تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 58. Al-Mujaadila · Ayah 22

  1. لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ع﴿22﴾

    1. لَا تَجِدُتم نہ پاؤگے
    2. قَوْمًاقوم (لوگ)
    3. يُّؤْمِنُوْنَوہ ایمان رکھتے ہیں
    4. بِاللّٰهِاللہ پر
    5. وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِاور آخرت کا دن
    6. يُوَآدُّوْنَاور دوستی رکھتے ہیں
    7. مَنْ حَآدَّ اللّٰهَجو، جس مخالفت کی اللہ کی
    8. وَرَسُوْلَهٗاور اسکے رسول کی
    9. وَلَوْ كَانُوْٓاخواہ وہ ہوں
    10. اٰبَآءَهُمْان کے باپ دادا
    11. اَوْ اَبْنَآءَهُمْیا انکے بیٹے
    12. اَوْ اِخْوَانَهُمْیا ان کے بھائی
    13. اَوْ عَشِيْرَتَهُمْ ۭیا ان کا کنبہ
    14. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    15. كَتَبَلکھ دیا (ثبت کردیا)
    16. فِيْ قُلُوْبِهِمُان کے دلوں میں
    17. الْاِيْمَانَایمان
    18. وَاَيَّدَهُمْاور ان کی مدد
    19. بِرُوْحٍروح (غیبی فیض) سے
    20. مِّنْهُ ۭاپنے سے
    21. وَيُدْخِلُهُمْاور وہ داخل کرے گا انہیں
    22. جَنّٰتٍباغات
    23. تَجْرِيْبہتی ہیں
    24. مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے
    25. الْاَنْهٰرُنہریں
    26. خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
    27. فِيْهَا ۭان میں
    28. رَضِيَ اللّٰهُراضی ہوا اللہ
    29. عَنْهُمْان سے
    30. وَرَضُوْااور وہ راضی
    31. عَنْهُ ۭاس سے
    32. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    33. حِزْبُ اللّٰهِ ۭاللہ کا گروہ
    34. اَلَآخوب یاد رکھو
    35. اِنَّبیشک
    36. حِزْبَ اللّٰهِاللہ کا گروہ
    37. هُمُوہی
    38. الْمُفْلِحُوْنَکامیاب ہونیوالے
Translation · Dure-Mansoor
آپ نہیں پاؤ گے ایسی قوم کو جو ایمان رکھتی ہے اللہ تعالیٰ پر اور آخری دن پر کہ وہ دوستی رکھتے ہیں ان سے جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہیں اگرچہ وہ ان کے باپ دادا یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کا خاندان ہی کیوں نہ ہو یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کی تائید کی ہے اپنی طرف سے روح سے اور اللہ تعالیٰ انہیں جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے یہ اللہ کا گروہ ہے سنو یقیناً اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
6۔ آیت لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ۔ جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں ج واللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ سفیان نے کہا کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بادشاہ سے میل جول رکھتے ہیں۔ 7۔ ابن ابی شیبہ والحکیم والترمذی فی نوادر الاصول وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا اللہ کی رضا کے لیے محبت کر، اللہ کی رضا کے لیے بغض رکھ۔ اللہ کی رضا کے لیے دشمنی رکھ۔ اور اللہ کی رضا کے لیے دوستی قائم کر۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دوستی اور ولایت اسی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ لا تجد قوم یومنون باللہ والیوم الاٰخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ۔ الاٰیۃ۔ اللہ کے لیے دوستی اور دشمنی 8۔ ابونعیم نے الحلیہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انبیاء میں سے ایک نبی کی طرف وحی بھیجی۔ کہ فلاں عابد سے کہہ دو کہ دنیا میں تیرا زہد یہ ہے کہ تو نے اپنے نفس کی راحت و آرام کو جلدی پالیا اور دنیا میں تیرا انقطاع یعنی دنیا سے کٹ کر میری طرف متوجہ ہونا۔ یہ ہے کہ تو نے میرے ساتھ فخر کیا۔ اور قوت حاصل کی۔ پس اس بارے میں تو نے کونسا عمل کیا تو میرے لیے تجھ پر لازم ہے۔ فرمایا کیا تو نے میرے لیے کسی دوست سے دوستی کی یا تو نے میرے لیے کسی دشمن سے دشمنی کی۔ 9۔ الحکیم الترمذی نے واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے کو اٹھائیں گے کہ اس کا گناہ نہ ہوگا۔ تو اس سے فرمائیں گے دو کاموں میں سے کون سا کام تجھے محبوب ہے ؟ کہ میں تجھ کو بدلہ دوں تیرے عمل کا اور جزاء عطا کروں یا تجھ پر اپنے احسان اور مہربانی کے ساتھ تجھے جزاء عطا کروں وہ کہے گا۔ اے میرے رب ! تو جانتا ہے کہ میں نے تیری نافرمانی نہیں کی۔ پھر فرمائیں گے میرے بندے کو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے بدلے میں پکڑ لو تو اس کی ایک نیکی بھی باقی نہیں بچے گی۔ مگر یہ کہ وہ نعمت ان سب کو گھیر لے گی (پھر) وہ بندہ کہے گا اے میرے رب اپنے احسان اور اپنی رحمت کے طفیل مجھے جزاء عطا فرما یعنی جنت عطا فرمائیے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میری مہربانی اور میری رحمت کے ساتھ اپنی ذات میں انتہائی نیکی کرنے والا لایا جائے گا۔ وہ یہ گمان نہیں کرے گا کہ اس کا بھی کوئی گناہ ہے پھر اس سے کہا جائے گا کیا تو نے میرے دوستوں سے دوستی کی تھی۔ تو وہ کہے گا۔ اے میرے رب تو تو لوگوں سے سالم و محفوظ تھا۔ پھر رب کریم فرمائے گا کیا تو نے میرے دشمنوں سے دشمنی کی۔ وہ کہے گا اے میرے رب۔ میں یہ پسند نہیں کرتا تھا کہ میرے اور کسی ایک کے درمیان کوئی عداوت ہو۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائیں گے میری عزت کی قسم ! میری رحمت نہ پہنچے گی جو میرے دوستوں سے دوستی نہ کرے گا اور میری دشمنوں سے دشمنی نہ کرے گی۔ 10۔ طیالسی وابن ابی شیبہ نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خالص اور مضبوط ترین ایمان اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے بغض رکھنا ہے۔ 11۔ دیلمی نے حسن کے طریق سے معاذ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! کسی فاجر کے لیے میرے پاس کوئی احسان یا کوئی نعمت نہ رکھ کہ میرا دل اس سے محبت کرنے لگے۔ اور میں اس کے بارے میں وہی پاتا ہوں جو تو نے میری طرف وحی کی۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاٰخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ۔ جو لوگ اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپ ان کو نہیں دیکھیں گے کہ وہی ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔