تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 3
وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ﴿3﴾
- وَّاَنَّهٗاور یہ کہ
- تَعٰلٰىبرتر
- جَدُّشان
- رَبِّنَاہمارا رب
- مَا اتَّخَذَاس نے نہیں بنایا
- صَاحِبَةًبیوی
- وَّلَااور نہ
- وَلَدًااولاد
Translation · Dure-Mansoor
اور بہت بلند ہے ہمارے رب کی عزت نہیں بنایا اس نے کسی کو بیوی اور نہ اولاد
Tafseer · Dure-Mansoor
4۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تعالیٰ جد ربنا ہمارے رب کی شان بلند ہے یعنی ہمارے رب کا امر اور اس کی عظمت بلند ہے۔
5۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وانہ تعالیٰ جد ربنا سے مراد ہے کہ اس کا امر اور اس کی قدرت بلند ہے۔
6۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت تعالیٰ جد ربنا سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے اس کی عظمت پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے مایہ بن ابی صلت شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا وہ کہتا ہے
لک الحمد والنعماء والملک ربنا ولا شیء اعلی منک جدا ولا امجدا
ترجمہ : تیرے لیے ہی تمام تعریفیں برکتیں اور ملک اے ہماررب ! اور عزت وشرف اور عظمت و بزرگی میں کوئی چیز تجھ سے بلند اور اعلیٰ نہیں۔
7۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اگر جنات اس نشانی کو جان لیتے کہ وہ انسانوں میں ہوگا تو وہ نہ کہتے آیت تعالیٰ جد ربنا۔
8۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت تعالیٰ جد ربنا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ہمارے رب کا غنی ہونا۔
9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت تعالیٰ جد ربنا سے مراد ہے کہ اس کی عظمت اعلیٰ وارفع ہے۔
10۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت تعالیٰ جد ربنا سے مراد ہے ہمارے رب کا جلال اعلیٰ وارفع ہے۔
11۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت وانہ تعالیٰ جد ربنا کے بارے میں روایت کیا کہ ہمارے رب کا ذکر اعلیٰ وارفع ہے اور آیت وانہ کان یقول سفیہنا اور ہم میں سے بعض بیوقوف ہیں جو اللہ پر جھوٹی باتیں بنایا کرتے ہیں اور وہ ابلیس مراد ہے۔
13۔ عبد بن حمید نے عثمان بن حاضر (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔