تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 75. Al-Qiyaama · Ayah 15

  1. وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِیْرَهٗؕ﴿15﴾

    1. وَّلَوْ اَلْقٰىاگرچہ لاڈالے
    2. مَعَاذِيْرَهٗاپنے عذر
Translation · Dure-Mansoor
گو حیلے بہانے پیش کرے گا
Tafseer · Dure-Mansoor
9۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولو القی معاذیرہ کہ وہ اپنے عیبوں کو چھپائے گا اہل یمن کی لغت میں اس کا پردہ اور ستر ہے۔ 10۔ طیالسی (رح) واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری المصاحف والطبرانی وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی معاً دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن نازل ہوتے وقت اس کی بڑی شدت کے ساتھ مشق کرتے تھے۔ اور آپ اپنی زبان اور ہونٹوں کو تیزی سے حرکت دیتے تھے اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ کوئی لفظ اس سے چھوٹ نہ جائے۔ اور آپ ﷺ اسے حفظ یاد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔ ان علینا جمعہ وقراٰنہ۔ آپ وحی کے ختم ہونے سے پہلے قرآن پر اپنی زبان نہ ہلایا کریں تاکہ آپ اسے جلدی جلدی لیں۔ بیشک اس کا جمع کرنا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو جمع کردیں گے تیرے سینے میں پھر تو اس کو پڑھا کرے۔ آیت فاذا قراٰنہ۔ جب ہم اس کی قراءت کر چکیں۔ یعنی جب ہم اس کو تجھ پر نازل کرچکیں۔ آیت فاتبع قراٰنہ تو اس کی قراءت کی اتباع کی جیے۔ یعنی اس کو کان لگا کر سنیں اور خاموش رہیں۔ آیت ثم ان علینا بیانہ۔ پھر بیشک اس کو کھول کر بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ یعنی آپ اسے اپنی زبان کے ساتھ بیان کریں اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو قراءت کریں۔ پھر اس کے بعد جب بھی جبرائیل (علیہ السلام) آتے تھے تو رسول اللہ ﷺ سر جھکادیتے تھے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ صرف سنتے تھے جب وہ چلے جاتے تو آپ اس کو ٹھیک ٹھیک پڑھ لیتے جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا۔