تفسیر درِ منثور

Dure-Mansoor · 77. Al-Mursalaat · Ayah 1

Tafseer
  1. وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًاۙ﴿1﴾

    1. وَالْمُرْسَلٰتِہواؤں کی قسم
    2. عُرْفًادل کو خوش کرنیوالی
Translation · Dure-Mansoor
قسم ہے ان ہواؤں کی جو نفع پہنچانے کے لیے بھیجی جاتی ہیں
Tafseer · Dure-Mansoor
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا۔ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ البخاری ومسلم والنسائی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ منی کے مقام پر غار میں تھے اچانک آپ پر سورة والمرسلت عرفا نازل ہوئی آپ اس کی تلاوت فرمانے لگے اور میں اسے آپ کے منہ مبارک سے توجہ کے ساتھ سننے لگا۔ آپ کا منہ ابھی اس سے تازہ تھا اچانک ایک سانپ آپ پر کود پڑا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس کو قتل کردو۔ ہم اس کی طرف دوڑے مگر وہ بھاگ گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس کو تمہارے شر سے بچالیا گیا جیسے تم کو اس کے شر سے بچا لیا گیا۔ 3۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سانپ کی رات نازل ہوئی صحابہ ؓ نے پوچھا سانپ کی رات کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ایک سانپ نکلا تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا اس کو قتل کردو تو وہ ایک سوراخ میں غائب ہوگیا۔ آپ نے فرمایا اس کو چھوڑدو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے شر سے بچالیا جیسے تم کو اس کے شر سے بچالیا گیا۔ 3۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سانپ کی رات نازل ہوئی صحابہ ؓ نے پوچھا سانپ کی رات کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا ایک سانپ نکلا تو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا اس کو قتل کردو تو وہ ایک سوراخ میں غائب ہوگیا۔ آپ نے فرمایا اس کو چھوڑدو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو تمہارے شر سے بچالیا جیسے تم کو اسکے شر سے بچالیا۔ 4۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے تو آپ پر آیت والمرسلت نازل ہوئی میں نے آپ دہن مبارک سے اسے حاصل کرلیا ابھی آپ کا منہ مبارک اس سے تازہ تھا اور میں نہیں جانتا تھا کہ کس آیت کے ساتھ یہ سورة ختم ہوئی آیت فبای حدیث بعدہ یومنون کے ساتھ پس اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے یا آیت واذا قیل لہم لا یرکعون کے ساتھ اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ رکوع کرو تو وہ رکوع نہ کرتے تھے۔ 5۔ ابن ابی شیبہ و بخاری ومسلم وابن ماجہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ام الفضل ؓ نے سنا آپ آیت والمرسلت عرفا۔ پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا اے میرے بیٹے تو نے مجھے اپنی قراءت کے ساتھ یہ سورت یا ددلا دی ہے۔ اور یہ وہ آخری سورت ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی۔ آپ ﷺ اس کو مغرب کی نماز میں پڑھ رہے تھے۔ 6۔ طبرانی نے الاوسط میں عبدالعزیز ابی مسکین (رح) سے روایت کیا کہ میں انس بن مالک ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے ہم کو ظہر کی نماز پڑھائی اور آہستہ قراءت کے ساتھ سورة مرسلات والنازعات اور عم یتسا ئلون اور ان جیسی سورتیں پڑھیں۔ 7۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے فرشتے مراد ہیں وہ فرشتے ہیں جو معروف یعنی نیک کام کے ساتھ بھیجے گئے۔ 8۔ ابن جریر نے مسروعق کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والمرسلت عرفا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو معروف یعنی نیک کام کے ساتھ بھیجے گئے۔