تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 75. Al-Qiyaama · Ayah 16

  1. لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ﴿16﴾

    1. لَا تُحَرِّكْآپ حرکت نہ دیں
    2. بِهٖاس (قرآن) کے ساتھ
    3. لِسَانَكَاپنی زبان کو
    4. لِتَعْجَلَکہ جلد (یاد کرلیں)
    5. بِهٖاس کو
Translation · Dure-Mansoor
آپ قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں تاکہ آپ اس کو جلدی جلدی لے لیں
Tafseer · Dure-Mansoor
11۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب قرآن نازل ہوتا تو آپ اس کے پڑھنے میں جلدی فرماتے تاکہ آپ اس کو یاد کرلیں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت لا تحرک بہ لسانک اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ اور رسول اللہ ﷺ سورة کے ختم ہونے کو نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ آپ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی تو آپ سمجھ لیتے کہ پہلی سورة ختم ہوگئی اب نئی سورة شروع ہوئی۔ قرآن یاد کرنے کا اہتمام 12۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قطعاً سستی اور کوتاہی نہیں فرماتے تھے اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ وہ اس کو بھول نہ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ، ان علینا جمعہ۔ آپ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کریں بیشک اس کا جمع کرنا ہم پر لازم ہے۔ یعنی ہم اس کو تیرے لیے جمع کردیں۔ آیت وقراٰنہ۔ اور اس کا پڑھادینا ہمارے ذمہ ہے کہ تو اس کو پڑھے گا اور نہ بھولے گا آیت فاذا قراٰنہ۔ پھر جب ہم اس کو قراءت کرچکیں یعنی تجھ پر۔ آیت فاتبع قراٰنہ تو اس کی قراءت کا اتباع کی جیے یعنی جب آپ پر تلاوت کی جاچکے تو آپ قراءت میں اس کا اتباع کیجیے۔ آیت ثم ان علینا بیانہ۔ پھر بیشک ہمارے ذمہ ہے اس کا بیان کرنا یعنی اس کے حلال کو اور اس کے حرام کو بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے اور یہی اس کا بیان ہے۔ 13۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا قرانٰہ۔ پھر جب ہم اس کی قراءت کرچکیں تو ہم اس کو بیان بھی کریں گے۔ آیت فاتبع قراٰنہ۔ یعنی پھر آپ اس کے ساتھ عمل کیجیے۔ 14۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تحرک بہ لسانک سے مراد ہے کہ آپ زبانی یاد کرنے لگتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائے۔ تو آپ سے کہا گیا۔ اے محمد ﷺ اس کے لیے ہم آپ کو کافی ہیں۔ 15۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ سے مراد ہے کہ نبی اکرم ﷺ قرآن کو یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت تیزی سے دیتے تھے۔ بھول جانے کے خوف سے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو آپ سن رہے ہیں۔ آیت ان علینا جمعہ وقراٰنہ یعنی ہم پر لازم ہے اس کا یاد کرانا اور آپ کے سینے میں اس کا جمع کرنا آیت فاذا قرنہ فاتبع قرانہ۔ یعنی آپ اتباع کرو اس کے حلال کی اور اس کے حرام سے اجتناب کریں۔ آیت ثم ان علینا بیان پھر ہم پر لازم ہے اس کا بیان کرنا۔ یعنی اس کے حلال و حرام اور اس کی اطاعت معصیت کا بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے۔