تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 73. Al-Muzzammil · Ayah 5
اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا﴿5﴾
- اِنَّا سَنُلْقِيْبیشک ہم عنقریب ڈال دیں گے
- عَلَيْكَآپ پر
- قَوْلًا ثَقِيْلًاایک کلام بھاری
Translation · Dure-Mansoor
بیشک ہم آپ پر پر عنقریب ایک بھاری کلام ڈالنے والے ہی
Tafseer · Dure-Mansoor
قرآن کریم تلاوت کرنے والے سے ملاقات کرے گا
ج 34۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قرآن قیامت کے کے دن اپنے پڑھنے والے سے ملاقات کرے گا۔ جب اس کی قبر اس سے پھٹے گی۔ تو وہ دبلے پتلے متغیر رنگ والے آدمی کی طرح ہوگا۔ اور اس سے کہے گا کیا تو نے مجھے پہچان لیا ؟ وہ کہے گا میں نے تجھ کو نہیں پہچانا۔ وہ کہے گا میں تیرا ساتھی قرآن ہوں۔ جس نے تجھ کو پیاسا رکھا سخت گرمی میں اور تجھ کو رات کے وقت جگائے رکھا۔ بیشک ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے۔ بلاشبہ تو آج کے دن یہ تجارت کے پیچھے ہے پھر اسے دائیں ہاتھ میں ملک دیا جائے گا اور بائیں ہاتھ میں خلد اور اس پر وقار کا تاج رکھا جائے گا۔ اور اس کے والد کو ایسے دو جوڑے پہنائے جائیں گے کہ دنیا والے ان دونوں کے سامنے نہیں ٹھہر سکیں گے۔ اور وہ کہیں گے۔ کس وجہ سے یہ جوڑے ہم کو پہنچائے گئے۔ ان سے کہا جائے گا تمہارے بیٹے کے قرآن یاد کرنے کی وجہ سے پھر اس سے کہا جائے گا کہ تو پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا۔ اور وہ اپنے درجے کو پہچان لے گا اور وہ برابر چڑھنے میں لگا رہے گا جب تک وہ اسے ترتیل کے ساتھ پڑھتا جائے گا۔
35۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن نصر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا سنلقی علیک قولا ثقیلا ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بات کا بوجھ ڈالنے والے ہیں۔ یعنی یہ بوجھ ہوگا اللہ کی طرف سے اس کے فرائض اور اس کی حدود کا۔
36۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن نصر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ قولا ثقیلا سے مراد ہے ایسا قول جس کے مطابق عمل ثقیل ہے۔
37۔ ابن نصر وابن المنذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ قولا ثقیلا سے مراد ہے کہ وہ بھاری ہوگا ترازوں میں قیامت کے دن۔
38۔ احمد وعبد بن حمد وابن جریر وابن نصر والحاکم وصححہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی طرف جب وحی اترتی تھی۔ اور آپ اپنی اونٹنی پر ہوتے تھے۔ تو وہ اپنی گردن کا اگلا حصہ زمین پر رکھ دیتی تھی۔ یعنی بیٹھ جاتی تھی۔ اور پھر ادھر ادھر جانے کی طاقت نہ رکھتی تھی۔ یہاں تک کہ آپ سے یہ کیفیت دور ہوجاتی۔
39۔ احمد نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کیا آپ وحی کو محسوس کرتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں گھنٹی کی آواز سنتا ہوں پھر میں اس وقت خاموش ہوجاتا ہوں۔ اور کبھی میری طرف وحی اس حال میں آتی ہے کہ میں یہ گمان کرتا ہوں کہ میری جان قبض کی جار ہی ہے۔
40۔ الحاکم وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جب وحی نازل ہوتی تھی تو ہم سے کوئی اس کی طاقت نہیں رکھتا تھا کہ آپ کی طرف اپنی نگاہ کو اٹھائے یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی۔