تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 69. Al-Haaqqa · Ayah 14

  1. وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةًۙ﴿14﴾

    1. وَّحُمِلَتِاور اٹھائی جائے گی
    2. الْاَرْضُزمین
    3. وَالْجِبَالُاور پہاڑ
    4. فَدُكَّتَاتو دونوں توڑ دئیے جائیں گے
    5. دَكَّةًتوڑنا
    6. وَّاحِدَةًیکبارگی
Translation · Dure-Mansoor
اور اٹھا دی جائے گی زمین اور پہاڑ پھر دونوں کو ایک دفعہ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ الحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث والنشور میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ آیت وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدہ زمین اور پہاڑوں کو ان کی جگہ سے اٹھالیا جائے گا اور ایک دم سب کو توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔ یعنی زمین اور پہاڑ دونوں کو ریزہ ریزہ ہو کر کافروں کے چہروں پر غبار بن جائیں گے نہ مکہ مومنین کے چہروں پر اور اس کو فرمایا آیت ووجوہ یومئذ علیہا غبرۃ ترھقہا قترہ۔ کافروں کے چہروں پر اس دن غبار یا کدورت ہوگی ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔ 2۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فدکتا دکۃ واحدہ۔ کے بارے میں بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے شدید زلزلہ دوسرے نفحہ کے وقت۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے عدی بن زید کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ملک ینفق الخزائن والرقۃ قد دکہا وکادت تبور ترجمہ : بادشاہ ہے جو خزانوں اور عقد کی آمدنی کو خرچ کرتا ہے تحقیق اس نے اسے کمزور کردیا ہے اور وہ برباد ہونے کے قریب ہوگئی ہے۔ 3۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ آیت فدکتا دکۃ واحدۃ (پس وہ دونوں ریزہ ریزہ کردئیے جائیں گے) مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کرلی نگے اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ کے ساتھ لپیٹ لیں گے۔ پھر فرمائیں گے آج کس کی بادشاہی ہے دنیا کے بادشاہ کہاں ہیں۔۔