تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 5
وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ﴿5﴾
- وَّاَنَّااور یہ کہ ہم
- ظَنَنَّآہم نے گمان کیا
- اَنْکہ
- لَّنْ تَقُوْلَہرگز نہ کہیں گے
- الْاِنْسُانسان
- وَالْجِنُّاور جن
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- كَذِبًاجھوٹ
Translation · Dure-Mansoor
اور ہم یہ خیال کرتے تھے کہ انسان اور جن اللہ کی ذات کے بارے میں جھوٹ بات نہ کہیں گے
Tafseer · Dure-Mansoor
14۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وانہ یقول سفیہنا علی اللہ شططا سے مراد ہے کہ اللہ کی نافرمانی کی ہے احمق جنوں نے جیسے نافرمانی کی ہے اللہ کی احمق انسانوں نے۔
15۔ عبد بن حمید نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہی آیت جو سورة جن میں ہے اور وہ آیت جو سورة نجم میں ہے پڑھتے تھے اور ان وانہ دونوں جگہ ہمزہ کو منصوب پڑھتے تھے۔
جنات کے سرداروں کی پناہ لینا حرام ہے
16۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والعقیلی فی الضعفاء ولطبرانی واب والشیخ فی العظمہ وابن عساکر نے کردم بن ابی السائب الانصاری ؓ سے روایت کیا کہ میں اپنے باپ کے ساتھ ایک حاجت میں مدینہ کی طرف نکلا اور یہ مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کا ابتدائی زمانہ تھا ہم نے راستے میں ایک برکیاں چرانے والے پاس رات گذارنے کا ٹھکانہ بنایا جب آدھی رات ہوئی تو ایک بھیڑیا آیا اور اس نے بکری میں سے ایک بچہ کو اٹھالیا بکریاں چرانے والا اس پر کود پڑا اور کہا اے اس وادی کو آباد کرنے والا میں تیرے گھر پناہ لینے والا ہوں۔ تو ایک آواز دینے والے نے آواز دی۔ اے سرحان ! تو اسے نہ دیکھ اس نے اس کو چھوڑدیا پس وہ بکری کا بچہ دوڑتے ہوئے آیا۔ یہاں تک کہ بکریوں میں داخل ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر مکہ میں یہ آیت نازل فرمائی آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے الایۃ۔
17۔ ابن سعد نے ابورجاء العطاردی تمیمی ؓ سے روایت کیا جو بقیلہ بنو تمیم میں سے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو میں اپنے گھروالوں کا کفیل تھا اور میں ان کی مشقتوں اور حاجات کے لیے کفالت کرتا تھا۔ جب نبی ﷺ تشریف لائے تو ہم بھاگتے ہوئے نکل گئے۔ تو ہم وسیع بیابان پر آگئے۔ اور جب ہم کو اس زمین پر شام ہوگئی تو ہمارے بوڑھے شیخ نے کہا کہ ہم آج کی رات جنات کے شر سے اس وادی کے سردار کی پناہ لیتے ہیں تو ہم نے بھی وہی کہا اور ہم کو یہ بتایا گیا کہ اس آدمی یعنی محمد ﷺ کی تعلیم یہ ہے لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی دینا تو جس نے اس کا اقرار کیا تو اس نے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کرلیا پھر ہم واپس لوٹے اور ہم اسلام میں داخل ہوگئے ابورجاء (رح) نے فرمایا میں اس آیت کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہوں کہ وہ میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور وہ یہ ہے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقا۔ اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے۔ سو انہوں نے ان کی سرکشی اور بڑھا دی۔
18۔ ابونصر السجزی فی الابانۃ مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنو تمیم میں سے ایک آدمی رات پر اور لوگوں کے مقابلے میں بہت جری اور بہادر تھا وہ رات کو چلا اور جنات کی زمین میں اترا تو وہ گھبرا گیا۔ اور اس نے اپنی اونٹنی کو باندھا پھر اس کے ساتھ تکیہ لگا کر بیٹھ گیا اور کہا میں اس وادی کے سردار کی پناہ مانگتا ہوں اس کے رہنے والوں کے شر سے تو ایک شیخ نے ان میں سے اس کو پناہ دیدی۔ اور ان میں سے ایک نوجون تھا اور وہ جنات کا سردار تھا وہ نوجون غصہ ہوگیا جب اس شیخ نے اس کو پناہ دی۔ اس نے اپنانیزہ اٹھایا اس نے اسے زہر میں بجھا رکھا تھا تاکہ اس آدمی کی اونٹنی کو اس کے ساتھ نحر کردے۔ تو اس شیخ نے اونٹنی کے آگے آکر اس سے ملاقات کی اور اس سے کہا۔
یاملک بن مہلہل مہلا فذلک محجری وازاری
ترجمہ : اے مالک بن مہلہل ٹھہرجا پس وہ میری جائے حفاطت اور میری پناہ میں ہے
ترجمہ : اس انسان کی اونٹنی تعرض نہ کر اور تو چن لے جب نیل گائیں میرے بیلوں میں داخل ہوں۔
انی ضمنت لہ سلامۃ رحلہ فاکفف یمینک راشدا عن جاری
ترجمہ : میں نے ضمانت لی ہے اس کی سواری کی سلامتی کی، پس تو میرے پڑوسی سے راہ ہدایت پر چلتے ہوئے اپنے ہاتھ کو روک لے
ولقد اتیت الی مال احتسب الا رعیت قرابی وجواری
ترجمہ : اور تحقیق میں اس تک آپ ہپنچا ہوں جسے میں شمار ہی نہیں کیا ورنہ میں نے تو اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی حفاظت اور رعایت کی ہے
تسعی الیہ بحربۃ مسمومہ اف لقربک یا ابالیقطاری
ترجمہ : تو دوڑے جا رہا ہے اس کی طرف زہر آلودہ نیزہ کے ساتھ اے ابو الیقطاری میں تیرے قرب کو ناپسند کرتا ہوں
لولا الحیاء وان اہلک جیرۃ لتمزقتک بقوۃ اظفاری
ترجمہ : اگر حیانہ ہوتی کہ تیرے گھروالے پڑوسی سے تو میں تجھ کو ضرور پھاڑ دیتا اپنے ناخنوں کی قوت سے نوجوان نے اس سے کہا
اترید ان تعلوا وتخفض ذکرنا فی غیر مزریۃ اباالعیزار
ترجمہ اے ابوالعیرزار کیا تو ارادہ کرتا ہے کہ تو بلند ہوجائے اور تو ہمارا ذکر بغیر کسی غیبت کے پس کردے۔
متنحلا امرا لغیرک فضلہ فارحل فان المجد للمرار
ترجمہ : اختیار کرنے والا ایسے کام کا جو تیرے علاوہ کے لیے باعث فضیلت ہو۔ سو تو کوچ کر کیونکہ بزرگی کوچ کرنے والے کے لیے ہے۔
من کان منکم سیدا فیمامضی ان الخیارہم بنو الاخیار
ترجمہ : تم میں سے جو سردار تھے ان دنوں میں گزر چکے۔ بلاشبہ افضل واعلیٰ وہی ہیں جو اعلیٰ لوگوں کی اولاد ہیں۔
ماقصد لقصدک۔۔ انما کان المجیر ملہل بن وبار
ترجمہ : اے دوبارہ حملہ کرنے والے اپنے ارادہ میں اعتدال پیدا کر کیونکہ پناہ دینے والا مہلہل بن وبار ہے
شیخ نے کہا تو نے شچ کہا تیرا باپ ہمارا سردار اور ہم میں سے افضل تھا تو اس آدمی کو چھوڑ دے تو میں تجھ سے جھگڑا نہیں کروں گا اس کے بعد کسی ایک کے بارے میں تو اس نے اس کو چھوڑ دیا۔ وہ آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اپنا قصہ بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو وحشت اور خوف آپہنچے یا جنوں والی زمین میں اترے تو اس کو چاہیے یہ کلمات کہے :
اعوذ بکلمات اللہ التامات التی لا یجاوزہن بر ولا فاجز من شر مایلج فی الارض وما یخرج منہا وما ینزل من وما یعرف جہا ومن فتن اللیل ومن طوارق النہار الا طارقا یطرق بخیر۔
ترجمہ : میں اللہ کے پورے کلموں کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں کہ نہ کوئی نیک اور نہ بدکار ان سے پار ہونا ہے اس شر سے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے۔ اور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور رات کے فتنوں اور دن کو آنے والے فتنوں سے مگر وہ آنے والا جو خیر کے ساتھ آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ نازل فرمایا آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقا۔ اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے۔ سو انہوں نے ان کی سرکشی اور بڑھا دی۔ ابو نصر (رح) نے کہا یہ حدیث انتہائی غریب ہے ہم نے اسے اس سند کے علاوہ کہیں نہیں پایا۔
19۔ الخرائطی نے کتاب الہواتف میں سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی بنو تمیم میں سے تھا جس کو رافع بن عمیر کہا جاتا تھا انہوں نے اپنے اسلام لانے کا ایک واقعہ بیان کیا کہ میں ایک رات عالج کے صحراء میں چل رہا تھا اچانک مجھ پر نیند غالب ہوئی۔ میں اپنی سواری سے نیچے اترا، اس کو میں نے نیچے بٹھادیا اور میں سو گیا۔ میں نے اپنی نیند سے پہلے پناہ مانگتے ہوئے کہا کہ میں پناہ مانگتا ہوں۔ اس وادی کے بڑے جن سے پھر میں نے اپنی نیند میں ایک آدمی کو دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں نیزہ ہے کہ اس سے میری اونٹنی کو نحر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے میں گھبراکر اٹھا۔ میں نے دائیں اور بائیں طرف دیکھا مگر کسی چیز کو نہ دیکھا میں نے کہا یہ خواب ہے۔ پھر میں لوٹا اور سوگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر اسی طرح میں نے دیکھا۔ میں جاگا میں اپنی اونٹنی کے اردگرد گھوما۔ لیکن میں نے کوئی چیز نہ دیکھی اچانک میری انٹنی کانپ رہی تھی۔ پھر میں سوگیا، پھر میں نے اسی طرح دیکھا۔ میں جاگا تو میں نے دیکھا کہ میری اونٹنی مضطرب اور پریشان ہے۔ پھر میں متوجہ ہوا اچانک ایک نوجوان آدمی جسے میں نے نیند میں دیکھا تھا اس کے ہاتھ میں نیزہ ہے اور ایک بوڑھا آدمی اس کے ہاتھ کو پکڑے ہوئے تھا اور اس کو اونٹنی سے روک رہا تھا۔ اس درمیازن کہ وہ دونوں جھگڑ رہے تھے۔ اچنک تین وحشی بیل ظاہر ہوئے بوڑھے نے اس جوان سے کہا : کھڑا ہوجا اور اس میں سے جو چاہے لے لے۔ پس اونٹنی کے بدلے میں وہ نوجوان کھڑا ہوا اور اس میں سے ایک بڑے بیل کو لے لیا اور چلا گیا۔ پھر وہ شیخ میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا : اے فلاں جب تو وادیوں میں سے کسی وادی میں اترے تو اس کا خوف محسوس کرنے لگے یوں کہنا میں پناہ مانگتا ہوں اس اللہ کے ساتھ جو محمد ﷺ کے رب ہیں اس وادی کے خوف سے اور کسی جن کی پناہ نہ مانگنا کیونکہ اس کا حکم باطل ہے۔ میں نے اس سے کہا یہ محمد ﷺ کون ہیں۔ اس نے کہا کہ وہ عربی نبی ہیں نہ شرقی ہیں نہ عربی ہیں۔ وہ پیر کے دن مبعوث ہوئے میں نے کہا اس کا مسکن کہا ہے ؟ اس نے کہا یثرت جو کھجوروں والی زمین ہے میں اپنی سواری پر سوار ہوا۔ جب صبح روشن ہوئی اور خوب تیزی سے چلتا رہا یہاں تک کہ مدینہ منورہ آگیا مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا اور مجھے ساری بات بیان فرمادی۔ پہلے اس سے کہ میں آپ کے سامنے کچھ بیان کروں اور مجھے اسلام کی طرف دعوت دی تو میں مسلمان ہوگیا سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا کہ ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقا اور کچھ آدمی جنوں کے مردوں سے پناہ لیا کرتے تھے سو انہوں نے ان کی سرکشی اور بڑھا دی۔