تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 68. Al-Qalam · Ayah 28

  1. قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ﴿28﴾

    1. قَالَبولا
    2. اَوْسَطُهُمْان کا درمیانہ۔ ان کا بہتر شخص
    3. اَلَمْکیا نہیں
    4. اَقُلْ لَّكُمْمیں نے کہا تھا تم سے
    5. لَوْلَاکیوں نہیں
    6. تُسَبِّحُوْنَتم تسبیح کرتے
Translation · Dure-Mansoor
ان میں جو اچھا آدمی تھا وہ کہنے لگا کہ کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں بیان نہیں کرتے
Tafseer · Dure-Mansoor
68۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم یعنی ان میں جو سب سے زیادہ انصاف پسند تھا (اس نے کہا) ۔ 69۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت قال اوسطہم کے بارے میں روایت کیا یعنی جو ان میں سب سے زیادہ انصاف پسند تھا اور اللہ کی کتاب میں جہاں بھی اوسط کا لفظ ہے اس سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 70۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 71۔ ابن ابی حاتم نے سری (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم اقل لکم لو لا تسبحون کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے کہ ان کا استثنی اس زمانے میں تسبیح تھی۔ 72۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لو لاتسبحون یعنی تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ جب انہوں نے یہ بات کہی کہ وہ صبح ہوتے ہی باغ کا پھل توڑ لیں گے اور انہوں نے اس وقت انشاء اللہ نہ کہا اور تسبیح ان کا استثناء تھی۔ جیسے ہم کہتے ہیں ان شاء اللہ۔