تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 68. Al-Qalam · Ayah 51
وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ﴿51﴾
- وَاِنْ يَّكَادُاور بیشک قریب ہے کہ
- الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا
- لَيُزْلِقُوْنَكَالبتہ پھیلا دیں گے آپ کو
- بِاَبْصَارِهِمْاپنی نگاہوں سے
- لَمَّا سَمِعُواجب وہ سنتے ہیں
- الذِّكْرَذکر کو
- وَيَقُوْلُوْنَاور وہ کہتے ہیں
- اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌبیشک وہ البتہ مجنون ہے
Translation · Dure-Mansoor
اور کافر لوگ جب ذکر کو سنتے ہیں تو گویا آپ کو اپنی نگاہوں سے پھسلا کر گرادیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ مجنوں
Tafseer · Dure-Mansoor
34۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم۔ آپ کو پھسلادیں اپنی تیز نگاہوں سے۔ یعنی وہ اپنی نگاہوں سے آپ کو پچھاڑدیں گے۔
35۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم سے مراد ہے کہ وہ اپنی نگاہوں سے آپ کو گرادیں۔
36۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لیزلقونک بابصارہم کہ وہ آپ کو اپنی نگاہوں سے گرادینا چاہتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے ذکر سے عداوت کی وجہ سے۔
37۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ یہ پڑھتے تھے آیت ون یکاد الذین کفروا لیزلقونک بابصارہم اور قریب تھا کہ کافر آپ کو اپنی تیز نگاہوں سے گرادیں۔ پھر فرماتے کہ آپ کو شدت نظر سے دیکھنے کی وجہ سے وہ آپ کو اپنی نظروں سے پھسلادیں گے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ کسی طرح کہتے ہیں تیرے نے پھسلادیا یا تیر نشانے سے گزر گیا۔
38۔ ابوعبید فی فضائلہ وابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت لیزلقونک بابصارہم۔
39۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نظر کا لگ جانا حق ہے۔
40۔ ابونعیم نے الحلیہ میں جابر ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ نظر بد آدمی کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں داخل کردیتی ہے۔
41۔ بزار نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے اکثر لوگ اللہ کی قضاء وقدر کے بعد نظر کے ساتھ مرتے ہیں۔