تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 75. Al-Qiyaama · Ayah 13
یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ﴿13﴾
- يُنَبَّؤُاوہ جتلادیا جائے گا
- الْاِنْسَانُانسان
- يَوْمَئِذٍۢآج کے دن
- بِمَا قَدَّمَوہ جو اس نے آگے بھیجا
- وَاَخَّرَاور اس نے پیچھے چھوڑا
Translation · Dure-Mansoor
اس دن انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا ہوا جتلایا جائے گا
Tafseer · Dure-Mansoor
46۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد و ابراہیم رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤ ا الانسان یوئمئذ بما قدم واخر یعنی انسان کو اس کی ابتداء اور اس کی انتہا کے بارے میں بتادیا جائے گا۔
47۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ انسان نے جو کچھ آگے بھیجا گناہوں اور شر اور خطاؤں میں ہے۔ اور جو کچھ چھوڑ آیا نیک کاموں میں سے اس کو سب بتادیا جائے گا۔
48۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا النسان یومئذ بما قدم واخر سے مراد ہے کہ انسان نے اپنے اعمال میں سے جو آگے بھیجے اور جو اچھا یا برا طریقہ چھوڑا جس کے مطابق اس کے بعد عمل کیا گیا ان سب کے بارے میں اسے آگاہ کیا جائے گا۔
9۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا الانسان یومئذبما قدم واخر سے مراد ہے کہ جو اس نے عمل کیا اپنی موت سے پہلے اور جو طریقہ وہ چھوڑ آیا کہ جس پر عمل کیا گیا اس کی موت کے بعد سب اس کو بتادیا جائے گا۔
50۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا الانسان یومئذ بما قدم واخر سے مراد ہے کہ جو کچھ اس نے آگے بھیجا نیک کاموں میں سے یا کوئی اچھا طریقہ پیچھے چھوڑ آیا کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا گیا۔ یعنی ایسا عمل جو اس نے کسی کو سکھایا یا صدقہ جس کے بارے میں اس نے حکم دیا۔
51۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ینبؤا الانسان یومئذبما قدم واخر سے مراد ہے کہ انسان کو آگاہ کیا جائے گا۔ اس معصیت اور گناہ کے بارے میں جو اس نے آگے بھیجے اور جو اطاعت اور نیکی اس نے پیچھے چھوڑی۔
52۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب المحتضرین میں حسن (رح) سے آیت ینبؤا الانسان یومئذ بما قدم واخر کے بارے میں روایت کیا کہ ملک الموت (علیہ السلام) کراماً کاتبین کے ساتھ انسان کے پاس آتے ہیں اور اس پر خیر وشر سب پیش کرتے ہیں پس جب وہ نیکیوں کو دیکھتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اس کا چہرہ چمک اٹھتا ہے۔ اور جب برائیوں کو دیکھتا ہے تو غصے ہوجاتا ہے اور ذلت سے جھک جاتا ہے۔
53۔ ابن ابی الدنیا نے مجاہد رحمہا للہ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ مومن کی روح نہیں نکلتی یہاں تک کہ اس پر اس کے اعمال نیکیوں میں سے اور برائیوں میں سے پیش کیے جاتے ہیں۔