تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 73. Al-Muzzammil · Ayah 1
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ﴿1﴾
- يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُاے کپڑوں میں لپٹنے والے (محمد)
Translation · Dure-Mansoor
اے کپڑوں میں لپٹنے والے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ البزار والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم نے الدلائل میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم اس آدمی یعنی محمد ﷺ کا ایسا نام رکھو جس سے لوگ کوئی نتیجہ اخذ کرسکیں پھر انہوں نے کہا یہ کاہن ہے بعض نے کہا یہ کاہن نہیں پھر انہوں نے کہا یہ مجنون ہے تو دوسروں نے کہا یہ مجنون نہیں ہے پھر کچھ لوگوں نے کہا یہ جادوگر ہے تو دوسروں نے کہا یہ جادوگر نہیں ہے۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ ایک دوست کو اپنے دوست سے جدا کردیتا ہے تو اس پر مشرک متفرق ہوگئے یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی آپ اپنے کپڑوں میں لپٹ گئے اور اپنے اوپر چادر اوڑھ لی۔ آپ کے پاس جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا آیت یا ایہا المزمل اے کپڑا اوڑھنے والے آیت یا ایہا المدثر اے چادر لپیٹنے والے۔
2۔ احمد ومسلم وابوداوٗد والنسائی ومحمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ اور بیہقی نے اپنی سنن میں سعد بن ہشام (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتائیے ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا کیا تو نے یہ سورة نہیں پڑھی۔ آیت یا ایہا المزمل میں نے کہا کیوں نہیں ؟ پھر عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة کے آغاز میں قیام اللیل کو فرض کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ ایک سال تک قیام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس سورة کے آخری حصے کو بارہ ماہ تک آسمان میں روکے رکھا پھر اللہ تعالیٰ نے تخفیف اور رخصت کو اس سورت کے آخر میں نازل فرمایا۔ تو رات کا قیام نفل ہوگیا فرض ہونے کے بعد۔
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ قرآن میں آیت یا ایہا المذمل قم اللیل الا قلیلا۔ نازل ہوا یہاں تک کہ ایک آدمی رسی باندھ کر لٹک جاتا تھا۔ اسی حکم پر آٹھ ماہ عمل کرتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ وہ اس کی رضا اور خوشنودی کو چاہتے ہیں تو ان پر رحم فرمایا اور ان کو فرض نماز کی طرف لوٹادیا۔ اور قیام اللیل کو چھوڑدیا۔
4۔۔ محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں والحاکم وصححہ نے جبیر بن نفیر (رح) سے روایت کی کہ میں نے عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے رات کو قیام کرنے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کیا تو نے نہیں پڑھا۔ آیت یا ایہا المزمل میں نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہی ان کا قیام تھا۔
رسول اللہ ﷺ کا راتوں کو کم سونا
5۔ عبداللہ بن احمد فی زوائد الزہد ومحمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ بہت کم رات کو سوتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا آیت قم اللیل الا قلیلا۔
6۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن وابی حاتم ومحمد بن نصر والطبرانی والحاکم وصححہ و بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کہ جب سورة مزمل کا اول حصہ نازل ہوا۔ تو صحابہ کرام تقریباً اتنا وقت قیام کرتے تھے۔ جتنا رمضان کے مہینہ میں قیام کرتے تھے یہاں تک کہ اس کا آخر حصہ نازل ہوا۔ اور اس کے اول اور آخر کے درمیان تقریباً ایک سال کا فاصلہ ہے۔
7۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن نصر نے ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے روایت کیا کہ یہ سورة آیت یا ایہا المزمل نازل ہوئی تو ایک سال تک اس حکم پر قیام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے قدم اور ان کی پنڈلیوں پر ورم آگیا۔ پھر یہ آیت فاقرء وا ما تیسر منہ نازل ہوئی تو لوگوں نے آرام پایا۔
8۔ عبد بن حمید وابن جریر جریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا المزمل قم اللیل الا قلیلا۔ نازل ہوئی۔ تو نبی اکرم ﷺ اس حال پر دس سال ٹھہرے رہے اور قیام اللیل فرمایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم فرمایا اور آپ کے صحابہ کرام ؓ میں سے ایک جماعت بھی آپ کے ساتھ قیام کرتی رہی۔ دس سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ان ربک یعلم انک تقوم سے لے کر آیت فاقیموا الصلوۃ تک تو اللہ تعالیٰ نے ان سے تخفیف فرمادی دس سال کے بعد۔
9۔ ابو داوٗد فی ناسخہ ومحمد بن نصر وابن مردویہ والبیہقی فی السنن عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة مزمل میں فرمایا آیت قم اللیل الا قلیلا نصفہ۔ رات کو قیام کر مگر تھوڑا ساحصہ یعنی اس کا آدھا اور وہ آیت جس میں ہے آیت والنہار علم ان لن تحصوہ فتاب علیکم فاقرء وا ماتیسر من القراٰن۔ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو نباہ نہیں سکتے سو اس نے تم پر رحم کیا پس پڑھو جتنا قرآن میں سے آسان ہو آیت ناشءۃ اللیل یعنی رات کا اٹھنا اس کا اول ہے اور ان کی نماز رات کے اول حصہ میں ہوتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ تم اس کو شمار کرلو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر قیام اللیل میں سے فرض کیا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ انسان جب سوجاتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ کب جاگے گا اور فرمایا آیت واقوم قیلا اور بات بھی صحیح نکلتی ہے۔ یعنی وہ زیادہ مناسب ہے کہ آپ قرآن کی قراءت کو سمجھیں آیت ان لک فی النہار سبحا طویلا۔ بیشک دن میں آپ کے لیے بڑا کام ہے یعنی لمبی فراغت ہے۔
10۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المزمل اے چادر اوڑھنے والے یہ آیت نازل ہوئی اور اس وقت آپ ایک مخمملی چادر میں تھے۔
11۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا المزمل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ آپ نے س امر کو چھپا رکھا ہے۔ سو آپ اس کے ساتھ کھڑے ہوں۔
12۔ ابن ابی شبیبہ وابن نصر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المزمل سے مراد ہے کہ آپ نے اس امر کو چھپا رکھا ہے سو آپ کے ساتھ اٹھیں اور فرمایا آیت یا ایہا المدثر سے مراد ہے کہ آپ نے اس امر کو چادر کے ساتھ ڈھانپ رکھا ہے سو آپ اس کام کو لے کر کھڑے ہوجائیں۔
13۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا المزمل کے بارے میں روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کپڑا اوڑھے ہوئے تھے کہ آپ کو خطاب ہوا آیت یا ایہا المزمل۔
14۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن نصر قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا المزمل کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے اے وہ جو کہ اپنے کپڑوں کے ساتھ لپٹا ہوا ہے۔
15۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المزمل سے نبی ﷺ کی ذات مراد ہے۔