تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 62. Al-Jumu'a · Ayah 6

  1. قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿6﴾

    1. قُلْ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَکہہ دیجئے اے لوگو
    2. هَادُوْٓاجو یہودی بنے ہو
    3. اِنْ زَعَمْتُمْاگر تم زعم رکھتے ہو۔ گھمنڈ رکھتے ہو۔ سمجھتے ہو
    4. اَنَّكُمْ اَوْلِيَآءُبیشک تم دوست ہو
    5. لِلّٰهِاللہ کے
    6. مِنْ دُوْنِ النَّاسِلوگوں کے سوا
    7. فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَپس تم تمنا کرو موت کی
    8. اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
    9. صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Dure-Mansoor
آپ فرمادیجیے اے یہودیوں اگر تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو اور انسانوں کو چھوڑ کر تو تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان زعمتم انکم اولیاء للہ۔ اگر تم یہ دعوی کرتے ہو کہ بلاشرکت غیرے تم اللہ کے محبوب اور دوست ہو یعنی وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں پھر فرمایا آیت ولا یتمنونہ ابدا بما قدمت ایدیہم وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، بوجہ ان اعمال کفریہ کے جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سمیٹے ہیں یعنیہ وہ جانتے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں پھر اس کو چھپاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے محبوب ہیں۔