تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 62. Al-Jumu'a · Ayah 10

  1. فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿10﴾

    1. فَاِذَا قُضِيَتِپھر جب پوری ہوجائے
    2. الصَّلٰوةُنماز
    3. فَانْتَشِرُوْاتو پھیل جاؤ
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں
    5. وَابْتَغُوْااور تلاش کرو
    6. مِنْ فَضْلِفضل میں سے
    7. اللّٰهِاللہ کے
    8. وَاذْكُرُوا اللّٰهَاور ذکر کرو اللہ کا
    9. كَثِيْرًابہت
    10. لَّعَلَّكُمْتاکہ تم
    11. تُفْلِحُوْنَتم فلاح پاؤ
Translation · Dure-Mansoor
پھر جب نماز ختم ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کو طلب کرو اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
Tafseer · Dure-Mansoor
79۔ ابو عبید وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے عبداللہ بن بسر الحرانی (رح) سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی عبداللہ بن بشر المازنی ؓ کو دیکھا کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر باہر نکلے تو کچھ دیر بازار میں گھومے پھر مسجد کی طرف لوٹ آئے۔ پھر وہ نماز پڑھتے جتنا اللہ چاہتا کہ وہ پڑھیں تو ان سے پوچھا گیا۔ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ فرمایا میں نے سید المرسلین ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ۔ پھر جب نماز پوری ہوچکے تو اس کے بعد تم کو اجازت ہے کہ زمین پر چلو پھرو۔ اور خداداد روزی تلاش کرو۔ 80۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب جمعہ کے دن نماز سے فارغ ہوجاؤ تو مسجد کے دروازہ کی طرف نکلو اور کسی چیز کا سودا کرو اگرچہ تو اس کو نہ خریدے۔ 81۔ ابن المنذر نے الولید بن رباح (رح) سے روایت کیا کہ ابوہریرہ ؓ سے لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھاتے تھے۔ جب سلام پھیرتے تو بلند آواز سے یہ آیت پڑھتے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فاتنشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ واذکروا اللہ تو لوگ دروازوں کی طرف جلدی سے بڑھتے۔ 82۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہددوعطا رحمہما اللہ سے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض کے بارے میں روایت کیا کہ اگر چاہو تو ایسا کرلو اور اگر چاہو تو ایسا نہ کرو۔ جمعہ کے دن تجارت کی اجازت 83۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اللہ کی طرف سے اجازت ہے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوجائے اگر چاہے تو نکل جائے اور اگر چاہے تو مسجد میں بیٹھا رہے۔ 84۔ ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ۔ کے بارے میں فرمایا کہ یہ زمین میں چلنا پھرنا نماز کے بعد دنیا کی طلب کے لیے نہیں ہے بلکہ مریض کی عیادت اور جنازہ میں حاضر ہونے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کے لیے۔ 85۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ دنیا کی طلب میں سے کسی چیز کے بارے میں یہ حکم نہیں دیا گیا۔ بلکہ اس سے مراد ہے مریض کی عیادت کرنا جنازہ سے حاضر ہونا اور اللہ کی رضا کے لیے اپنے بھائی سے ملاقات کرنا۔ 86۔ طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے جمعہ کی نماز پڑھی اور اس دن روزہ بھی رکھا اور مریض کی عیادت بھی کی۔ اور جنازہ میں بھی حاضرہوا۔ اور نکاح میں بھی حاضرہوا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ 87۔ سعید بن منصور وابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک مدینہ منورہ کا ایک قافلہ آپہنچا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ اس کی طرف دوڑے یہاں تک کہ ان میں صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر ؓ ان میں سے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت واذا رأوا تجارۃ او لہوا ان انفضوا الیہا اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشہ ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے سورة کے آخرتک۔ 88۔ بزار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے دحیہ بن خلیفہ ؓ اپنا سامان بیچنے کے لیے آگئے۔ مسجد میں کوئی باقی نہیں رہا سوائے چند افراد کے اور نبی ﷺ کھڑے رہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا۔ الایۃ۔ 89۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے آیت واذا رأو تجارۃ او لہوا انفضوا الیہا وترکوک قائما کے بارے میں روایت کیا کہ دحیۃ الکلبی سامان تجارت لے کر آئے تو سب لوگ دیکھنے کے لیے باہر نکل گئے سوائے سات آدمیوں کے۔