تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 1
قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ﴿1﴾
- قُلْآپ فرمادیں
- اُوْحِيَمجھے وحی کی گئی
- اِلَيَّمیری طرف
- اَنَّهُ اسْتَمَعَکہ اسے سنا
- نَفَرٌایک جماعت
- مِّنَسے، کی
- الْجِنِّجنات
- فَقَالُوْٓاتو انہوں نے کہا
- اِنَّابیشک ہم
- سَمِعْنَاہم نے سنا
- قُرْاٰنًاقرآن
- عَجَبًاایک عجیب
Translation · Dure-Mansoor
آپ فرمادیجیے کہ میرے پاس یہ وحی آئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے میری طرف بات سننے کے لیے دھیان دیا پھر انہوں نے کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن المنذر والحاکم والطبرانی وابن مردویہ و ابونعیم والبیہقی معا دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ میں سے ایک جماعت کے ساتھ چلے سوق عکاظ کے ارادہ سے اور اسی دور میں رکاوٹ کردی گئی شیطانوں اور آسمانوں کی خبر کے درمیان اور ان پر آگ کے شعلے چھوڑے گئے۔ شیاطین اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو قوم نے کہا کیا ہوا تمہارے لیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ کردی گئی ہے اور ہم کو بھگانے کے یلے ہم پر آگے کے شعلے چھوڑے گئے تو قوم نے کہا کہ تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی۔ مگر کوئی نئی چیز پیدا ہوگئی۔ تو تم زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں پھیل جاؤ اور غور سے دیکھو کہ کونسی چیز تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوگئی ہے وہ چل پڑے ان میں سے جو تہامہ کی جانب گئے انہوں نے نبی ﷺ کو پالیا۔ اور آپ مقام نخلہ میں تھے سوق عکاظ کی طرف جاتے ہوئے۔ اور آپ اپنے صحابہ کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھ تو جب انہوں نے قرآن کو سنا تو خوب غور سے سا اور کہا یہ ہے وہ چیز اللہ کی قسم ! جو تمہارے اور آسمان کے خبر کے درمیا حائل ہوگئی ہے۔ وہیں سے وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور انہوں نے کہا اے ہماری قوم ! انا سمعنا قراٰنا عجبا۔ یہدی الی الرشد فاٰمنا بہ۔ ولن نشرک بربنا احدا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے سو ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم اپنے رب کا کسی کو شرک نہ ٹھہرائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی آیت قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن کہہ دو کہ مجھے اس بات کی وحی آئی ہے کہ کچھ جن مجھ سے قرآن پڑھتے سن گئے ہیں۔
آسمانوں میں جنات کو روکنے کے لیے پہریدار ہیں۔
2۔ ابن المنذر نے عبدالملک (رح) سے روایت کیا کہ جنات کو اوپر جانے سے نہیں روکا گیا۔ عیسیٰ اور محمد (علیہما السلام) کے زمانہ فترت میں۔ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا تو آسمان دنیا پر پہرے بٹھا دئیے گئے۔ اور جنات کو شہابوں کے ذریعہ بھگا دیا گیا تو وہ جنات ابلیس کے پاس اکٹھے ہوئے تو اس نے تو اس نے کہا کہ زمین میں کوئی نئی بات پیش آگئی ہے تم اس کو تلاش کرو اور ہم کو خبردو کہ یہ نئی بات کیا ہے تو شیطان نے ایک جماعت کو تہامہ کی طرف۔ دوسری جماعت کو یمن کی طرف بھیجا اور یہ سب اشراف اور سردار جنات تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کو اس حال میں پایا کہ آپ نخلہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ان جنات نے قرآن کی تلاوت کو سنا جب وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا تم خاموشی سے سنتے رہو۔ جب نماز پوری ہوگئی اور آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوگئے۔ وہ یہ جنات اپنی قوم کی طرف واپس لوٹ آئے اور وہ ایمان دار اور ڈرانے والے تھے آپ ﷺ کو ان کے بارے میں احساس نہ ہو۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی آیت قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن کہہ دو کہ مجھے اس بات کی وحی آئی ہے کہ کچھ جن مجھ سے قرآن پڑھتے سن گئے۔ کہا گیا کہ نصیبین والوں میں سے سات جن تھے۔
3۔ ابن جوزی نے صفوۃ الصفوۃ کتاب میں اپنی سند کے ساتھ سہل بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں قوم عاد کے گھروں کے اطراف میں تھا۔ اچانک میں پتھروں کا ایک شہر دیکھا۔ اس کے درمیان میں یہ لکھا ہوا تھا پتھروں کا محل جس میں جن پناہ لیتے تھے۔ پس میں اس میں داخل ہوا تو اچانک ایک عظیم الخلقت بوڑھا آدمی کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر اون کا ایک جبہ تھا جس میں حسن و جمال خوب تھا میں نے اس کی عظیم الخلقت سے تعجب نہیں کیا۔ جتنا میں اس کے جبے کے حسن و جمال سے تعجب کیا۔ میں نے اس کو سلام کیا اس نے مجھے سلام کا جواب دیا۔ اور اس نے کہا اے سہل ! بدن کپڑوں کو پرانا نہیں کرتے۔ اور گناہوں کی بو اور حرام کمائی کا کھانا اسے بوسیدہ کردیتے ہیں۔ بیشک ! یہ جبہ مجھ پر سات سو سال سے ہے۔ اس کے ساتھ میں نے عیسیٰ اور محمد (علیہما السلام) کے ساتھ ملاقات کی۔ میں ان دونوں پر ایمان لایا پھر میں نے اس سے وپچھا تو کون ہے۔ اس نے کہا میں ان جنات میں سے ہوں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن اور نصیبین کے جنات میں سے تھے۔