تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 67. Al-Mulk · Ayah 15

  1. هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ﴿15﴾

    1. هُوَوہ
    2. الَّذِيْاللہ وہ ذات ہے
    3. جَعَلَجس نے بنایا
    4. لَكُمُ الْاَرْضَتمہارے لیے زمین
    5. ذَلُوْلًاتابع۔ فرش
    6. فَامْشُوْاپس چلو
    7. فِيْ مَنَاكِبِهَااس کے اطراف میں
    8. وَكُلُوْااور کھاؤ
    9. مِنْ رِّزْقِهٖاس کے رزق میں سے
    10. وَاِلَيْهِاور اسی کی طرف
    11. النُّشُوْرُدوبارہ زندہ ہونا
Translation · Dure-Mansoor
وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مسخر بنادیا سو تم اس کے راستوں میں چلو اور اس کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مناکبہ سے مراد ہے زمین کے پہاڑ۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مناکبہا سے مراد ہے زمین کے اطراف۔ 3۔ ابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بشیر بن کعب (رح) نے یہ آیت پڑھی آیت فامشوا فی مناکبہا چلو تم اس کے اطراف میں۔ اور اپنی باندی سے فرمایا اگر تو یہ بتادے کہ زمین کے مناکب کیا ہیں پھر تو اللہ کے لیے آزاد ہے اس نے کہا زمین کے مناکب اس کے پہاڑ ہیں پھر انہوں نے ابودرداء ؓ نے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر ایسی چیز کو اختیار کر جو تجھے شک میں نہ ڈالے۔ 4۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ مناکبہا سے مراد ہے زمین کے اطراف اور اس کے پہاڑی راستے۔