تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 73. Al-Muzzammil · Ayah 4
اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ﴿4﴾
- اَوْ زِدْیا زیادہ کرلیں
- عَلَيْهِاس پر، سے
- وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَاور ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں قرآن
- تَرْتِيْلًاترتیل کے ساتھ
Translation · Dure-Mansoor
یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو اور قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھو
Tafseer · Dure-Mansoor
16۔ فریابی نے ابن عباس ؓ سے کہ آیت ورتل القراٰن ترتیلا اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ یعنی آپ دو یا تین آیتیں پڑھتے تھے۔ پھر رک جاتے تھے اور جلدی جلدی نہ پڑھتے تھے۔
قرآن کریم کو واضح اور صاف پڑھنا
17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن منیع فی مسندہ ومحمد بن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ورتل القراٰن ترتیلا۔ سے مراد ہے کہ آپ قرآن مجید کو خوب واضح انداز میں پڑھیں۔
18۔ احمد وابو داوٗد والترمذی وصححہ والنسائی والحاکم وصححۃ والبیہقی نے اپنی سنن میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا صاحب قرآن سے قیامت کے دن کہا جائے گا۔ پڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسے تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا۔ بلاشبہ تیری منزل اس آخری آیت کے پاس ہے جو تو پڑھے گا۔
19۔ دیلمی نے سند واہ کے ساتھ ابن عباس ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ جب تو قرآن پڑھے تو اس کو آہستہ پڑھ اور خوب واضح انداز میں پڑھ۔ اور اس کو ردی کھجوریں کی طرح بکھیر نہ دے اور نہ تو اسے جلدی جلدی کاٹ بالوں کے کاٹنے کی طرح اور ٹھہر جاؤ اس کے عجائبات کے بیان کے وقت۔ اور اس کے ذریعہ دلوں کو حرکت دو ۔ اور تم میں سے کسی کا مقصد سورة کے آخر تک پہنچنا نہ ہو۔
20۔ ابن ابی شیبہ وابن نصر اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ علقمہ (رح) نے عبداللہ ؓ کے پاس پڑھا تو انہوں نے فرمایا اس کو آہستہ آہستہ پڑھو کیونکہ وہ قرآن کو زینت دینے والا ہے۔
21۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورتل القرآن ترتیلا اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔ یعنی قرآن مجید کو خوش الحانی اور صحیح ادائیگی کے ساتھ پڑھو۔
22۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن نصر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ کی عام قراءت مد تھی۔
23۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورتل القرآن ترتیلا سے مراد ہے کہ قرآن مجید کو خوب واضح اور بین طریقے سے پڑھو۔
24۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے آیت ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں روایت کیا کہ تم قرآن کو واضح قراءت کے ساتھ پڑھو۔
25۔ فریابی وعبد بن حمید وابن نصر والبیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورتل القرآن ترتیلا سے مراد ہے کہ قرآن کا بعض بعض کے پیچھے پڑھو یعنی تسلسل کے ساتھ پڑھو۔
26۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں فرمایا کہ قرآن کی واضح تفسیر کرو۔
27۔ العسکری نے المواعظ میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے س قول آیت ورتل القراٰن ترتیلا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید کو خوب واضح انداز میں پڑھو۔ اور اس کو ردی کھجوروں کی طرح نہ بکھیرو۔ اور بالوں کے کاٹنے کی طرح اسے نہ کاٹو۔ اور اس کے عجائبات پر ٹھہر جاؤ اور اس کے ذریعہ دلوں کو حرکت دو ۔ اور تم میں سے کسی کا ارادہ سورت کے آخرت تک پہنچنا نہ ہو۔
28۔ ابن ابی شیبہ نے ابو ملیکہ (رح) سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی بعض ازواج سے روایت کیا کہ ان سے نبی ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ پھر ان سے کہا گیا کہ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے۔ پھر انہوں نے خوب اچھی طرح ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی۔
29۔ ابن ابی شیبہ نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کون سے لوگ قراءت کے لحاظ سے خوبصورت ہیں ؟ فرمایا جب تو اس کو پڑھتا ہوا سنے اور یہ خیال کرے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔
30۔ ابن ابی شیبہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی دوسرے آدمی کے پاس سے گزرا جو ایک آیت پڑھتا اور روتا تھا۔ اور اس کو بار بار لوٹا رہا تھا۔۔ پھر اس نے کہا کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا آیت ورتل القرآن ترتیلا یہی ترتیل ہے۔
31۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس نے ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید ؓ دونوں سے روایت کیا کہ قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا۔ تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا۔ کیونکہ تیری منزل وہ ہے جہاں تو آخری آیت پڑھے گا۔
32۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن اپنے پڑھنے والے کے لیے قیامت کے دن سفارش کرے گا اور کہے گا اے میرے رب ! آپ نے مجھے اس کے پیٹ میں محفوظ کیا میں نے اس کو رات میں جگایا اور میں نے اس کو بہت سی خواہشات سے روکا اور ہر عمل کرنے والے کے لیے اس کے عمل کی جزاء ہے جو اس نے کہا تو اس سے کہا جائے گا اپنے ہاتھ کو پھیلا تو اس کو رضامندی سے بھردیا جائے گا اور اس کے بعد اس پر غصہ نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس کو کہا جائے گا۔ پڑھتا جا اور چڑھتا جا۔ چانچہ ہر آیت کے بدلے میں اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا۔ اور ہر آیت کے بدلے میں ایک نیکی زیادہ کی جائے گی۔
33۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک بن قیس (رح) سے روایت کیا اے لوگو ! اپنی اولاد کو اور اپنے اہل و عیال کو قرآن سکھاؤ کیونکہ جس کو مسلمانوں میں سے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آئیں گے اور اس کو گھیر لیں گے اور اس سے کہیں گے تو پڑھتا جا اور چڑھتا جا جنت کے درجوں میں یہاں تک کہ وہ دونوں اس کو وہاں اتاریں گے جہاں اس کا قرآن کا علم ختم ہوجائے گا۔