے۔ آپ نے فرمایا اے خویلہ ! تیرے بارے میں ہم کو کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ اگر ہم کوئی حکم دئیے گئے تو میں تجھے مطلع کردوں گا اسی اثناء میں وہ کنگھی دینے والی آپ کے سر مبارک کے ایک طرف سے فارغ ہوگئی تھی۔ اور دوسری طرف میں شروع ہوئی تھی۔ اللہ جل شانہ نے حکم اتارا اور جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو اس وجہ سے آپ کا چہرہ مبارک پر سفیدی لوٹ آتی تھی پھر آپ بت کرتے تھے جو حکم دیا جاتا تھا۔ کنگھی کرنے والی نے کہا اے خویلہ بلاشبہ میرا بھی خیال ہے اب یہ وحی تیرے بارے میں ہے پس خوف اور کپکپی اس پر طاری ہوگئی پھر کہنے لگی اے اللہ ! میں تیرے ساتھ پناہ مانگتی ہوں کہ تو میرے بارے میں خیر کے سوا کچھ اتارے۔ کیونکہ میرے تیرے رسول سے خیر ہی چاہتی ہوں جب یہ کیفیت آپ سے جاتی رہی تو آپ نے فرمایا اے خویلد کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں نازل فرمادیا ہے اور تیرے شوہر کے بارے میں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجہا وتشتکی الی اللہ سے لے کر آیت فتحریر رقبۃ من قبل ان یتماسا۔ تک پھر کہنے لگی اللہ کی قسم ! یارسول اللہ میرے علاوہ اس کا کوئی خدمت کرنے والا نہیں۔ اور نہ ہی میرے لیے اس کے سوا کوئی خدمت کرنے والا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت فمن لم یجد فصیام شہرین متتابعین اور کوئی نہ پائے تو لگاتار یہ دو ماہ کے روزے رکھے۔ اس عورت نے کہا اللہ کی قسم ! اگر وہ دن میں دو مرتبہ نہ کھائے تو اس کی آنکھیں چندھیاجاتی ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا آیت یتماسا فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا۔ تو اس نے کہا اللہ کی قسم آج ہمارے پاس معمولی خوراک کے سوا کچھ نہیں ہے پھر آپ نے فرمایا اس کو حکم کر کہ وہ فلاں کے پاس جائے اور اس سے آدھا وسق کھجور کا لے لے اور ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کرے اور تیرے طرف رجوع کرے۔