تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 75. Al-Qiyaama · Ayah 1

  1. لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ﴿1﴾

    1. لَآ اُقْسِمُنہیں میں قسم کھاتا ہوں
    2. بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن کی
Translation · Dure-Mansoor
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قیامہ مکہ میں نازل ہوئی۔ اور دوسرے لفظ میں آیت لا اقسم بیوم القیمۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة لا اقسم مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے ہم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص قیامت کے دن کے بارے میں سوال کرتا تو اس کو چاہیے کہ سورة پڑھ لے۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بیوم القیمۃ سے مراد ہے میں قسم کھاتا ہوں۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے آیت لا اقسم بیوم القیمۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ تیرا رب قسم کھاتا ہے جو چاہتا ہے اپنی مخلوق سے۔ میں نے کہا آیت ولا اقسم بالنفس اللوامۃ اور پشیمان ہونے والے شخص کی قسم ہے۔ یعنی ملامت کیے ہوئے شخص کی طرف سے۔ میں نے کہا آیت ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ بلا قدرین علی ان نسوی بنانہ۔ کیا انسان سمجھتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہم تو اس پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں۔ یعنی اگر ہم چاہتے تو ہم اس کو پاؤں کا تلوا یا جانور کا کھر بنادیتے۔ 6۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت لا اقسم بیوم القیمۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہتے ہیں قسم کھاتے ہیں آیت ولا اقسم بالفس اللوامۃ میں لوامہ سے مراد ہے گناہ کرنے والا نفس اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ قسم کھا رہے ہیں۔