تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 1

  1. سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ﴿1﴾

    1. سَاَلَسوال کیا
    2. سَآئِلٌۢسوال کرنے والے نے
    3. بِعَذَابٍعذاب کا
    4. وَّاقِعٍجو واقع ہونے والا ہے
Translation · Dure-Mansoor
سوال کیا ایک سوال کرنے والے نے عذاب کے بارے میں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ فریابی وعبد بن حمید والنسائی وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سال سائل ایک سوال کرنے والے نے سوال کیا یعنی نضر بن حارث نے اور اس نے یہ کہا تھا اے اللہ اگر یہ حق ہے تیرے پاس تو ہم پر پتھر برسادیجیے اور فرمایا آیت للکفرین لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج۔ یعنی اس عذاب کے بارے میں جو ہو کر رہنے والا ہے۔ آیت للکفرین لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج۔ یعنی یہ تیار ہے کافروں کے لیے کہ اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ہے جو درجات کا مالک ہے۔ 2۔ ابن المنذر نے زید بن اسلم (رح) سے اس طرح روایت کیا۔ سورۃ المعارج کا شان نزول 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی رحمۃ اللہ علہ سے آیت سال سائل کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت مکہ میں نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی اور اس نے کہا تھا اے اللہ اگر یہ حق ہے آپ کی طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اور اسے عذاب بدر کے دن ہوا۔ 4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت بعذاب واقع سے مراد ہے کہ دنیا میں ان کا یہ کہنا آخرت میں واقع ہوگا کہ اے اللہ اگر ہی تیری جانب سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے اور یہ کہنے والا نضر بن حارث تھا۔ 5۔ ابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت سال سائل بعذاب واقع کے نازل ہونے پر لوگوں نے کہا کس پر عذاب واقع ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا۔ آیت للکفرین لیس لہ دافع یعنی کافروں پر کہ پھر اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں ہوگا۔ 6۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سال سائل سے مراد ہے کہ دعا کی ایک دعا کرنے والے نے بعذاب واقع اس عذاب کے بارے میں جو آخرت میں واقع ہوگا اور ان کا یہ کہنا تھا اے اللہ ! اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسائیے یا ہم پر دردناک عذاب لے آ۔ 7۔ عبد بن حمید نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ عبد نزار میں سے کسی آدمی نے جس کا حارث بن علقمہ کہا جاتا تھا۔ اے اللہ اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجیے یا ہم پر دردناک عذاب لے آئیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وقالوا ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب (ص۔ آیت 16) اور کہتے ہیں اے رب ! ہمارے ہمارا حصہ ہمیں حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ولقد جئتمونا فرادا (الانعام آیت 94) اور البتہ تم ہمارے پاس ایک ایک ہو کر آگئے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا سال سائل بعذاب واقع یعنی وہ آدمی جس نے کہا اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر پتھر برسا دے۔ اور وہ آدمی جس نے کہا آیت ربنا عجل لنا قطنا (ص آیت 16) اور یہ وہی آدمی ہے جس نے عذاب کا مطالبہ تھا جو واقع ہو کر رہے گا۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت سال سائل میں سال جہنم میں ایک وادی ہے۔