تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 67. Al-Mulk · Ayah 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿22﴾
- اَفَمَنْ يَّمْشِيْکیا پھر جو چلتا ہے
- مُكِبًّاسرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر
- عَلٰي وَجْهِهٖٓاپنے چہرے پر
- اَهْدٰٓىزیادہ ہدایت یافتہ ہے
- اَمَّنْ يَّمْشِيْیا جو چلتا ہے
- سَوِيًّاسیدھا
- عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍسیدھے راستے پر
Translation · Dure-Mansoor
سو کیا جو شخص منہ کے بل گر کر اوندھا چل رہا ہے وہ شخص زیادہ ہدایت پر ہے یا وہ شخص جو سیدھے راستے پر چل رہا ہو
Tafseer · Dure-Mansoor
15۔ عبد بن حمید وعبد الرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت افمن یمشی مکبا علی وجہہ سے مراد ہے وہ کافر جو اللہ کی نافرمانی کے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن منہ کے بل چلائیں گے۔ آیت امن یمشی سویا علی صراط مستقیم سے مراد ہے وہ مومن جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی اطاعت پر اٹھائیں گے۔ آیت فلما رأوہ یعنی جب اللہ کے عذاب کو دیکھیں گے آیت زلفۃ سیئت وجوہ الذین کفروا۔ قریب سے تو ان کی صورتیں بگڑ جائیں گے جو کافر ہیں یعنی ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی جب وہ اللہ کے عذاب کو اور اس کی جانب سے ذلت کو دیکھیں گے۔