تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 74. Al-Muddaththir · Ayah 11

  1. ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ﴿11﴾

    1. ذَرْنِيْمجھے چھوڑدو
    2. وَمَنْاور جسے
    3. خَلَقْتُمیں نے پیدا کیا
    4. وَحِيْدًااکیلا
Translation · Dure-Mansoor
مجھے اور اس شخص کو رہنے دو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا مجھے اور اس کو چھوڑ دو کہ جس کو میں نے اکیلے پیدا کیا اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کے پیٹ سے اکیلے پیدا کیا نہ اس کا مال تھا اور نہ اولاد تھی پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو مال، اولاد اور دولت و ثروت اور بڑھنے والے مال کی صورت میں رزق عطا فرمایا آیت کلا، انہ کان لاٰیتنا عنیدا۔ بےوہ ہماری آیات کا سخت مخالف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور ان کا انکار کرتا ہے۔ انہ فکر وقدر بیشک اس نے سوچا اور اندازہ لگایا ہم کو ذکر کیا گیا کہ اس نے کہا کہ میں نے اس میں غور وفکر کرتا رہا جو اس آدمی یعنی محمد ﷺ نے کہا تو میں نے پایا وہ شعر نہیں ہے اگرچہ اس کلام کے لیے ایک مٹھاس ہے اور انتہائی حسین اور پر رونق ہے اور یہ بلدن شان والا ہے کہ اس پر کوئی بلند نہیں اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جادو ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں آیت فقتل کیف قدر سے لے کر آیت وبسر تک پھر اسے اللہ کی مار اس نے کیسا اندازہ لگایا پھر اسے اللہ کی مار اس نے کیسا اندازہ لگایا پھر اس نے دیکھا پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بنایا یعنی تیوی چڑھائی۔ ولید بن مغیرہ کی احسان فراموشی 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا سے مراد ہے ولید بن مغیرہ۔ 3۔ عبد بن حمی دوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ وحیدا یعنی میں نے اس کو اکیلا پیدا کیا نہ اس کا مال تھا اور نہ اس کی اولاد تھی آیت وجعلت لہ مالا ممدودا۔ اور اس کو بڑھنے والا مال دیا۔ یعنی میں نے اسے کثیر مال یعنی ہزار دینا دئیے۔ وبنین او بیٹے دئیے اور وہ دس تھے۔ شہودا۔ پاس رہنے والے یعنی وہ غائب نہ ہوتے تھے۔ آیت ومہدت لہ تمہیدا اور اسکے لیے ہر طرح کا سامان کردیا۔ یعنی اس کے لیے مال اور اولاد کو پھیلا دیا۔ آیت ثم یطمع ان ازید کلا۔ پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اور بڑھا دوں ہرگز نہیں۔ یعنی وہ برابر نقصان کو دیکھنے لگا اپنے مال میں اور اپنی اولاد میں یہاں تک کہ ہلاک ہوگیا۔ آیت کلا۔ انہ کان لاٰیتنا عنیدا۔ بیشک وہ ہماری آیات کا سخت مخالف ہے۔ یعنی اس سے دشمنی رکھتا ہے اور ان کو اجنبی قرار دینے والا ہے آیت سارھقہ صعودا عنقریب میں اس کو اونچی گھاٹی پر چڑھاؤں گا یعنی اسے عذاب کی مشقت اٹھانے پر مجبور کردوں گا۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا سے مراد ولید بن مغیرہ ہے۔ اور آیت وبنین شہودا۔ اور بیٹے حاضر ہونے والے اور وہ تیرہ تھے۔ آیت ثم یطمع ان ازید کلا۔ پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اور بڑھا دوں ہرگز نہیں یعنی اس دن کے بعد اس کی کوئی اولاد پید انہیں ہوئی اور نہ اس مال میں کوئی زیادتی ہوئی مگر جتنا اس کے پاس تھا آیت انہ کان لاٰیتنا عنیدا کیونکہ و ہماری آیات کو محض مشقت گمان کرت ہے۔ 5۔ سعید بن منصوروابن المنذر وابن ابی حاتم سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا میں وحید سے مراد ولید بن مغیرہ بن ہشام المخزومی ہے اور اس کے تیرہ بیٹے تھے اور سب گھر کے مالک تھے۔ جب یہ آیت انہ کان لاٰیتنا عنیدا۔ نازل ہوئی یعنی وہ مسلسل اپنی ذات مال اور اپنی اولاد کے لحاظ سے تنزلی اور خاتمہ کی جانب بڑھنے لگا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا سے نکال دیا۔ یعنی وہ مرگیا۔