تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 1
اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ﴿1﴾
- اِذَا جَآءَكَجب آتے ہیں تیرے پاس
- الْمُنٰفِقُوْنَمنافق
- قَالُوْا نَشْهَدُکہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہو
- اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِبیشک آپ البتہ اللہ کے رسول ہیں
- وَاللّٰهُاور اللہ
- يَعْلَمُجانتا ہے
- اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗبیشک آپ البتہ اس کے رسول ہیں
- وَاللّٰهُ يَشْهَدُاور اللہ گواہی دیتا ہے
- اِنَّبیشک
- الْمُنٰفِقِيْنَمنافق
- لَكٰذِبُوْنَالبتہ جھوٹے ہیں
Translation · Dure-Mansoor
جب منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقیناً آپ ہی البتہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہو اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ یقیناً آپ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہو لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن سعد واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم الترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے۔ لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔ تو عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ان پر مت خرچ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے بھاگ جائیں اور مزید یہ بھی کہا اگر ہم مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے تو ہم عزت والے ان ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے یہ سن کر میں نے نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے اس بات کی آپ کو خبر دی آپ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا اور اس سے پوچھا تو اس نے قسم کھالی کہ اس نے ایسا نہیں کیا لوگوں نے کہا کہ زید نے رسول اللہ ﷺ سے جھوٹ بولا۔ ان کی یہ بات میرے دل کو انتہائی سخت گزری۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں یہ نازل فرمایا آیت اذا جاءک المنفقون نبی ﷺ نے ان کو بلوایا تاکہ وہ ان کے لیے استغفار کریں مگر انہوں نے اپنے سروں کو پھیرلیا اور اسی کو فرمایا آیت کانہم خشب مسندۃ اور کہا کہ وہ لوگ ظاہری ٹھاٹھ باٹھ کی وجہ سے بہت خوبصورت لوگ تھے۔
منافقین کی ہرزہ سرائی کا ذکر
2۔ ابن سعد وعبد بن حمید والترمذی وصححہ وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل اور ابن عساکر نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا اور ہمارے ساتھ کچھ دیہاتی لوگ بھی تھے ہم پانی کی طرف جلدی کرتے تھے مگر دیہاتی اس کی طرف ہم سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ ایک دیہاتی اپنے ساتھیوں کو آگے لانے لگا یہاں تک کہ اس کے ساتھی آگئے اتنے میں ایک انصاری اس دیہاتی کے پاس آیا۔ اس نے اپنی اونٹنی کی لگام ڈھیلی چھوڑدی تاکہ وہ پانی پی لے۔ لیکن اس دیہاتی نے اسے پانی دینے سے انکار کردیا تو اونٹنی والے نے ایک پتھر اکھیڑ دیا اور پانی بہہ گیا۔ دیہاتی نے لکڑی اٹھائی اور اس انصاری کے سر پردے ماری اور اس کو زخمی کردیا۔ پھر وہ انصاری رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے پاس آیا اور اس کو اس واقعہ کی خبردی ساتھیوں میں بیٹھا ہوا تھا یہ سن کر وہ بہت غصہ ہوا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جتنے دیہاتی ہیں ان پر مت خرچ کرو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے اردگرد سے چلے جائیں گے۔ اور یہ لوگ کھانے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا جب یہ لوگ محمد ﷺ سے اٹھ کر چلے جائیں تو محمد ﷺ کے پاس کھانا لے آنا۔ تاکہ آپ اور جو آپ کے پاس ہوکھالی۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا جب تم مدینہ کی طرف لوٹوگے تو چاہیے کہ عزت والے ذلیل لوگوں کو ننھیال تھے۔ میں نے اپنے چچا کو بتایا۔ چناچہ وہ گئے رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور مجھے جھٹلادیا پھر میرا چچا میرے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے تیری تکذیب کا ارادہ نہیں کیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ناپسند کیا اور مسلمانوں نے بھی تجھ کو جھٹلایا یہ سن کر مجھ پر ایسا غم لاحق ہوا کہ جتنا کبھی کسی کو نہیں پہنچا۔ اس درمیان کہ میں چل رہا تھا اور میں نے اپنے سر کو غم سے ہلکا کیا۔ اچانک میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میرے کان کو پکڑ کر ملنے لگے اور آپ میرے سامنے ہنسنے لگے۔ اور مجھے یہ بات خوش نہ کرسکتی تھی اگر اس کے بدلے میرے لیے خلد یا دنیا ہوتی۔ پھر مجھے ابوبکر ؓ ملے اور پوچھا کہ تجھے رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا میں نے کہا مجھے کچھ نہیں فرمایا مگر یہ میرے کان کو پکڑ کر ملا اور آپ میرے سامنے مسکرائے تو انہوں نے فرمایا یہ تیرے لیے خوشخبری ہے۔ پھر عمر ؓ مجھ سے ملے۔ ان سے میں نے وہی بات کہی جو ابوبکر ؓ سے کہی تھی۔ جب ہم نے صب کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت اذا جاءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ جب آپ کے پاس منافق آئے تو کہنے لگے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حتی کہ یہاں تک کہ پہنچے آیت لیخرجن الاعز منہا الذل۔ تو عزت والے لوگ اس سے ذلیلوں کو نکال دیں گے۔
3۔ ابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا۔ جب عبداللہ بن ابی نے کہا آیت لاتنفقوا علی من عند رسول اللہ حتی ینفضوا ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہیں۔ یہاں تک کہ وہ چلے جائیں اور کہا اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے۔ تو ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ میں نے اس کی یہ گفتگو سنی اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے یہ بات آپ کو بتائی۔ انصار میں سے کچھ لوگوں نے مجھے ملامت کی۔ اور وہ ان کے پاس آیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔ میں گھر لوٹ آیا اور سوگیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے تیری بات کی تصدیق کردی۔ تو یہ آیت اتاری گئی آیت ہم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ۔
4۔ طبرانی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ جب ابن ابی نے کہا جو کچھ کہا۔ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور ان کو خبردی۔ وہ آیا اور اس نے قسم کھالی کہ اس نے کچھ نہیں کیا اور لوگوں نے بھی کہنا شروع کیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جھوٹ کو لے آیا یہاں تک کہ میں گھر میں بیٹھ گیا اس خوف سے کہ کوئی مجھے نہ دیکھ لے۔ اور یہ کہنے لگیں کہ یہ وہ آدمی ہے جس نے جھوٹ بولا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
عزت کا مدار ایمان ہے
5۔ طبرانی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ میں عبداللہ بن ابی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب ؓ میں سے کچھ لوگوں کے ہمراہ وہاں سے گذرے عبداللہ بن ابی نے کہا اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ گئے۔ تو ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ میں سعد بن عبادہ ؓ کے پاس آیا۔ اور میں نے ان کو یہ بات بتائی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان کو یہ بات بتائی رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا۔ تو عبداللہ بن ابی نے اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے ایسی بات نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ نے سعد بن عبادہ ؓ کی طرف دیکھا۔ سعد ؓ نے کہا یارسول اللہ ! مجھے اس بارے میں زید بن ارقم نے بتایا ہے۔ سعد ؓ آئے اور انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے گئے اور جاکر کہا کہ اس نے مجھے بیان کیا ہے۔ مجھے عبداللہ بن ابی نے جھڑک دیا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اس حال میں کہ میں رو رہا تھا۔ اور میں نے کہا اس کی قسم ! جس نے آپ پر قرآن اتارا ہے۔ یقینی بات ہے کہ اس نے یہ بات کی ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اس سے اپنا رخ پھیرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی۔
6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام منافقین رکھا ہے۔ کیونکہ انہوں نے شرک کو چھپایا اور ایمان کو ظاہر کیا۔
7۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا۔ کہا آیت اتخذوا ایمانہم جنۃ سے مراد ہے کہ انہوں نے اللہ کی قسمیں کھائیں کہ تم میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایمان کے ذریعے سے اپنے آپ کو قتل ہونے اور جنگ سے بچاؤ کے لیے ڈھال بنایا۔
8۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت اتخذوا ایمانہم جنۃ سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال پنالیا تاکہ وہ اس کے ذریعہ اپنی جانوں کو اور اپنے مالوں کو بچالیں۔
9۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ جب سفر فرماتے تھے۔ تو مالدار ایمان والوں میں سے ہر آدمی کے ساتھ غریب آدمیوں میں سے ایک آدمی ہوتا تھا۔ تو اس کے کھانے کا سامان اور اس کا پانی وغیرہ اٹھائے ہوتا جب وہ لوگ پانی کے قریب ہوتے تھے تو یہ غریب لوگ آگے بڑھ جاتے تھے۔ اور اپنے ساتھیوں کو پانی پلاتے تھے ایک دفعہ عبداللہ بن ابی کے ساتھی ان سے آگے بڑھ گئے۔ اور انہوں نے ایمان والوں کے لیے پانی چھوڑدینے سے انکار کردیا تو ایمان والوں نے ان کو گھیر لیا۔ جب عبداللہ بن ابی آیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔ تو کہنے لگا اللہ کی قسم ! اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ہم عزت والے لوگ، ذلیل لوگوں کو ضرور نکال دیں گے۔ اور کہنے لگا کہ ان سے خریدو فروخت کو روک لو۔ زید بن ارقم ؓ نے ابن ابی کی بات کو سن لیا۔ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹے اور یہ کہنا بھی کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں ان پر خرچ نہ کرو۔ زید ؓ نے اپنے چچا کو خبر دی اور اس کے چچا نے نبی ﷺ کو خبر دی نبی ﷺ نے ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا جو اپنی شکل و صورت اور حسن و جمال کے سبب خوشنما دکھائی دیتا تھا۔ جب وہ نبی ﷺ کے پاس چل کر آتا تھا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وذا رأ یتہم تعجبک اجسامہم۔ وان یقولوا تسمع لقولہم۔ کانہم خشب مسندۃ۔ اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کی جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں اور اگر وہ بات کہیں تو آپ ان کی بات سن لیں گویا وہ لکڑیاں ہیں جو کھڑی ہوئی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو پہچان لیا اور جب اس کو بتایا تو اس نے قسم لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت اتخذو ایمانہم جنۃ وقالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اسی کو فرمایا آیت اذا جا ءک المنفقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ۔ جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں نازل فرمائی تو اس سے عبداللہ بن ابی کا ارادہ فرمایا۔
10۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذلک بانہم اٰمنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبہم۔ یہ بات اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے سو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سے مراد ہے کہ انہوں نے زبان سے لا الہ الا اللہ کا اور محمد رسول اللہ کا اقرر کیا لیکن ان کے دل اس سے انکار کرتے ہیں۔
11۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کانہم خشب مسندۃ۔ گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں کھڑی ہوئی یعنی وہ کھجور کے درخت ہیں کھڑے ہوئے۔