تفسیر درِ منثور
Dure-Mansoor · 76. Al-Insaan · Ayah 10
اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا﴿10﴾
- اِنَّا نَخَافُبیشک ہمیں ڈر ہے
- مِنْسے
- رَّبِّنَااپنا رب
- يَوْمًااس دن کا
- عَبُوْسًامنہ بگاڑنے والا
- قَمْطَرِيْرًانہایت سخت
Translation · Dure-Mansoor
بیشک ہم اپنے رب کی طرف سے ایسے سخت دن کا اندیشہ رکھتے ہیں جو بہت ہی تلخ ہوگا
Tafseer · Dure-Mansoor
13۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوما عبوسا اداس دن یعنی تنگ دن۔ قمطریرا ہولناک یعنی لمبادن۔
14۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ عبوسا قمطریرا سے مراد ہے وہ شخص جو اپنی آنکھوں کے درمیان سلوٹیں بنالیتا ہے۔
15۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قمطریرا سے مراد ہے وہ آدمی جو اپنی آنکھوں کے درمیان اور اپنے چہرے پر سلوٹیں بنا یتا ہے۔
16۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یوما عبوسا قمطریرا کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے فرمایا درد کی شدت کی وجہ سے جس کا چہرہ منقبض ہوجاتا ہے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا، وہ کہتا ہے۔
ولا یوم الحسار وکان یوما عبوسا فی الشدائد قمطریرا
ترجمہ : وہ دن حسرت کا دن نہ تھا وہ دن ترش اور سختیوں میں حد درجہ سخت تھا۔
پھر پوچھا مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ولا زمہریرا۔ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا اسی طرح جنت والوں کو سورج کی گرمی نہ پہنچے گی جو ان کو تکلیف دے اور نہ ٹھنڈک پہنچے گی۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے اعشی کو نہیں سنا وہ کہتے ہیں۔
برھومۃ الخلق مثل التیق لم تر شمسا ولا زمہریرا
ترجمہ : مخلوق کا تھوڑا سا وقت عتیق انتہائی عمدہ کی مثل ہے کہ نہ اسے گرمی کا احساس ہوتا ہے اور ہن ہی سردی کا
17۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یوم عبوسا قمطریرا کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ دن مراد ہے جس میں زندگی تنگ ہوجائے گی شدت کی وجہ سے۔
18۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” یوما “ سے مراد ہے قیامت کا دن ” عبوسا “ سے مراد ہے جس کے دونوں ہونٹ خشک ہوجائیں۔ ” قمطریرا “ سے مراد ہے کہ تنگی اور تکلیف کی وجہ سے چہرے سکڑ جائیں گے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے اپنی آنکھوں اور اپنے چہرے کے درمیان کی جگہ کا سکڑ جانا یعنی چہرے اور پیشانی پر بل ڈالنا۔