تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 74. Al-Muddaththir · Ayah 12

  1. وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ﴿12﴾

    1. وَّجَعَلْتُ لَهٗاور میں نے دیا اسے
    2. مَالًا مَّمْدُوْدًامال کثیر
Translation · Dure-Mansoor
اور اسے میں نے مال دیا، جو بڑھتا جارہا ہے
Tafseer · Dure-Mansoor
6۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا میں مال کثیر سے مراد ہزار دینار ہیں۔ 7۔ عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ اس کے پاس دس لاکھ تھے۔ 8۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والدینوری نے المجالسہ میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے آیت وجعلت لہ مالا ممدودا، کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کئی مہینوں کا غلہ اس کے پاس موجود تھا۔ 9۔ ابن مردویہ نے نعمان بن سالم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلت لہ مالا ممدودا سے مراد زمین ہے۔ 10۔ ہناد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ آیت سارھقہ صعودا عنقریب میں اس کو اونچی گھاٹی پر چڑھاؤں گا۔ اور وہ دوزخ میں ایک پہاڑ ہے۔ اہل جہنم کو اس میں چڑھنے پر مجبور کیا جائے گا۔ جب وہ اپنے ہاتھ اس پر رکھیں گے تو وہ پگھل جائے گا۔ جب اس کو اٹھائیں گے تو وہ پہلی حالت پر لوٹ آئے گا۔ ابوجہل کا مغیرہ کو عار دلانا 11۔ الحاکم وصححہ والبیہقی فی الدلائل عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس پر قرآن پڑھا تو اس نے خوب نرم کردیا۔ یہ بات ابوجہل کو پہنچی تو وہ اس پر آکر کہنے لگا اے میرے چچا کہ تیری قوم ارادہ کرتی ہے کہ تیرے لیے مال جمع کرے اور تجھ کو دیں کیونکہ تو محمد ﷺ کے پاس آیا ہے تاکہ تو اس سے اعراض کرے اس دین سے جس پر تو پہلے تھا اس نے کہا قریش جانتے ہیں کہ میں ان سے زیادہ ہوں مال کے لحاظ سے۔ تو ابوجہل نے کہا کہ تو ان کے بارے میں ایسی بات کہے جو تیری قوم کو پہنچ جائے اور وہ یقین کرلیں مگر تو بلاشبہ انکار کرنے والا ہے یا تو اسے انتہائی ناپسند کرتا ہے کہنے لگا میں اس بارے میں کیا کہوں۔ اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی آدمی نہیں جو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہو شعر کو اور شعر کے رجز کو اور قصید کو اور نہ ہی شاعرالجن کے بارے میں کوئی زیادہ واقف ہے اللہ کی قسم ! وہ ان میں سے کسی شے کے مشابہ نہیں جو وہ کہتا ہے اور اللہ کی قسم ! بلاشبہ اس کا قول جو وہ کہتا ہے اس کے لیے ایک مٹھاس ہے اور اس پر انتہائی حسن ہے اور بلاشبہ اس کی شاخیں پھل دار ہیں اس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور بلاشبہ وہ غالب اور بلند ہے اس پر کوئی چیز غالب نہیں۔ اور بلاشبہ یہ اپنے ماتحت کو توڑ دیتا ہے ابو جہل نے کہا تجھ سے تیری قوم راضی نہیں ہوگی یہاں تک کہ تو اس کے بارے میں کچھ تو کہے۔ اس نے کہا مجھے چھوڑ دے یہاں تک کہ میں سوچ لوں پھر اس نے وچا۔ جب اس نے سوچا وہ کہنے لگا یہ جادو ہے جو پہلوں سے چلا آرہا ہے اور یہ اسے اپنے غیر سے نقل کرتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ 12۔ ابن جریر وابو نعیم فی الحیلۃ وعبد الرزاق وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے مرسلاً اسی طرح روایت کیا۔ 13۔ ابو نعیم فی الدلائل مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی مکرم ﷺ مبعوث ہوئے تو ولید بن مغیرہ نے قریش کو جمع کیا اور کہا تم اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو بعض نے کہا وہ شاعر ہے اور بعض نے کہا وہ کاہن ہے ولید نے کہا : میں نے شاعر کا قول بھی سنا اور کاہن کا کلام بھی سنا ہے وہ اس طرح کا نہیں ہے تو ان لوگوں نے کہا تو کیا کہتا ہے ؟ اس نے کچھ دیر سوچا آیت انہ فکر وقدر فقتل کیف قدر سے لے کر آیت سحر یوثر تک اسی آیت کے متعلق ہیں۔ 14۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ ابوبکر ؓ کے پاس آیا اور آپ سے قرآن کے بارے میں پوچھا جب انہوں نے اس کو بتایا پھر وہ قریش کے پاس آیا اور کہا کیا عجیب کلام ہے جو ابن ابی شیبہ یعنی محمد ﷺ کہتا ہے اللہ کی قسم ! نہ وہ شعر ہے نہ وہ جادو ہے نہ یہ کسی مجنون کی ہذیات ہیں۔ بلاشبہ ان کی گفتگو اللہ کے کلام میں سے ہے۔ جب قریش کی ایک جماعت نے اس بات کو سنا تو وہ اس کے پاس جمع ہوئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ! اگر ولید صابی ہوگیا تو قریش یقیناً صابی ہوجائیں گے یعنی اپنا دین بدل دیں گے۔ جب ابو جہل نے یہ بات سنی تو کہنے لگا اللہ کی قسم ! میں اس بارے میں تم سب کی طرف سے کافی ہوں چناچہ وہ چلا یہاں تک کہ ولید کے گھر میں داخل ہوگیا۔ اور ولید سے کہا کیا تو نے اپنی قوم کو نہیں دیکھا کہ انہوں نے تیرے لیے صدقہ کو جمع کیا ہے۔ اس نے کہا کیا میں ان سے مال اور اولاد میں زیادہ نہیں ہوں ابوجہل نے اس سے کہا لوگ باتیں کر رہے ہیں کہ تو ابن ابی قحافہ یعنی ابوبکر ؓ کے پاس جاتا ہے تاکہ تو اس کے کھانے میں تو بھی شامل ہوجائے ؟ ولید نے کہا میرا خاندان اس طرح کی باتیں بیان کرتا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں ابن ابی قحافہ یعنی ابوبکر ؓ اور عمر ؓ ور ابن ابی کبشہ یعنی رسول اللہ ﷺ کے قریب نہ جاؤں گا۔ اس کا قول نہیں ہے مگر ایسا جادوجو پہلوں سے چلا آرہا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا سے لے کر لا تبقی ولا تذر تک۔ 15۔ ابن جریر وہناد بن السری فی الزہد وعبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت عنیدا سے مراد ہے بہت زیادہ انکار کرنے والا۔ دوزخ کا ایک پہاڑ صعود ہے۔ 16۔ احمد وابن المنذر والترمذی وابن ابی الدنیا فی صفۃ النار وابن جریر وابن ابی حاتم وابن حبان والحاکم وصححہ اور بیہقی نے البعث میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صعود دوزخ میں ایک پہاڑ ہے اس میں کافر ستر سال تک چڑھتا رہے گا پھر وہ گرجائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں اسی طرح کرتا رہے گا یعنی ہمیشہ چڑھتا اور گرتا رہے گا روایت ضعیف ہے سنن الترمذی : 2574) 17۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور والفریابی وعبد بن حمید وابن ابی الدنیا وابن المنذر والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے دوسری سند سے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ صعود جہنم میں ایک چٹان ہے جب وہ اپنے ہاتھ اس پر رکھیں گے تو وہ پگھل جائیں گے جب ان کو اٹھائیں گے تو وہ پہلی حالت میں لوٹ آئیں گے اور اس کی مشقت سے چھٹکارا اس میں ہے آیت فک رقبۃ او اطعم فی یوم ذی مسغبہ البلد آیت 14) گردن کا چھڑانا یا بھوک کے دن میں کھلانا۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صعودا جہنم میں ایک چٹان ہے جس پر کافر کو اس کے چہرے کے بل گھسیٹا جائے گا۔