تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 74. Al-Muddaththir · Ayah 30

  1. عَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ﴿30﴾

    1. عَلَيْهَااس پر ہیں
    2. تِسْعَةَ عَشَرَانیس (داروغہ)
Translation · Dure-Mansoor
اس پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے
Tafseer · Dure-Mansoor
34۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں براء ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی نے نبی ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی سے جہنم کے داروغہ کے بارے میں پوچھا اس نے کہا اللہ اور اس کے سول ہی بہتر جانتے ہیں۔ وہ صحابی نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کو یہ واقعہ بتایا تو اس وقت یہ آیت آپ پر نازل ہوئی آیت علیہا تسعۃ عشر۔ یعنی اس پر انیس فرشتے ہیں (تفسیر ابن کثیر بھاشہ۔ 8۔ 268) 35۔ الترمذی وابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کے اصحاب سے کہا کیا تمہارے نبی مکرم ﷺ جہنم کے داروغوں کی تعداد کو جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اتنے اور اتنے ایک بار دس سے اور دوسری بار نو سے اشارہ کیا۔ یعنی داروغوں کی تعداد انیس ہے۔ (روایت ضعیف ہے۔ صحیح و ضعیف الترمذی 3327) 36۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” علیہا تسعۃ عشر “ اس پر انیس فرشتے ہیں۔ نازل ہوئی تو قریش میں سے ایک آدمی نے کہا جس کو ابو الاشرین کہا جاتا تھا اے قریش کی جماعت ! تم کو انیس فرشتے خوف زدہ نہیں کرسکیں گے۔ میں اپنے داہنے کندھے سے دس کو اور اپنے بائیں کندھے سے نو کو تم سے ہٹا دوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت وما جعلنا اصحب النار الا ملئکۃ۔ اور ہم نے دوزخ پر فرشتے ہی رکھے ہیں۔ 37۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا جب ابو جہل نے آیت علیہا تسعۃ عشر سنا تو قریش سے کہا تم کو تمہاری ماں روئیں کہ ابن ابی کبشہ نے تم کو خبر دی ہے کہ جہنم کے داروغے انیس ہیں اور تم کثیر تعداد میں ہو کیا تم میں سے ہر دس دس مل کر اس بات سے عاجز ہیں کہ وہ جہنم کے ایک داروغہ کو پکڑ لیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ وہ ابو جہل کو لے آئیں سو آپ نے اسے ہاتھ سے بطحا مکہ میں پکڑ کیا اور اسے فرمایا۔ آیت اولی فالی۔ ثم اولی لک فاولی۔ اے انسان تیرے لیے افسوس پر افسوس ہے پھر تیرے لیے افسوس پر افسوس ہے۔ 38۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت علیہا تسعۃ عشر کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابوجہل نے کہا اے قریش کی جماعت کیا تم میں دس آدمی یہ طاقت نہ رکھیں گے کہ وہ جہنم کے داروغوں میں سے ایک پر غالب آجائیں۔ حالانکہ تم کثیر تعداد میں ہو۔ دوزخ کے انیس فرشتوں کا ذکر 39۔ ابن المبارک وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر والبیہقی نے البعث میں ارزق بن قیس کے طریق سے بنو تمیم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ابو العوام (رح) کے پاس تھے انہوں نے یہ آیت علیہا تسعۃ عشر پڑھی۔ اور فرمایا تم کیا کہتے ہو کیا انیس فرشتے یا انیس ہزار میں نے کہا نہیں بلکہ انیس فرشتے انہوں نے کہا تجھے کہاں سے معلوم ہوا ہم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ آیت وما جعلنا عدتہم الا فتنۃ للذین کفروا اور ان کی تعداد کافروں کے لیے آزمائش بنائی ہے۔ انہوں نے کہا تو نے سچ کہا کہ وہ انیس فرشتے ہیں ان میں سے ہر فرشتے کے ہاتھ میں لوہے کا ایک گرز ہے اور اس کی دو شاخیں ہیں۔ اس کے ساتھ وہ ایک ضرب لگائے گا تو اس کے ساتھ جہنم میں ستر ہزار گرجائیں گے اور ان میں سے ہر فرشتے کے دو کندھوں کے درمیان اتنا اتنا فاصلہ ہے۔ 40۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد رحمہ سے آیت علیہا تسعۃ عشر کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو ایک فتنہ اور آزمائش بنایا گیا آپ سے فرمایا کہ ابو الاشدین جمحی نے کہا کہ وہ میرے قدم کو بھی نہیں پہنچ سکیں گے یہاں تک کہ میں ان کو جہنم سے دور ہٹا دوں گا۔