تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 62. Al-Jumu'a · Ayah 1

  1. یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ﴿1﴾

    1. يُسَبِّحُ لِلّٰهِتسبیح کررہی ہے اللہ ہی کے لیے
    2. مَا فِي السَّمٰوٰتِہر وہ چیز جو آسمان میں ہے
    3. وَمَا فِي الْاَرْضِاور جو زمین میں ہے
    4. الْمَلِكِجو بادشاہ ہے
    5. الْقُدُّوْسِنہایت پاکیزہ
    6. الْعَزِيْزِزبردست
    7. الْحَكِيْمِحکمت والا
Translation · Dure-Mansoor
اللہ کی تسبیح کرتی ہیں وہ تمام چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور وہ تمام چیزیں جو زمین میں ہیں اس اللہ کی جو بادشاہ ہے تمام عیوب سے پاک ہے زبردست ہے حکمت والا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن المنذر والحاکم و بیہقی نے شعب الایمان میں عطاء بن سائب سے اور انہوں نے میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت تورات شریف میں سات سو آیتوں کے ساتھ لکھی ہوئی ہے۔ یعنی یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم۔ جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو چیزیں زمین میں ہیں سب اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں۔ اور یہ سورة جمعہ کی پہلی آیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ امی تھے 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہوالذی بعث فی الامیین رسول منہم۔ وہی ہے جس نے عرب کے ناخواندہ لوگوں میں انہی کی قوم میں سے ایک پیغمبر بھیجا الایۃ۔ یہ ایک عرب میں سے ایک قبیلہ تھا جو ان پڑھ تھا۔ ان میں کوئی کتاب نہ تھی جو اس کو پڑھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان میں محمد ﷺ کو سراپا رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا کہ ان کے ذریعہ وہ ان کو ہدایت دے گا۔ 3۔ البخاری ومسلم وابوداوٗد والنسائی وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن مردویہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ ہم ان پڑھوں کی ایک جماعت ہیں نہ ہم لکھ سکتے ہیں اور نہ ہم شمار کرسکتے ہیں۔