تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 36

  1. فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ﴿36﴾

    1. فَمَالِ الَّذِيْنَتو کیا ہے ان لوگوں کو
    2. كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
    3. قِبَلَكَآپ کی طرف۔ آپ کے سامنے
    4. مُهْطِعِيْنَدوڑ کے آنے والے ہیں
Translation · Dure-Mansoor
سو کیا ہوا کافروں کو کہ آپ کی طرف دوڑ رہے ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
20۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فمال الذین کفرو قبلک مہطعین پس کافروں کو کیا ہوگیا کہ آپ کی طرف دوڑے آرہے ہیں یعنی وہ آپ کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں آیت عن الیمین وعن الشمال عزین۔ دائیں اور بائیں سے ٹولیا بنا کر یعنی غصہ کرتے ہوئے لوگوں سے دائیں اور بائیں طرف منہ پھیرتے ہوئے اور اس کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے۔ 21۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمال الذین کفرو قبلک مہطعین سے مراد ہے کہ ان کافروں کو کیا ہوا کہ وہ آپ کی طرف قصد کرتے ہوئے بھاگے آرہے ہیں۔ آیت عن الیمین وعن الشمال عزین یعنی نبی ﷺ کے ارد گرد گروہ درگروہ حالانکہ نہ وہ اللہ کی کتاب میں رغبت رکھتے ہیں اور نہ اس کے ذکر میں۔ 22۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فمال الذین کفروا قبلک مہطعین۔ یعنی وہ بھاگتے ہوئے آرہے ہیں آیت عن الیمین وعن الشمال عزین۔ یعنی وہ گروہ در گروہ دائیں اور بائیں طرف سے آرہے ہیں اور کہہ رہے ہیں یہ آدمی کیا کہتا ہے۔ 23۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت عن الیمین وعن الشمال عزین۔ کے بارے میں مجھے بتائیے۔ فرمایا اس سے مراد ہے ساتھیوں کی جماعت کا حلقہ بنا کر بیٹھنا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا کیا تو نے عبید بن احوص کو نہیں سنا کہ وہ کہتا ہے