تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 74. Al-Muddaththir · Ayah 1
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ﴿1﴾
- يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُاے کپڑے میں لپٹے ہوئے (محمد)
Translation · Dure-Mansoor
اے کپڑے میں لیٹنے والے
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن الضریس وابن مردویہ والنحاس والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة المدثر مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
3۔ طیالسی وعبد الرزاق واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن الضریس وابن جرری وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن الانباری (رح) سے مصاحف میں روایت کیا کہ میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے قرآن مجید میں سب سے اول نازل ہونے والے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یا ایہا المدثر ہے میں کہا لوگ کہتے ہیں آیت اقرأ باسم ربک الذی خلق ہے ابو سلمہ ؓ نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اس بارے میں پوچھا تھا میں ان سے ایسے ہی کہا جیسے تو نے کہا تو جابر ؓ نے فرمایا میں تجھ سے کچھ بیان نہیں کروں گا مگر جو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا سو آپ نے فرمایا کہ میں غار حرا میں خلوت نیشن تھا۔ جب میں اپنا خلوقت کا وقت پورا کرلیا تو مجھ کو آواز دی گئی۔ میں نے اپنی داہنی جانب دیکھا تو میں نے کسی چیز کو نہ دیکھا پھر میں نے اپنے بائی طرف دیکھا تو کوئی چیز نظر نہ آئی۔ پھر میں نے اپنے پیچھے کی طرف دیکھا تو کوئی چیز نظر نہ آئی پھر میں نے اپنے سر کو اوپر اٹھایا اچانک وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا۔ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے تو میں گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گیا رعب کی وجہ سے پھر اپنے گھر لوٹ آیا۔ اور میں نے کہا مجھے چادر اوڑھا دو مجھے چادر اوڑھا دو تو یہ آیت نازل ہوئی آیت یا ایہا المدثر قم فانذر سے لے کر آیت والرجز فاہجر تک۔
4۔ طبرانی وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ نے قریش کو کھانے کی دعوت دی جب وہ کھاچکے تو مغیرہ نے کہا تم اس آدمی یعنی محمد ﷺ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ان کے بعض نے کہا، یہ جادو گر ہے۔ اور بعض نے کہا یہ جادوگر نہیں ہے اور بعض نے کہا یہ کاہن ہے بعض نے کہا یہ کاہن نہیں ہے اور بعض نے کہا یہ شاعر ہے اور بعض نے کہا یہ شاعر نہیں اور بعض نے کہا یہ ایک جادو ہے جو پہلوں سے چلا آرہا ہے پس ان میں اتفاق رائے ہوگیا کہ وہ ایک جادو ہے جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔ جب یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی۔ تو آپ نکلے اور اپنے سر کو ڈھانپ لیا اور چادر اوڑھ لی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا المدثر سے لے کر آیت ولربک فاصبر تک۔
5۔ الحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا المدثر کے بارے میں روایت کیا کہ آپ ایک مخملی چادر میں لپٹے ہوئے تھے آیت وثیابک فطہر اور اپنے لباس کو پاک رکھیں۔ یعنی گناہوں سے آیت والرجز فاھجر اور میل کچیل دور کرو۔ یعنی گناہوں سے دور رہیے۔ آیت ولا تمنن تستکثر۔ اور بدلہ پانے کی غرض سے احسان نہ کرو۔ یعنی کوئی چیز نہ دو اس نیت سے تاکہ تو اس سے زیادہ دیا جائے آیت ولربک فاصبر اور اپنے رب کے لیے صبر کر یعنی جب آپ کو کوئی عطیہ دیا جائے تو اس کو اپنے رب کے لیے دے دیجیے اور خود صبر کیجیے یہاں تک کہ وہی آپ کو اجر وثواب عطا فرمائے گا۔
7۔ عبدالرزای وعبد بن حمید وابن جریر ووابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المدثر اے کپڑے میں لپٹنے والے یعنی لپٹنے والے اپنے کپڑوں میں آیت قم فانذر اٹھو پھر کافروں کو ڈراؤ یعنی ان کو ڈرائیے اپنے رب کے عذاب سے اور اس کے سابقہ امتوں میں واقع ہونے اور اس کی سزا کی شدت ڈرائیے جبکہ وہ انتقام لے۔ آیت وثیابک فطہر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیے گناہوں سے اور یہ عربی کلمہ ہے اور عرب کے لوگوں میں سے جب کوئی آدمی عہد کو توڑ دیتا تھا اور اپنے عہد کو پورا نہ کرتا تھا تو وہ لوگ کہتے تھے کہ بیشک فلاں آدمی کپڑوں کو میلا اور داغدار کرنے والا ہے۔ اور جب وہ وعدہ کو پورا کرتا اور اصلاح کرلیتا تو وہ لوگ کہتے تھے کہ بیشک فلاں آدمی کپڑوں کو میلا اور داغدار کرنے والا ہے۔ اور جو وہ عوعدہ کو پورا کرتا اور اصلاح کرلیتا تو وہ لوگ کہتے کہ فلاں آدمی کپڑوں کو پاک رکھنے والا ہے آیت والرجز فاہجر اور میل کچیل دور کیجیے فرمایا یہ دو بت تھے اساف اور نائلہ جو بیت اللہ کے پاس تھے ان کے چہروں کو ہاتھ لگاتا اور صاف کرتا جو مشرکین میں سے ان کے پاس آتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان دونوں کو چھوڑے رکھیے اور ان سے علیحدہ ہوجائیں آیت ولا تمنن تستکثر اور بدلہ پانے کی غرض سے احسان نہ کرو یعنی آپ دنیا کے فائدے اور منافع حاصل کرنے کے لیے کسی کو کوئی چیز نہ عطا کیجیے اور نہ ہی لوگوں سے بہتر جزا اور بدلہ لینے کی خاطر کسی کو کچھ دیجیے۔
8۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وربک فکبر اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو۔ یعنی اس کی عظمت بیان کرو آیت وثیابک فطہر اور اپنے کپڑے پاک رکھو سے مراد آپ کی ذات ہے یعنی آپ اپنے کو یاد رکھیے آیت والرجز فاہجر اور میل کچیل دور کیجیے یعنی شیطان اور بتوں سے دور رہیے۔
تماز میں تکبیر تحریمہ کا حکم
9۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم کس طرح کہیں جب ہم نماز میں داخل ہوں اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری آیت وربک فکبر تو ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ ہم نماز میں تکبیر کے ساتھ شروع کریں۔
10۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا المدثر سے مراد ہے نیند کرنے والے آیت وثیابک فطہر یعنی جو کپڑے تو پہنتا ہے وہ حرام کی کمائی میں سے نہ ہوں۔ آیت والرجز فاہجر یعنی بتوں سے دور رہیے آیت ولا تمنن تستکثر یعنی تو عطیہ نہ دے کہ تو اس کے ذریعہ اس سے افضل کو تلاش کرے۔
11۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وثیابک فطہر یعنی آپ اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھیے اور فرمایا کہ عرب کے کلام میں اس کا معنی ہے کپڑوں کو صاف کرنا۔
12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وثیابک فطہر کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے کپڑوں کو پاک کرو یعنی اپنے آپ کو دھوکے سے محفوظ رکھیے اور آپ دھوکہ دینے والا نہ بن جائیے۔
13۔ سعید بن منصور وعبد بن حمیدوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی الوقف ولابتداء وابن مردویہ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وثیابک فطہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ خیانت اور فسق و فجور کا لباس نہ پہنیے پھر فرمایا کیا تم نے غیلان بن مسلمہ (رح) کا قول نہیں سنا۔
انی بحمدللہ لا ثوب فاجر لبست ولا من غدرۃ اتقنع
ترجمہ : اللہ کا شکر ہے کہ میں نے فسق فجور کا لباس نہیں پہنا اور نہ سیانت اور بد عہدی کا کپڑا اوڑھا ہے۔
14۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی عہد توڑتا تھا تو وہ کہا کرتے تھے فلاں نے کپڑے میلے اور داغدار کردئیے۔