تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 73. Al-Muzzammil · Ayah 18

  1. اِ۟لسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌۢ بِهٖ١ؕ كَانَ وَعْدُهٗ مَفْعُوْلًا﴿18﴾

    1. السَّمَآءُآسمان
    2. مُنْفَطِرٌۢپھٹ جائے گا
    3. بِهٖ ۭاس سے
    4. كَانَہے
    5. وَعْدُهٗاس کا وعدہ
    6. مَفْعُوْلًاپورا ہوکر رہنے والا
Translation · Dure-Mansoor
آسمان پھٹ جائے گا اس میں اس کا وعدہ کیا ہوا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
6۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا یعنی قیامت کے دن کی وجہ سے آسمان بوجھل اور بھاری ہوجائے گا۔۔ 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ یعنی آسمان اس کے سبب بھاری اور وزنی ہوجائے گا۔ 8۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت السماء منفطر بہ کے بارے میں روایت کیا کہ حبشی زبان میں اس سے مراد ہے کہ آسمان بھر جائے گا۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ منفطر بہ یعنی اس دن کے سبب آسمان انتہائی بھاری اور وزنی ہوجائے گا۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا 10۔ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا ؂ 10۔ ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ منفطر بہ یعنی آسمان پھٹ جائے گا قیامت کے دن کے سبب۔ 11۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ان سے منفطر بہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ قیامت کے خوف سے آسمان پھٹ جائے گا۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا شعر نہیں سنا۔ طبا ہن حتی اعض اللیل دونہا افاطیر وسمع رواء جذورہا ترجمہ : اس نے نہیں کھینچا یہاں تک کہ رات کے وقت ان کے نیچے پھٹنیں ظاہر ہوئی اور ان کی جڑوں کو رواء کا نام دیا گیا۔ 12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت السماء منفطر بہ کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان پھٹ جائے گا یعنی اللہ کے خوف سے آسمان بوجھل اور بھاری ہوجائے گا۔ 13۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت السماء منفطر بہ سے مراد ہے کہ ا سدن کی شدت اور اس کے خوف کی وجہ سے آسمان بوجھل ہوجائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول آیت ان ربک یعلم انک تقوم بیشک آپ کا رب جانتا ہے کہ آپ کھڑے ہوتے ہیں تقریبا رات کے دو تہائی، تقریبا رات کا نصف اور تقریبا رات کا ایک تہائی۔