تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 60. Al-Mumtahana · Ayah 1

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ﴿1﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاایمان والو
    3. لَا تَتَّخِذُوْاتم نہ بناؤ
    4. عَدُوِّيْمیرا دشمن
    5. وَعَدُوَّكُمْاور اپنے دشمن
    6. اَوْلِيَآءَدوست
    7. تُلْقُوْنَتم پیغام بھیجتے ہو
    8. اِلَيْهِمْان کی طرف
    9. بِالْمَوَدَّةِدوستی سے، کا
    10. وَقَدْ كَفَرُوْااور وہ منکر ہوچکے ہیں
    11. بِمَااس کے جو
    12. جَآءَكُمْتمہارے پاس آیا
    13. مِّنَ الْحَقِّ ۚحق سے
    14. يُخْرِجُوْنَوہ نکالتے (جلاوطن کرتے) ہیں
    15. الرَّسُوْلَرسول
    16. وَاِيَّاكُمْاور تمہیں بھی
    17. اَنْ تُؤْمِنُوْاکہ تم ایمان لاتے ہو
    18. بِاللّٰهِاللہ پر
    19. رَبِّكُمْ ۭتمہارا رب
    20. اِنْاگر
    21. كُنْتُمْ خَرَجْتُمْتم نکلتے ہو
    22. جِهَادًاجہاد کیلئے
    23. فِيْ سَبِيْلِيْمیرے راستے میں
    24. وَابْتِغَآءَاور چاہنے کے لئے
    25. مَرْضَاتِيْ ڰمیری رضا
    26. تُسِرُّوْنَتم چھپا کر (بھیجتے ہو)
    27. اِلَيْهِمْان کی طرف
    28. بِالْمَوَدَّةِ ڰدوستی (کا پیغام)
    29. وَاَنَااور میں
    30. اَعْلَمُخوب جانتا ہوں
    31. بِمَآوہ جو
    32. اَخْفَيْتُمْتم چھپاتے ہو
    33. وَمَآاور جو
    34. اَعْلَنْتُمْ ۭتم ظاہر کرتے ہو
    35. وَمَنْ يَّفْعَلْهُاور جو یہ کرے گا
    36. مِنْكُمْتم میں سے
    37. فَقَدْ ضَلَّتو تحقیق وہ بھٹک گیا
    38. سَوَآءَسیدھا
    39. السَّبِيْلِراستہ
Translation · Dure-Mansoor
اے ایمان والو ! تم میرے اور تمہارے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ تم ان کی طرف محبت کو ڈالتے ہو حالانکہ انہوں نے کفر کیا اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آیا وہ رسول کو نکالتے ہیں اور تمہیں بھی نکالتے ہی اس وجہ سے کہ تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے اگر تم جہاد کے لیے نکلو میرے رستے میں اور میری رضا طلب کرنے کے لیے تو وہ ان کی طرف چپکے سے محبت کو پھینکتے ہیں حالانکہ میں خوب جانتا ہوں اس کو جو تم چھپاتے ہو اور جس کو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم میں سے ایسا کرے گا تو یقیناً وہ سیدھے رستے سے گمراہ ہوگیا
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ احمد والحمیدی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداوٗد اور الترمذی والنسائی وابو عوانہ وابن حبان وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی وابو نعیم معاً فی الدلائل حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو بھیجا۔ اور فرمایا چلے جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچو ایک عورت ہودے میں سوار تمہیں ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے آؤ۔ پس ہم نکل پڑے یہاں تک کہ روضہ خاخ پر پہنچ گئے۔ اچانک ایک عورت ہودے پر سوار ملی۔ ہم نے اس سے کہا خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا خط نکال ورنہ کپڑے اتار آخر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی سے خط نکال کردیا۔ ہم اس کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اس میں لکھا تھا۔ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف مشرکین مکہ کے لوگوں کی طرف کہ ان کو نبی اکمر ﷺ کے بعض معاملات کی اس نے ان کو خبر دی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے حاطب ! یہ کیا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا یارسول اللہ ! میرے فیصلے میں جلدی نہ کیجیے۔ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو قریش کے ساتھ مسلک یعنی حلیف ہوں میں قریش کے خاندان میں سے نہیں ہوں۔ اور جو آپ کے ساتھ مہاجرین ہیں۔ ان کی قریش سے رشتہ داریاں ہیں جس کی وجہ سے وہ لوگ مہاجروں کے گھروالوں کی اور ان کے مالوں کی مکہ میں حفاظت کرتے ہیں اس لیے میں نے اس بات کو پسند کیا۔ جبکہ میرا نسبی رشتہ ان سے نہیں ہے تو میں ان پر کوئی احسان کردوں جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے رہیں اور یہ کام میں نے کسی کفر یا اپنے دین سے مرتد ہوجانے کی وجہ سے نہیں کیا۔ تو نبی ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ! مجھے چھوڑ دو ۔ میں اس کی گردن ماردوں۔ آپ نے فرمایا یہ بدر میں حاضر ہونے والا ہے، اور تو نہیں جانتا کہ اللہ اہل بدر کے اعمال پر مطلع ہے اور اس نے ارشاد فرمایا ہے آیت اعملوا ما شئتم قد غفرت لکم۔ جو چاہو کرو میں نے تم کو معاف کردیا۔ اس بارے میں یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولاء تلقون الیہم بالمودۃ۔ اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو۔ 2 ابو یعلی وابن المنذر نے الحارث کے طریق سے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مکہ آنے کا ارادہ فرمایا۔ آپ نے اپنے بعض صحابہ ؓ سے خفیہ مشورہ فرمایا کہ آپ مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان میں حاطب ؓ بن ابی بلتعہ بھی تھے۔ اور لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ آپ خیبر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو حاطب ؓ نے مکہ والوں کی طرف لکھا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ حاطب نے خفیہ اطلاع بھیج دی ہے۔ تو آپ نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو بھیجا اور فرمایا روضۃ خاخ پر جاؤ۔ آگے وہی واقعہ ذکر فرمایا ہے جو گذر چکا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ایا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم الایۃ۔ 3۔ ابن المنذر نے قتادہ کے طریق سے اور ابن مردویہ نے انس ؓ نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جب نبی ﷺ نے حدیبیہ سے قریش مکہ کی طرف چلنے کا ارادہ فرمایا تو ان کی طرف حاطب بن ابی بلتعہ نے لکھا کہ وہ اپنی حفاظت کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بات کی اطلاع کردی اور وہ خط عورت کے پاس پایا گیا۔ جو اس کے بالوں کی چٹیا میں چھپا رکھا تھا۔ آپ نے حاطب سے فرمایا تجھے کس بات نے آمادہ کیا کہ تو نے یہ کیا ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم مجھے اللہ کے امر میں ذرا بھی شبہ نہیں اور نہ میں نے اس میں کوئی شک کیا۔ لیکن ان کے پاس میرے گھر والے اور میرا مال موجود ہے۔ تو میں نے قریش کو رفیق اور دوست بنانے کا ارادہ کیا۔ حضرت حاطب قریش کے حلیف تھے اور قریش خاندان میں سے نہ تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن میں نازل فرمایا : آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لاتتخذوا عدوی وعدوکم۔ الایۃ۔ حاطب بن ابی بلتعہ کا خط 4۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو مدینہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہتا تھا۔ اور جو قریش میں سے تھا۔ اس نے مکہ مکرمہ میں اپنے اہل و عیال اور اپنے کنبہ کی طرف ان کو خبر دیتے ہوئے اور ان کو خطرہ سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف آنے والے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کو اس کے خط کی خبر دی گئی تو آپ نے علی بن ابی طالب ؓ کو بھیجا تو وہ اس کو لے آئے۔ 5۔ ابو یعلی والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے مشرکین کی طرف ایک خط لکھا۔ اس کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا۔ آپ نے فرمایا اے حاطب ؓ ! تجھے اس کام پر کس نے آمادہ کیا جو تو نے کیا ؟ عرض کیا رسول اللہ ! کہ میرے گھروالے ان میں رہ رہے ہیں۔ مجھے یہ خوف ہوا کہ وہ ان پر ٹوٹ پڑیں گے۔ تو میں ایک خط لکھوں جو اللہ اور اس کے رسول کو قطعاً کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں اس کی گردن نہ ماروں کہ اس نے کفر کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر میں سے اس گروہ کے اعمال پر بھی مطلع ہے لیکن اسی نے فرمایا ہے : آیت اعملوا ما شئتم قد غفرت لکم۔ 6۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب کے طریق سے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا اور وہ عبدالرحمن بن حاطب بن ابی بلتعہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حاطب ؓ یمن والوں میں سے ایک آدمی تھا۔ اور وہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے زبیر بن عوام ؓ کا حلیف تھا جو بدر میں حاضر ہوا اور اس کے بیٹے اور بھائی مکہ میں تھے۔ حاطب ؓ نے کفار قریش کی طرف خط لکھا اور وہ خود مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا تھا۔ جس میں اس نے ان کو نصیحت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے علی اور زبیر ؓ کو بلایا اور ان سے فرمایا تم جاؤ یہاں تک کہ تم ایک عورت کو پاؤ گے جس کے پاس خط ہے وہ خط اس سے لے لو اور میرے پاس لے آؤ۔ وہ دونوں چلے یہاں تک کہ حلییفہ بنی احمد کے پاس اس عورت کو پالیا اور یہ جگہ مدینہ سے قریب بارہ میل پر ہے۔ ان دونوں نے اس سے کہا ہم کو وہ خط نکال دے جو تیرے پاس ہے۔ اس عورت نے کہا میرے پاس خط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تو جھوٹ بولتی ہے ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ تیرے پاس خط ہے اللہ کی قسم وہ خط تو ہمارے حوالے کردے۔ جو تیرے پاس ہے ورنہ ہم تیرے کپڑے اتاردیں گے۔ اور اس میں ہم خط کو تلاش کریں گے۔ اس نے کہا کیا تم مسلمان لوگوں میں سے نہیں ہو ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتایا کہ تیرے پاس خط ہے۔ یہاں تک کہ جب اس عورت نے اس بات کو جان لیا کہ وہ اس کے ہر کپڑے کی تلاشی لیں گے تو اس نے اپنے بالوں کی چوٹی کو کھولا اور اپنے بالوں کی مینڈھیوں میں سے سا خط کو نکال کر ان کے حوالے کردیا اس نے سر کی چوٹی اس خط کے اوپر بنا رکھی تھی۔ وہ خط لے کر۔ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے تو یہ خط حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے اہل مکہ کی طرف تھا رسول اللہ ﷺ نے حاطب کو بلایا اور فرمایا کیا تو نے یہ خط لکھا ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! فرمایا یہ لکھنے پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا حاطب ؓ نے کہا اللہ کی قسم ! مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی شک نہیں گزرا جب سے میں اسلام لایا۔ لیکن میں تم میں ایک اجنبی آدمی تھا قریش کے کسی قبیلہ میں سے نہیں ہوں۔ اور میرے بیٹے اور بھائی مکہ میں رہتے ہیں۔ میں نے کفار قریش کی طرف یہ خط لکھا ہے تاکہ میں انہیں ان سے دور رکھ سکوں تو عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے۔ میں اس کی گردن ماردوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑدو۔ کیونکہ یہ بدر میں حاضر تھا اور تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے اعمال پر مطلع ہے اس کے باوجود اس نے فرمایا آیت اعملوا ما شئتم۔ جو تم چاہو کرو بلاشبہ میں تم کو بخشنے والا ہوں۔ تم نے جو عمل بھی کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں آیت یا ایہالذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیہم بالمودۃ۔ یہاں تک پہنچے لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجو اللہ والیوم الاٰخر۔ بیشک ان لوگوں کے قول عمل اور عقیدے میں تمہارے لیے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ کی ملاقات اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں۔ 7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عروہ ؓ سے یہی روایت مرسلاذکر کی ہے۔ فتح مکہ کے دن چار آدمیوں کو امان نہیں ملی۔ 8۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن سوائے چار آدمیوں کے باقی تمام لوگوں کو امان دے دی۔ عبداللہ بن خطل، مقیس بن صباب، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور ام سارہ اور حدیث کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ام سارہ کہ وہ قریش کی ایک باندی تھی۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں۔ اور ان کی طرف اپنی کسی حاجت کے بارے میں شکایت کی۔ آپ نے اسے کچھ چیزیں عطا فرمائیں پھر اس کے پاس ایک آدمی آیا۔ تو اس نے اس کے ذریعہ ایک خط مکہ والوں کی طرف روانہ کیا وہ اس خط کے ذریعہ ان کا قرب چاہتا تھا اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے لیے کیونکہ اس کے اہل و عیال مکہ میں رہ رہے تھے لیکن اس خط کے بارے میں جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کو خبر دی۔ تو آپ ﷺ نے اس عورت کے پیچھے عمر بن خطاب اور علی ؓ کو بھیجا یہ دونوں اس عورت سے راستے میں ملے۔ اور اس کی تلاش کی مگر اس عورت کے پاس کوئی چیز پانے سے قاصر رہے۔ اور واپس لوٹنے لگے۔ پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا اللہ کی قسم ! آپ نے ہم سے جھوٹ بولا اور نہ ہم نے جھوٹ بولا لہٰذا اس کی طرف واپس لوٹ چلو، چنانہ وہ اس کی طرف لوٹ آئے، اور دونوں نے اپنی تلواریں سونت لیں۔ اور ہم نے کہا اللہ کی قسم ! ہم تجھ کو ماردیں گے۔ یا تو ہم کو وہ خط دے دے۔ اس نے انکار کردیا پھر کہنے لگی میں تم کو وہ خط دے دوں تو تم مجھے رسول اللہ کی طرف نہ لے جاؤ گے۔ انہوں نے اس شرط کو قبول کرلیا اس نے اپنے سر کے گندھے ہوئے بالوں کو کھولا اور اپنے بالوں کی چٹیا سے خط کو نکال کر ان کے دے دیا۔ خط لے کر دونوں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے اور آپ کو خط پیش کردیا۔ آپ نے اس صحابی یعنی حاطب ؓ کو بلایا اور اسے فرمایا یہ خط کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ جتنے لوگ بھی موجود ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے رشتے دار موجود ہیں جو ان کے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہیں مگر میرا وہاں کوئی آدمی موجود نہیں میں نے یہ خط اس لیے لکھا تاکہ قریش مکہ میرے لیے میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء۔ 9۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے قریش کی طرف خط لکھا اور اس میں نبی ﷺ کے مکہ کی طرف چلنے کا ذکر کیا اس نے یہ خط ایک عورت کے ذریعہ روانہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی تلاش میں چند صحابہ کو بھیجا اس خط کو نبی ﷺ کی طرف لے آیا گیا۔ آپ ﷺ نے حاطب ؓ کو بلایا اور اس سے فرمایا کیا تو نے یہ خط لکھا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں ایمان لانے والا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول پر۔ اور میں نے انکار نہیں کیا جب سے میں نے اسلام قبول کیا اور میں نے شک نہیں کیا۔ جب سے میں نے یقین کیا ہے (کہ دین اسلام سچا مذہب ہے) لیکن میں ایسا آدمی ہوں کہ میرا مشرکین مکہ کی قوم میں نسب نہیں ہے یعنی نسبی رشتہ نہیں ہے۔ کیونکہ میں ان کا حلیف ہوں۔ اور ان کے ہاتھوں میں میرے اہل و عیال ہیں۔ جیسا آپ جانتے ہیں تو میں نے ان کی طرف کچھ لکھ دیا تاکہ اس کے ذریعہ میں انہیں اپنے اہل اور مال سے دور رکھ سکوں حالانکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ ہرگز ان کو کوئی نفع نہی پہنچا سکیں گے اس چیز سے جس کا ارادہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے فرما رکھا ہے۔ ملزم کو صفائی کا موقع دینا چاہیے عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا یارسول اللہ ! مجھے چھوڑدیجیے کہ میں اس منافق اللہ کے دشمن کی گردن ماردوں رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف ایسی نظر سے دیکھا کہ عمر ؓ پہچان گئے کہ آپ غصہ میں ہیں۔ پھر فرمایا اے عمر بن خطاب ؓ تجھ پر افسوس ہے۔ اور تو نہیں جانتا۔ شاید اللہ تعالیٰ خیر کے وطنوں میں سے ہر وطن کے رہنے والوں پر مطلع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا گواہ رہو کہ میں نے اپنے بندوں کو بخش دیا اب وہ جو چاہیں عمل کریں۔ یہ سن کر عمر ؓ نے فرمایا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ بیشک یہ اہل بدر ہیں بس تو بدر والوں سے اجتناب کر بیشک یہ بدر والے ہیں پس تو بدر والوں سے اجتناب کر۔ بیشک یہ بدر والے ہیں اور تو بدر والوں سے اجتناب کر۔ 10۔ حضرت جابر ؓ سے روایت کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ نے مکہ والوں کی طرف خط لکھا اور اس میں یہ بات لکھی کہ نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کو ایک عورت کے بارے میں بتایا گیا کہ جس کے پاس وہ خط تھا۔ آپ نے اس عورت کی طرف صحابہ کرام کو بھیجا اور انہوں نے اس کے سر کے بالوں سے وہ خط نکال لیا تو آپ نے فرمایا اے حاطب ! کیا تو نے ایسا کیا ؟ اس نے کہا ہاں میں نے رسول اللہ ﷺ کو دھوکہ دینے کے لیے ایسا نہیں کیا۔ اور نہ نفاق کے طور پر ایسا کیا اور میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اللہ ﷺ کو غالب کرنے والا ہے اور آپ کے ارادہ کو پورا کرنے والا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں ان کے درمیان ایک اجنبی تھا۔ اور میری والدہ بھی ہے سو میں نے ارادہ کیا کہ اس کی خدمت کروں ان کے پاس حضرت عمر ؓ نے فرمایا کیا میں اس کا سر نہ اڑا دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو بدروالوں میں سے ایک آدمی کو قتل کرے گا اور تو جانتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے اعمال کو جانتا ہے لیکن اس نے نے فرمایا ہے عمل کرو جو تم چاہو۔ 11۔ عبد بن حمید ومسلم والترمذی والنسائی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ حاطب بن ابی ابلتعہ کا ایک غلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تاکہ وہ حاطب کی شکایت کرے۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! کہ حاطب ضرور آگ میں داخل ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے جھوٹ کہا وہ اس میں داخل نہی ہوگا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں حاضر ہوچکا ہے۔ 12۔ ابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جس کے بارے میں یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء۔ نازل ہوئی اس کا نام حاطب بن ابی بلتعہ ہے۔ 13۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کی طرف خط لکھا اور اس میں حدیبیہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے سفر کے بارے میں ان کو بتایا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو اسی بات پر اطلاع دیدی تو اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا جو تو نے کیا اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے اپنے کام یعنی اپنے دین میں شک نہیں کیا۔ اور نہ مجھے اس میں کوئی شبہ ہے لیکن میرا وہاں مال اور اہل و عیال ہیں تو میں نے اپنے اہل و عیال پر قریش کو محافظ بنانے کا ارادہ کیا اور اس نے ہم کو یہ بھی بتایا کہ وہ قریش کا حلیف تھا اور ان میں سے نہیں تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا اور فرمایا آیت ان یثقفوک یکونوا لکم اعداء ویبسطوا الیکم ایدیہم والسنتہم بالسوء۔ اگر ان کو تم پر دسترس ہوجائے تو اظہار عداوت کرنے لگیں گے۔ تم پر دس درازی کریں گے۔ اور برائی کے ساتھ تم پر زبانیں چلائیں گے سے لے کر۔ آیت قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ اذقالوا لقومہم انا برء ؤ منکم ومما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدحتی تو منوا باللہ وحدہ الا قول ابراہیم لابیہ لاستغفرن لک۔ تک تمہارے لیے ایک عمدہ نمونہ ابراہیم کی زندگی اور قول وعمل میں اور ان لوگوں کے قول وعمل میں جو ابراہیم کے ساتھی تھے مگر ابراہیم (علیہ السلام) کا قول اپنے والد کے لیے کہ میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا۔ فرماتے ہیں کہ اس میں تم افسوس نہ کرو۔ کیونکہ ایک وہ وعدہ تھا جو انہوں نے خاص طور پر اس سے کیا تھا۔ اے ہمارے رب ہم کو آزمائش نہ بناان لوگوں کے لیے جو کافر ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں تو ان کو ہم پر غلبہ نہ دے کہ وہ اس کے ذریعے فتنہ میں ڈالیں وہ یہ گمان کریں گے وہ اس لیے غالب آئے ہیں کیونکہ وہ ہماری نسبت حق کے زیادہ قریب ہیں۔ 14۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء سے لے کر آتی بما تعملون بصیر تک کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت حاطب بن ابی بلتعہ اور اس کے ساتھیوں کے خط کے بارے میں ہے جو اس نے کفار قریش کی طرف انہیں خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے لکھا تھا اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت الا قول ابراہیم لابیہ لاستغرن لک سے مراد ہے کہ ان کو منع کردیا گیا کہ وہ ابراہیم کے اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے کی پیروی کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا۔ یعنی ہم کو ان کے ہاتھوں سے عذاب نہ دے اور نہ ہی اپنی جانب سے عذاب دے کیونکہ وہ کہیں گے کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو ان کو یہ عذاب نہ پہنچتا۔ 15۔ ابن المنذر والحاکم وصححہ نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت لاتتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء سے لے کر آیت بما تعملون بصیر کے بارے میں روایت کیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے خط میں اور جو اس کے ساتھ تھے کفار قریش کی طرف وہ ان کو ڈراتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت الا قول ابراہیم لابیہ لاستغفرن لک میں ان کو منع کیا گیا کہ وہ ابراہیم کے اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے پر افسوس نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت ربنا لاتجعلنا فتنۃ للذین کفروا۔ یعنی ہم کو عذاب نہ دے ان کے ہاتھوں سے اور وہ عذاب دے اپنے پاس سے کیونکہ وہ کہیں گے اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو ان کو یہ عذاب نہ پہنچتا۔ 16۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کے بارے میں روایت کیا یعنی ابراہیم کے تمام کاموں میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے سوائے اپنے باپ کے لیے استغفار کرنے کے کہ اس کے لیے استغفار نہ کیا جائے کیونکہ وہ مشرک تھا۔