تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 67. Al-Mulk · Ayah 27

  1. فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ﴿27﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. رَاَوْهُوہ دیکھ لیں گے اس کو
    3. زُلْفَةًنزدیک
    4. سِيْٓئَتْبگڑ جائیں گے
    5. وُجُوْهُ الَّذِيْنَچہرے ان لوگوں کے
    6. كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
    7. وَقِيْلَاور کہہ دیاجائے گا
    8. هٰذَا الَّذِيْیہ ہے وہ چیز
    9. كُنْتُمْتھے تم
    10. بِهٖساتھ اس کے
    11. تَدَّعُوْنَتم تقاضا کرتے
Translation · Dure-Mansoor
پھر جب اس کو اپنے پاس آتا ہوا دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کو تم مانگا کرتے تھے
Tafseer · Dure-Mansoor
16۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وقیل ہذا الذی کنتم بہ تدعون۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کے جلدی آنے تم خواست گار تھے۔ یعنی تدعون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔ 18۔ عبد بن حمید نے ابوبکر بن عیاش سے روایت کیا اور انہوں نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اسی طرح پڑھا آیت تدعون تشدید کے ساتھ ابوبکر (رح) فرمایا کہ تدعون سے مراد ہے کہ تم جلدی کرتے تھے۔ عذاب کے آنے میں۔