تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 72. Al-Jinn · Ayah 6

  1. وَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ﴿6﴾

    1. وَّاَنَّهٗاور یہ کہ
    2. كَانَ رِجَالٌتھے کچھ آدمی
    3. مِّنَ الْاِنْسِانسانوں میں سے
    4. يَعُوْذُوْنَپناہ لیتے (تھے)
    5. بِرِجَالٍلوگوں سے
    6. مِّنَ الْجِنِّجنات سے
    7. فَزَادُوْهُمْتو انہوں نے (جنات) کو بڑھا دیا
    8. رَهَقًاتکبر میں
Translation · Dure-Mansoor
اور بیشک بات یہ ہے کہ بہت سے مرد انسانوں میں سے ایسے تھے جو جنات کے مردوں کی پناہ لیا کرتے تھے تو انہوں نے ان کی تکبر میں زیادہ کیا
Tafseer · Dure-Mansoor
20۔ ابن جریر وابن مردویہنے ابن عباس ؓ سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ کچھ لوگ انسانوں میں سے زمانہ جاہلیت میں جب وہ کسی وادی میں رات گذارتے تھے تو وہ کہتے تھے میں اس وادی کے سردار سے پناہ مانگتا ہوں اور فرمایا فزادوہم رہقا میں رہقا سے مراد ہے گناہ یعنی انہوں نے ان میں گناہ کے اعتبار سے اضافہ کردیا۔ 21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن (رح) سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ ان میں سے کوئی ایک جب کسی وادی میں اترتا تو وہ کہتا میں اس وادی کے عزیز کی پناہ مانگتا ہوں اس قوم کے بیوقوفوں کے شر سے تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس رات میں یا اس دن میں امن والا ہوجاتا ہے۔ 22۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ جب وہ لوگ کسی وادی میں اترتے تو تھے کہ ہم اس وادی کے عظیم سردار سے پناہ مانگتے ہیں آیت فزادوہم رہقا سو انہوں نے ان کی سرکشی اور بڑھا دی۔ یعنی اس بات نے کفار کی سرکشی میں اور زیادہ کردیا۔ 23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب وہ کسی منزل پر اترتے یوں کہتے کہ ہم اس جگہ کے عزیز یعنی جنات کے سردار سے پناہ مانگتے ہیں آیت فزادوہم رہقا۔ یعنی اس بات نے ان کو اور زیادہ کردیا۔ خطا میں اور گناہ میں۔ 24۔ عبد بن حمید نے ابراہیم (رح) آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن کے بارے میں روایت کیا کہ ایک قوم تھی جب وہ کسی وادی میں اترتے تو یو کہتے کہ ہم اس وادی کے رہنے والوں کے سردار کی پناہ مانگتے ہیں اور یہ کہتے ہم نہ اپنے لیے اور نہ تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع کے مالک ہیں وہم ہم کو ڈراتے ہیں پس تم ان پر قبضہ کرلو۔ 25۔ عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) آیت وانہ کان رجال من الانس یعوذون برجال من الجن فزادوہم رہقا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ کہتے تھے جنات میں سے فلاں اس وادی کا مالک ہے۔ اور جب ان میں سے کوئی اس وادی میں داخل ہوتا تھا تو وادی کے رب سے پناہ مانگتا تھا اللہ کو چھوڑ کر پس اس کے سبب اس میں رہقا یعنی خوف اور بڑھ جاتا تھا۔ 26۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ کچھ آدمی زمانہ جاہلیت میں جب کسی جنات کی وادی میں آتے تو انسان میں سے ندا دینے والا کسی نیک جن کو پکار کر کہتا تھا کہ وہ ہم سے اپنے سرکشی اور بیوقوفوں کو روک لو۔ پس انہیں کچھ فائدہ نہ دیا جو ان کو نصیحت کی گئی آیت فزادوہم رہقا۔ سو ان کو زیادہ کردیا سرکشی میں۔ 27۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں جب کسی وادی میں نازل ہوتے تو یوں کہتے کہ ہم اس وادی کے سردار کی پناہ مانگتے ہیں اس شر سے جو اس میں ہے۔ پس وہ ان کے سبب ان سے بڑ کر کسی چیز سے زیادہ محبت نہیں کرتے تھے اسی کو فرمایا آیت فزودوہم رہقا کہ اس بات نے ان کو سرکشی میں اور زیادہ کردیا۔ بت پرستی شیطانی دھوکہ ہے۔ 28۔ ابن مردویہ نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعلایٰ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو میں دو یا تین اسلامی ساتھیوں کے ساتھ اسلام لانے کے لیے گیا میں پانی پر آیا۔ جہاں لوگ جمع تھے اور لوگوں کے پاس ایک چرواہا بھی تھا جو ان کی بکریوں کو چراتا تھا۔ اس نے کہا میں تمہاری بکریوں کو نہیں چراؤں گا۔ انہوں نے کہا کیوں اس نے کہا کہ ایک بھیڑیاہر رات کو آتا ہے اور وہ ایک بکری کو لے جاتا ہے۔ اور تمہارا یہ بت سوتا رہتا ہے نہ نقصان پہنچاتا ہے نہ نفع دیتا ہے نہ اقرار کرتا ہے نہ انکار کرتا ہے۔ وہ لوگ چلے گئے اور میں یہ امید کر رہا تھا کہ وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ جب ہم نے صبح کی تو وہ چرواہا دوڑتے ہوئے آیا اور کہنے لگا خوشخبری ہو، خوشخبری ہو بھیڑیا لا یا گیا ہے اور وہ بت کے سامنے بغیر رسی کے بندھا ہوا ہے۔ وہ لوگ گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا انہوں نے اس کو قتل کیا اور بت کو سجدہ کیا اور کہنے لگے تو بھی اسی طرح کیا کر۔ میں محمد ﷺ کے پاس آیا اور یہ واقعہ آپ کے سامنے بیان کیا تو آپ نے فرمایا ان کے ساتھ شیطان نے کھیل کیا۔